Wednesday, April 26, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

مسلم معاشرہ اور لبرل ازم

مذہبی معاملات پر ردعمل کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، مگر ان
واقعات میں توہین غیر مسلموں کی جانب سے ہوتی تھی۔ اب کچھ عرصے سے پاکستان میں اس قسم کے واقعات میں جن افراد پر توہین کا الزام لگا ہے وہ خود مسلم ہیں یا وہ اپنے آپ کو ایک اچھا اور درست مسلمان قرار دیتے ہیں۔ ایسا عموماً لبرل نظریات رکھنے والوں کی جانب سے تاثر آرہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ لبرل نظریات اور خاص کر اظہار رائے کی آزادی کا وہ نعرہ ہے جو مغرب سے آیا ہے اور جس کے تحت کسی بھی شخصیت کے خلاف کچھ بھی کہہ دینا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ مذہب خاص کر دین اسلام میں ایسی کسی آزادی کا کوئی تصور نہیں ہے، نہ ہی کوئی گنجائش ہے، بلکہ حضور ﷺ کے بارے میں گستاخی پر علما کی جانب سے سخت فتویٰ موجود ہیں اور اس میں کوئی مسلکی اختلاف بھی نہیں ہے۔ مثلاً سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی نے بھی فتویٰ دیا تھا، غازی علم الدین شہید کو علامہ اقبال نے بھی شہید قرار دیا تھا۔

یوں دیکھا جائے تو مذہبی شعائرکی توہین کی اسلامی نظریات اور معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے، لہٰذا جو لوگ مسلمان نہیں ہیں یا جو لبرل نظریات رکھتے ہیں، اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں، انھیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اس موضوع پر کسی بھی مسلم نظریات رکھنے والے فرد یا گروہ سے گفتگو یا بحث کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی مسلم نظریات رکھنے والے کسی فرد یا گروہ کو ایسی بحث میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ ایسی صورت میں کوئی بھی جملہ یا بات دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دل آزاری کا باعث بن سکتی ہے اور اس کے بعد حالات کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں یا کوئی بھی شرپسند اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی دل آزاری سے متعلق کئی ایک واقعات ایسے ہو چکے ہیں ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ اس کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔ راقم کے نزدیک ایک اہم وجہ آزادی کے مفہوم اور لبرل ازم کے ساتھ ساتھ ایک مسلم معاشرے کو نہ سمجھنا بھی ہے۔ آج کل خصوصاً سوشل میڈیا تک عام آدمی کی رسائی کے بعد سے ہر کوئی اپنے دانشورانہ خیالات کا اظہارکرنا اپنا حق اور ضروری امر سمجھتا ہے، خواہ کوئی بھی موضوع ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس حساس موضوع کو بھی ہر دوسرا شخص تختہ مشق بناتا نظر آتا ہے۔ حالانکہ یہ وہ موضوع ہے جس پر ذرا سی بے احتیاطی بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے اور نادانستہ طور پر بھی انجانے میں کوئی بات توہین کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ 

سرسید احمد خان نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھ کر انگریزوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمان انگریزوں کے دشمن نہیں ہیں اور انگریزوں کے درمیان فاصلے کی ایک بڑی وجہ غلط فہمیاں ہیں اور یہ غلط فہمیاں اس سبب ہیں کہ انگریز یہاں کے طور طریقوں اور نظریات سے واقف نہیں ہیں، وہ انجانے میں وہ اقدامات کر رہے ہیں جو مسلمانوں کے کلچر اور نظریات کے برخلاف ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ اگر آپ کسی کے کلچر اور نظریات سے پوری طرح واقف نہ ہوں تو تضادات کی کیفیت بڑھ سکتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اب پاکستان میں توہین رسالت کے مسئلے پر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان میں رہنے والوں کی بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے اور بلاتفریق تمام ہی مسالک کا توہین رسالت پر موقف بھی ایک ہی ہے، یعنی کوئی بھی مسلمان حضورﷺ کی شان میں گستاخی قبول کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ کوئی بھی فرد آزادی اظہار رائے کے نام پر توہین آمیز الفاظ ادا کرے۔

