نرمل جنھیں نمز دائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک رہے لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا۔ 43 سالہ نرمل پرجا 2021 میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلکس دستاویزی فلم 14 Peaks: Nothing Is Impossible کے بعد دنیا بھر میں زیادہ معروف ہوئے۔ اس فلم میں ان کے کوہ پیمائی کے سفر کو دکھایا گیا تھا۔ نیپال میں واقع دنیا کے ساتویں بلند پہاڑ کے قریب ڈھولگیری میں جنم لینے والے نرمل نیپال میں ہی چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے اور 2003 میں 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تب ہوا جب وہ 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ تک پیدل گئے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق واپس آنے کے بجائے اُنھوں نے پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔ سنہ 2018 میں نرمل نے فوج کی نوکری چھوڑی اور اگلے ہی سال دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سب سے کم وقت میں سر کرنے سمیت کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔
ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ 14 چوٹیاں ایک ایسے ’ڈیتھ زون‘ (موت کے علاقے) کی نمائندگی کرتی تھیں جہاں انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں تھا۔ اس کارنامے کے بعد اپنے پیغام میں نرمل نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی اپنے خوابوں کو حاصل کر سکتا ہے اگر وہ اس پر توجہ دے۔ یہ پہاڑ پر چڑھنے کی بات نہیں اپنے اہداف حاصل کرنے کی بات ہے۔‘ دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں کو تیز ترین وقت میں سر کرنے پر ان کے نام چھ گنیز ورلڈ ریکارڈز بھی درج ہیں۔ انھوں نے 2003 میں برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2009 میں رائل نیوی کے خصوصی دستے سپیشل بوٹ سروس کا حصہ بنے تھے۔ اس مہم پر روانہ ہونے سے قبل کو ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں پرجا کا کہنا تھا کہ شروع میں ان کا براڈ پیک سر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پاکستان روانہ ہونے سے پہلے انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ وہاں قیام کے دوران اسے بھی سر کر لیتے ہیں تو ’آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو (بغیر آکسیجن کے) دو مرتبہ سر کرنے والے تاریخ کا پہلا فرد‘ بننے کے لیے صرف ایک اور پہاڑ سر کرنا باقی رہ جائے گا۔ ایکس پر پرجا نے لکھا تھا کہ ’اے براڈ پیک میں تجھ سے صرف اُوپر جانے اور بحفاظت واپس آنے کا طلبگار ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو معمولی یا یقینی نہیں سمجھتا۔‘
0 Comments