پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کا 12 ویں بلند ترین جبکہ قراقرم کے سلسلے کا تیسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8047 میٹر ہے اور اسے براڈ پیک یا چوڑی چوٹی کا نام اس کے غیرمعمولی طور پر چوڑے ’سمٹ رج‘ کی وجہ سے دیا گیا جو تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ براڈ پیک ان 14 ’ڈیتھ زون‘ (انتہائی خطرناک بلندی والی) چوٹیوں میں شامل ہے جنھیں نرمل پرجا نے 2019 میں چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کیا تھا۔ سنہ 2022 میں نیٹ فلکس کی ایک فلم اسی نام سے جاری کی گئی تھی جس میں اس پولش کوہ پیما کی کہانی بیان کی گئی تھی جس نے اس پہاڑ کی چوٹی کو موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی تھی۔ براڈ پیک کو پہلی بار 1957 میں سر کیا گیا تھا جب آسٹریا کی چار رکنی مہم چوٹی تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد سے، جہاں سینکڑوں لوگ اسے سر کر چکے ہیں وہیں درجنوں اس دوران اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو چکے ہیں۔ 2013 براڈ پیک پر مہمات کے لیے مہلک ترین سالوں میں سے ایک تھا جس میں کم از کم چھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ مارچ 2013 میں دو پولش کوہ پیماؤں کو جن کی عمریں 27 اور 58 سال تھیں، اس وقت مردہ قرار دیا گیا جب وہ چوٹی سے اترتے وقت لاپتہ ہوئے۔ چند ماہ بعد تین ایرانی کوہ پیماؤں کا بھی یہی انجام ہوا اور پھر ایک جرمن کوہ پیما پہاڑ سے پھسل کر ایک پہاڑی نالے میں گر کر ہلاک ہوئیں۔
0 Comments