دوسری طرف ایک طبقہ لبرل ہے جو مغرب کا آزادی والا تصور رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اظہار رائے کی جو آزادی مغرب میں لوگوں کو حاصل ہے وہی آزادی یہاں بھی ہو۔ چنانچہ بعض اوقات اس لبرل طبقہ کی جانب سے دانستہ یا نادانستہ طور پر آزادی اظہار رائے کے نام پر حضور ﷺ کی ذات مبارک کے بارے میں بھی ایسا اظہار خیال کیا جانے لگا ہے کہ جو مسلمانوں کے لیے قطعی قابل قبول نہیں۔ یوں حضورﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں بلاوجہ اظہار خیال سے غلط فہمی کے دروازے بھی کھلنے لگے۔ ایسے واقعات رونما ہونے لگے کہ جن میں دعویٰ کیا جانے لگا کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ ایسا ہی واقعہ صوبہ خیبرپختونخوا کی ایک یونیورسٹی میں بھی ہوا، جس میں ایک طالب علم کی جان چلی گئی۔ اس طالب علم نے واقعی گستاخی کی تھی یا نہیں؟ بات یہ ہے کہ اگر ہم نظریاتی بحث و مباحثے میں ایسے حساس موضوع کو شامل نہ کریں تو نہ غلط فہمی پیدا ہو، نہ ہی کسی کی دل آزاری ہو اور نہ ہی کوئی اس قسم کا حادثہ ہو۔

یہاں ایک اور بات سمجھنے کی ہے کہ روشن خیالی، اقوام متحدہ کا پیش کردہ انسانی حقوق کا منشور، لبرل ازم اور آزادی اظہار رائے کا موجودہ مغربی تصور اسلامی نظریات سے قطعی مختلف ہے۔ ان تمام تصورات کی اسلامی نظریات اور معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے، مثلاً روشن خیالی کا تصور دینے والا فلسفی کانٹ اپنے مضمون  What  is  enlightenment  میں کہتا ہے کہ جو شخص وحی الٰہی اور عالم دین کا انکار کرتا ہے اور ان سے ہدایت نہیں لیتا، وہی روشن خیال ہے۔ گویا مذہبی نظریات رکھنے والا کبھی بھی روشن خیال نہیں ہو سکتا، روشن خیال بننے کے لیے پہلے مذہب کو خیر باد کہنا ہو گا۔

اقوام متحدہ تمام قوموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے منشور کو تسلیم کریں اور اپنے ملک میں نافذ کریں، کیونکہ اس کی اقدار اور اصول آفاقی ہیں اور تمام مذاہب عالم پر بالاتر ہیں، گویا اس انسانی حقوق کے منشور کو نافذ کرنے کے لیے کسی مذہب کی بات بھی تسلیم نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح مغرب کے تصور آزادی کے مطابق آئزہ برلن کہتا ہے کہ ہر فرد کو حق خود ارادیت حاصل ہے کہ وہ خیر اور شر کا جو چاہے تصور قائم کرے۔ چنانچہ اس آزادی کے تصور کے تحت ہر فرد خود خدا کے درجے پر آ گیا کہ اسے مذہب بھی یہ ہدایت نہیں دے سکتا کہ کیا گناہ یا شر ہے اور کیا ثواب یا نیکی ہے۔

یوں مذہبی شخصیات کی توہین کرنے کا بھی حق حاصل ہو گیا اور پھر یہ انسان کے بنیادی حقوق کا حصہ بھی بن گیا۔ اسی لیے مغرب میں حضور ﷺ ہی نہیں، عیسائیوں کی مذہبی شخصیات کی توہین کرنا بھی جرم نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے کا ایک حصہ ہے، جو ہر فرد کو حاصل ہے۔ مغربی فلاسفر جان رالز اور ڈربن لبرل ازم کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر ایک کو آزادی ہے، مگر وہ آزادی جو لبرل ازم کے بنیادی ایمان سے ہم آہنگ ہو۔ مخالفین کے لیے ان کا کہنا ہے کہ جو اس لبرل ازم کو نہ مانے، ایسے مخالفین کو سختی سے کچل دیں اور ان کو قائل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

