Monday, April 24, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

شمالی کوریا امریکی بحری جہاز ’ڈبونے کے لیے تیار ہے

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک امریکی طیارہ بردار
بحری جہاز کو 'ڈبونے کے لیے تیار ہے۔' رودونگ سنمن اخبار نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز کارل ونسن 'ایک ہی وار' میں ڈبویا جا سکتا ہے۔ اس بحری جہاز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تنبیہ کے ساتھ جزیرہ نما کوریا کی طرف بھیجا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے معاملے پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب شمالی کوریا نے حال میں ایک میزائل کا تجربہ کرنے کی کوشش کی اور ایک فوجی پیریڈ کے دوران اپنے جدید ترین اسلحے کا مظاہرہ کیا۔

روندونگ سنمن حکومتی جماعت ورکرز پارٹی کا ترجمان اخبار ہے۔ اس میں اتوار کو شائع ہونے والے تبصرے کے بعد ایک اور خبر میں ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو سؤروں کے ایک فارم کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے: 'ہماری انقلابی افواج ایٹمی طاقت سے چلنے والے امریکی طیارہ بردار جہاز کو ایک ہی وار میں ڈبونے کے لیے تیار ہیں۔‘ تبصرے میں مزید لکھا ہے کہ ایک 'ناگوار جانور' پر حملہ 'ہماری فوج کی طاقت کے مظاہرے کی اصل مثال ہو گا۔'
سرکاری اخبار منجو جوسون نے بھی کچھ ایسی ہی بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فوج 'دشمن کے خلاف ایسے بےرحمانہ وار کرے گی کہ وہ دوبارہ زندہ نہ ہو سکے۔'

گذشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کے ایشیائی ملکوں کے دورے کے دوران شمالی کوریا کے بارے میں خاصا سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ 'شمالی کوریا کی بطور دہشت گردی کے سرکاری سرپرست حیثیت کا جائزہ لے رہا ہے اور دوسرے طریقوں پر بھی غور کر رہا ہے جن کے تحت پیونگ یانگ کی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔' اس کا جواب دیتے ہوئے روندونگ سنمن نے لکھا: 'ہمارا زبردست طاقتور پیش بندانہ وار نہ صرف امریکی فوج کو جنوبی کوریا سے مکمل طور پر ختم کر دے گا بلکہ وہ خود امریکی سرزمین کو بھی راکھ میں تبدیل کر دے گا۔' شمالی کوریا نے آسٹریلیا کو بھی دھمکی دی تھی کہ اگر وہ امریکی کا اتحادی بنا رہا تو اسے ایٹمی اسلحے کا نشانہ بنایا جائے گا۔ شمالی کوریا جوہری صلاحیت کے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسے شواہد نہیں مل سکے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ امریکی جنگی جہاز ونسن بحیرۂ فلپائن میں جاپانی بحریہ کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے۔

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

پاکستان ایک دوراہے پر

پاکستان ایک اہم تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ کچھ معاملات میں اگر پاکستان
پیشرفت کر رہا ہے تو دوسری طرف بہت سے معاملات میں تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہے اور بیرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2001ء میں جب میں سائنس اورٹیکنالوجی کا وفاقی وزیر تھا اس وقت پاکستان نے آئی ٹی اور موبائل ٹیلی کام سیکٹرمیں شاندارپیشرفت ہوئی جس کہ وجہ وہ اقدامات تھے جو متعارف کرائے گئےتھے۔ آج ہماری آئی ٹی کی صنعت میں2001ء کے مقابلے میں سو گنا یعنی 30 لاکھ ڈالر سالانہ سے 3 ارب ڈالر سالانہ تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی وجہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ہماری طرف سے IT کی صنعت کو 15 سال کے لئے دی گئی ٹیکس کی چھوٹ تھی۔