گویا مذکورہ بالا تمام نظریات مذہب مخالف ہیں اور جو لوگ ان نظریات پر یقین رکھتے ہیں ان کی نظر میں کسی بھی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنانہ اور اس کے لیے برے الفاظ استعمال کرنا کوئی جرم نہیں۔ مغربی معاشرہ چونکہ یہ تمام نظریات اچھی طرح اپنا چکا ہے اس لیے وہاں کسی کی توہین کوئی جرم بھی نہیں سمجھا جاتا، نہ ہی کوئی ردعمل عوام کی جانب سے سامنے آتا ہے، لیکن پاکستانی معاشرہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اس قسم کے لبرل نظریات نہیں رکھتے ہیں، جو بے شک نماز نہ پڑھتے ہوں مگر وہ اس دین اسلام پر ایمان رکھتے ہیں کہ جس میں حضورﷺ کی شان میں گستاخی سخت رد عمل کا سبب بن سکتا ہے۔
بات سمجھنے کی صرف اتنی سی ہے کہ پاکستان میں ابھی لبرل ازم کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی یہاں کی بھاری اکثریت نے جان لاک، آئزہ برلن، جان رالز اور ڈربن جیسے مفکرین کے لبرل نظریات کو قبول کیا ہے۔ لہٰذا ابھی اس معاشرے میں مذہبی شخصیات کے معاملے پر آزادی اظہار رائے کا مغربی اصول نہیں چلے گا اور اگر اس کی کو شش کی جائے گی توغلط فہمیوں کے امکانات اپنی جگہ موجود ہوں گے، جس سے قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات میں اضافہ تو ہوسکتا ہے کمی نہیں۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں مذہب کو موضوع بحث نہ بنایا جائے۔

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کیا افغان فوج طالبان کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

ایک مال بردار جہاز کا کھلا دروازہ اور اس سے باہر کا معائنہ کرتے ہوئے امریکی
وزیر دفاع جیمز میٹس۔ یہ تصویر یقیناً گلیمرس تھی مگر یہ جس دن لی گئی وہ دن کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ تصویر سوموار کو لی گئی اور اس جہاز کی منزل کابل تھی۔ اُس دن صبح ملک کے وزیر دفاع عبداللہ حبیبی اور فوج کے سربراہ قدم شاہ شاہیم نے مزار شریف سے ملحق فوجی چھاؤنی پر طالبان کے حملے کے تناظر میں اپنے استعفے جمع کروائے۔ یہ افغانستان میں جاری لڑائی کی سولہ سال کی تاریخ میں کسی بھی فوجی تنصیب پر مہلک ترین حملہ تھا۔

طالبان کے جنگجو ٹرکوں میں آئے جن پر ہو بہو افغان فوج کے ٹرکوں کی طرح پینٹ کیا گیا تھا۔ حملہ آور مکمل یونیفارم میں تھے اور ان کے پاس کاغذات بھی تھے جو بالکل مستند لگ رہے تھے۔ آنے والی ٹیم میں سے ایک کا حلیہ ایسا تھا جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ زخمی ہے اس شخص کے سر پر پٹی بھی لگی تھی جس پر خون کے نشان تھے اور بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ مگر اس بھرپور ڈھونگ کے باوجود اتنی سخت قتل و غارت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ طالبان کے 10 حملہ آوروں نے 170 افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ جہاں اس حملے سے فوج کے حوصلے پست ہوئے وہیں پورے ملک کو شدید دھچکہ لگا۔
افغانستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اس حملے کے نتیجے میں دو اعلیٰ اہلکار مستعفی ہوئے اور فوج کے اعلی حلقوں میں تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ چار کور کمانڈرز معطل کیے گئے جن میں میجر کٹاوزائی شامل ہیں جو چھاؤنی کے انچارج تھے۔ اس کے علاوہ آٹھ فوجی اہلکار زیرتفتیش ہیں۔ شک کیا جا رہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کو فوجی چھاؤنی کے اندر سے مدد حاصل تھی۔ اس واقعہ نے افغان فوج کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ طالبان کا ملک کے ایک تہائی حصے پر کنٹرول ہے اور عموماً ماہ سرما کے اختتام پر تشدد میں شدت آ جاتی ہے۔

گو کہ باقاعدہ طور پر بہار کے موسم میں حملوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوا مگر پچھلے ماہ طالبان نے ہلمند صوبے کے ایک اہم مقام سنگن ضلع پر ایک بار پھر قبضہ کر لیا تھا۔ منظر عام پر افغانستان میں امریکی مشن کا ذکر نام نہاد دولت اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ امریکہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ افغان حکومت کو اصل خطرہ طالبان سے ہے اور اسی لیے ملک میں امریکی مشن کا ایک اہم مقصد طالبان کا مقابلہ کرنا ہے۔

طالبان کو پچھلے ڈھائی سال میں نیٹو کے مشن کے خاتمے کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں کے تناظر میں افغان اور امریکی اعلیٰ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو تربیت اور امدادی مشن کو بڑھانا ہو گا۔ تجاویز دی جا رہی ہیں کہ مزید چند ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ سوال یقیناً وزیر دفاع میٹس کے ایجنڈے پر ہو گا جب وہ افغان صدر اور دیگر اعلی اہلکاروں سے ٹرمپ انتظامیہ کے افغانستان سے متعلق بدلتے لائحہ عمل پر بات چیت کرنے آئے۔ مگر دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بدتر ہوتے حالات میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں۔ صرف پچھلے سال 6800 افغان فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد پچھلے 16 سال سے جاری لڑائی میں امریکی فوج کو ہونے والے جانی نقصان سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ کئی ہزار افغان فوجی یا تو اس قابل ہی نہیں رہے کے کام جاری رکھ سکیں یا پھر فوج چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

اور ایک بار پھر افغان فوج کو جن مشکلات کا سامنا ہے اُن کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ایک طرف تربیت کی کمی ہے تو دوسری جانب نئے بھرتی ہونے والوں میں جذبے کی کمی۔ پھر انتہائی خراب حالات میں کام کرنے کے علاوہ مناسب فضائی مدد نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے۔ افسران میں کرپشن مسائل کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔
آج افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کے دفتر سے نئے وزیر دفاع طارق شاہ بحرانی کی تقرری کا اعلان کیا گیا۔ اب ان کی تقرری کو پارلیمان کی منظوری حاصل ہو گی یا نہیں یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ قومی مفاہمت کے لیے قائم کی جانے والی حکومت بالک غیرموثر ثابت ہوئی ہے۔ قیام کے تقریباً تین سالوں میں یہ حکومت منقسم رہی ہے اور آپس میں کھلے عام اختلافات کا شکار رہی ہے۔
فوج افراتفری کا شکار ہے اور ایسے حالات میں طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر مفاہمت کی ضرورت ہو گی۔ موجودہ حکومت یہ حاصل کر سکے گی یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو 

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

سندر پچائی : 302 کروڑ سالانہ کمانے والے ملازم کی کامیابی کے راز

بھارت کے صوبہ تامل ناڈو کو اس کے محنتی باشندوں اور فنکارانہ صلاحیتوں کے
حامل افراد کی اکثریت کے باعث نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس صوبہ سے تعلق رکھنے والے ایک فرد سندر پچائی، جنہیں 2014ء سے قبل شائد بہت کم لوگ جانتے تھے، آج دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی گوگل کے سربراہ کی حیثیت سے امور انجام دے رہے ہیں۔

سندرپچائی کا اس عہدے تک پہنچنا کوئی بڑی بات نہ ہوتا، اگر ان کا تعلق دنیا کے کسی بڑے مالیاتی گھرانے یا کاروباری تاریخ کے حامل خاندان سے ہوتا۔ لیکن یہ بات اس وقت بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ جب ہمیں یہ پتا چلے کہ دنیا کی اتنی بڑی آئی ٹی کمپنی کے سربراہ جو کہ اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں ،انہوں نے اپنا بچپن غربت میں گزارا۔ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونا اور پھر اسی رتبہ کی بنیاد پردولت کے پیراشوٹ کے ذریعے شہرت کی بلندیاں چھونا ایک عام سی بات ہے، لیکن ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے اپنی محنت کی بناء پر نہ صرف ایک اعلی مقام حاصل کرنے اور شہرت کی بلندی تک پہنچنے کہ پیچھے ضرورمحنت اور لگن کی ایک لمبی داستاں پنہاں ہوتی ہے۔
سندر پچائی نے اپنا بچپن چنائی کے علاقے آشوک نگر کے دو کمروں کے ٹوٹے پھوٹے مکان میں گزارااور ان کے الیکڑک انجینئر باپ اور اسٹینو گرافر والدہ نے دن رات محنت کر کے پچائی کو آئی ٹی کی تعلیم دلوائی۔ سندر اس وقت 302 کروڑ روپے سالانہ تنخواہ کے ساتھ دنیا کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والی گروپ ایگزیکٹو ہیں۔ غربت سے امیری تک کے اس سفر کے دوران انہوں نے بہت سے سبق حاصل کیے، جن کا تذکرہ وہ بہت سے عالمی فورمز پر اپنی تقاریر کے دوران حاضرین کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی واجبی سی شکل وصورت کے باعث زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے بھی ایک ٹی وی شو میں تذکرہ کیا اور ان کے انٹرویوز کی بہت سی ویڈیوز ان دنوں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔

سندر پچائی کی جانب سے زندگی میں کامیابی کے حصول بارے کہے گئے چند تاریخی اور تدریسی جملے قارئین کے لیے پیش ہیں۔ 

ناکامی ایک تمغہ 
اپنی ناکامی کو اپنا تمغہ سمجھو"، یعنی کہ اپنی ناکامی سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے اس کو اپنے جنون کی شکل دے دو، تا کہ تم بار بار کوششوں کے بعد آخرکار ایک دن اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو جائو۔ 

مثبت رویہ 
اگر کوئی شخص زندگی میں خوش ہے تواس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کے سب معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ سب معاملات کے حوالے سے اس شخص کا رویہ ہمیشہ مثبت رہتا ہے "یعنی کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں خوش رہنے کی وجہ اس کا مثبت رویہ ہوتا ہے، جس کے باعث وہ تمام معاملات کو احسن طریقہ سے قابو کر لیتا ہے، چاہے وہ اس کے حق میں نہ بھی ہوں۔ 

ڈر ایک طاقت 
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا مستقبل غیر محفوظ ہے تو یہ بہت بہتر ہے، کیونکہ اس ڈر کے باعث آپ ہمیشہ کوشش میں رہتے ہیں کہ آپ ان لوگوں سے زیادہ بہتر بن سکیں، جو کہ آپ کی نظر میں اچھی زندگی گزار رہے ہیں"، یعنی کہ انسان کی غیر محفوظ زندگی اور مستقبل کا ڈر اسے ہمیشہ محنت کرنے کے لیے ورغلاتا رہتا ہے تا کہ وہ پرسکون اور آسائشوں سے بھری زندگی گزارنے والے لوگوں میں شامل ہوسکے۔ 

خوابوں کی پیروی چھوڑ کردل کی سنو 
اپنے خوابوں کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے دل کی بات پر غور کریں، اور جو دل چاہتا ہے اس پر عمل درآمد کریں،اس طرح کرنے سے آپ اپنے خوابوں کے مقابلے میں زیادہ اچھا مقام حاصل کر سکیں گے، چاہے آپ کی تعلیم کچھ بھی ہو"یعنی کہ آپ اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑنے کی بجائے وہ کام کریں کہ جو آپ کا دل چاہتا ہے، اس طرح آپ اپنے خوابوں اور سوچ سے زیادہ بڑا مقام حاصل کرلیں گے۔

عمیر لطیف

Read More

Tuesday, April 25, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

دنیا میں ملازمین کی سب سے زیادہ تنخواہیں دینے والی کمپنیاں

زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ملازمین کی سب
سے زیادہ تنخواہیں دینے والی کمپنیاں گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر ہی ہوں گی، مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ امریکی ادارہ گلاس ڈور ہر سال ایسے اداروں کی فہرست جاری کرتا ہے، جو اپنے ملازمین کوسب سے زیادہ تنخواہیں دیتے ہیں ، یہ ادارہ ہر سال مختلف اداروں کے ملازمین سے ان کی تنخواہوں سمیت دیگر مراعات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد فہرست جاری کرتا ہے۔ گلاس ڈور نے سال 2017 میں سب سے زیادہ تنخواہیں دینے والی 25 مختلف کمپنیز کی فہرست جاری کی ہے، جو اپنے ملازمین کو دیگر اداروں کے مقابلے زیادہ تنخواہیں دیتی ہیں۔
اس فہرست میں زیادہ تنخواہیں دینے والے اداروں میں 20 کمپنیاں ٹیکنالوجی سے منسلک ہیں۔

اس 25 اداروں کی فہرست میں فیس بک، گوگل، ٹوئٹر اور لنکڈن جیسے ادارے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے حوالے سے پہلے 5 بڑے اداروں میں شامل نہیں ہوتے، تاہم یہ فیس بک اور گوگل ٹیکنالوجی کے شعبے میں زیادہ تنخواہیں دینے والے پہلے 6 اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ملازمین کو سب سے زیادہ تنخواہیں دینے والے پہلے 2 اداروں کا تعلق ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ کونسلنگ سے ہے۔

1۔ ویم ایم ویئر
ٹیکنالوجی کے شعبے میں سب سے زیادہ تنخواہیں دینے والے اداروں میں پہلے نمبر پر سافٹ ویئر کمپنی وی ایم ویئر ہے، جو اپنے ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 67 ہزار 50 ڈالر (پاکستانی ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتی ہے۔

2۔ اسپولنک
ویسے تنخواہیں دینے کے حوالے سے اسپولنک کا نمبر چوتھا ہے، مگر ٹیکنالوجی کمپنیز میں یہ دوسرے نمبر پر آتی ہے، یہ کمپنی اپنے ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 61 ہزار 10 ڈالر (ایک کروڑ68 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتی ہے۔

3۔ کیڈنس ڈزائن سسٹم
ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیسرے نمبر پر ملازمین کو تنخواہیں فراہم کرنے والی کمپنی کیڈنس ہے، جو ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 56 ہزار702 ڈالر(ایک کروڑ64 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتی ہے۔

4۔ گوگل
گوگل اپنے ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 55 ہزار 250 ڈالر (ایک کروڑ 62 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتا ہے۔

5. فیس بک
سوشل ویب سائیٹس کی دنیا کا بادشاہ ادارہ فیس بک اپنے ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 55 ہزار ڈالر (ایک کروڑ 62 لاکھ سے زائد ) تنخواہ دیتا ہے۔

10. لنکڈن
اس فہرست میں پروفیشنل سوشل ویب سائیٹ لنکڈن کا ٹیکنالوجی کمپنیز میں 10 واں نمبر ہے، وہ اپنے ملازمین کو سالانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر (ایک کروڑ 57 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتی ہے۔

17. مائیکرو سافٹ
مائکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس ویسے تو دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، مگر وہ اپنے ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 44 ہزار ڈالر (ایک کروڑ50 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتے ہیں۔

20. ٹوئیٹر
ٹیکنالوجی اداروں میں ٹوئیٹر کا نمبر 20 واں ہے، وہ اپنے ملازمین کو سالانہ ایک لاکھ 42 ہزار ڈالر(ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد) تنخواہ دیتا ہے۔

اس فہرست میں ایمازون لیب کا 8 واں،وال مارٹ کا 18 واں، ویزا کا 19 واں جب کہ ایف فائیو نیٹ ورک کا 21 واں نمبر ہے۔ ملازمین کی ان سالانہ تنخواہوں میں وہ مراعات بھی شامل ہیں، جو انہیں دوران ملازمت ملتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ تنخواہیں عام ملازمین کی ہیں، ان میں وہ ملازمین شامل نہیں ہیں، جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔

Read More