اسی طرح موبائل ٹیلیفون کے شعبے میں بھی کافی ترقی ہوئی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ 2001 ء میں ملک بھر میں موبائل فون کی کل تعداد صرف تین لاکھ تھی جو آج بڑھ کرتقریبا 15 کروڑ (450 گنا ) ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ بھی 2001ء میں ہماری جانب سے کیا گیا ایک سمجھدار فیصلہ تھا کہ کالز وصول کرنے والے افراد سے معاوضہ نہ لیا جائے اور کالنگ پارٹی ادائیگی کاآغاز کیا۔ اس کے ساتھ ایک نئی موبائل کمپنی کو کم نرخوں پر مارکیٹ میں مقابلے کی فضاء قائم کرنے کیلئے متعارف کرایا گیا۔ ان اقدامات سے موبائل فون میں اتنی تیزی سے ترقی ہوئی کہ اسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ سب سے اہم تبدیلی ہم نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ذریعے جامعات میں تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کرنے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میں 2008 تک ہماری کئی جامعات کا شمار دنیا کی چوٹی کی 250، 300، 400 اور 500 جامعات میں ہو گیا تھا۔
خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کی طرف سے ایک اہم قدم آسٹریا اور اٹلی کے تعاون سے بالترتیب ہری پور اور لاہور میں غیر ملکی انجینئرنگ جامعات قائم کرنا ہے۔ ان دونوں انجینئر نگ جامعات کے لئے معروف آسٹریا اور اٹلی کی جامعات کےکنسورشیم قائم کئے گئے ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے پہلے اور انوکھے " کئی جامعاتی ڈگری" فراہم کرنے والے ادارے ہونگے جس میں کئی غیر ملکی جامعات کی طرف سے ڈگریاں دی جائیں گی۔ یہ اس طرح ممکن ہو گا کہ ہر شعبے کی نگرانی ایک مختلف غیر ملکی جامعہ کرے گی اور اس شعبے کے طالب علموں کو اسی غیر ملکی جا معہ سے ڈگری جاری کی جائیگی۔ اس قسم کی جامعات کے قیام، کا انوکھا خیال 2004 ءمیں میرے ذہن میں آیا تھا جس پر 2006/2007 ء ح کے دوران عمل پیرا ہونے کی مکمل کوشش ہوئی تھی لیکن سابقہ حکومت نےجامعات کے عین افتتاح کےوقت اس پروگرام کو روک دیا تھا جس کی وجہ سے ہمیں غیر ملکی شراکت دار ممالک سے شدید ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب ہری پور اور لاہور میں قائم کی جانے والی یہ دونوں جامعات انشاءاللہ اگلے سال سے کام شروع کر دیں گی اور پاکستان میں اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہماری برآمدات میں گزشتہ 2 سالوں میں تقریبا 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن پہلو قرضوں کابڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں نے گزشتہ آٹھ سال میں بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیوں سے بڑے پیمانے پر قرضے لئے ہیں لیکن ان فنڈز کی سرمایہ کاری زیادہ تر ایسےمنصوبوں میں کی گئی ہے جس سے ہم قرض ادا نہیں کر سکتے۔ قومی قرضوں کا بوجھ گزشتہ 8 سالوں میں تقریباً دگنا ہو گیا ہے۔ بشمول بیرونی قرضے اور واجبات میں تقریبا 33 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا ہے، اور رواں سال کے 4 ارب ڈالر ملا کر کل 81 ارب ڈالر قرضوں کے بوجھ تلے ہم دبے ہونگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا تو ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لئے بھی رقم نہیں ہو گی اور مجبور ہو کر ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے۔

ہماری معیشت کا اہم ترین شعبہ زراعت ہے۔ لیکن گزشتہ 3 سالوں کے دوران زرعی پیداوار میں صرف تقریبا ً 1.6 فیصد کی اوسط سےاضافہ ہوا ہے جو کہ ہماری بڑھتی ہو ئی آبادی کے لئے ناکافی ہے۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کو ہزاروں چھوٹے بند تعمیر کر کے پورا کیا جا سکتا تھا تا کہ آب پاشی کے لئے استعمال کیا جا سکے لیکن اس اہم میدان میں بھی افسوس ہم سو رہے ہیں۔ یہاں ہم بھارت سے سیکھ سکتے ہیں۔ بھارت بھر میں چھوٹے بڑے سینکڑوں ہزاروں بندوں کی تعمیر مسلسل بھارتی حکومتوں کی طویل مدتی نقطہ نظر اور دور اندیشی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان بندوں کی تعمیر کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافےکے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک فراہم کرنا ہے۔ کرہ ارض میں بڑھتی ہوئی گرمی اور بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کی وجہ سے ہماری بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کو آئین کی اٹھارویں ترمیم کی دفعات منسوخ کرنے پر غور کرنا چاہئے جس کے تحت کافی اضافی فنڈز صوبوں کو منتقل ہو گئے تھے، ان فنڈز کا استعمال کر کے ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے ہزاروں بند تعمیر کئے جانے چاہئیں تا کہ ہم مؤثر طریقے سے غربت اور بھوک سے نمٹ سکیں۔ آج پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ پانی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

اس منظر نامے میں ایک امید کی کرن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے بشرطیکہ ہم مؤثر طریقے سے ان منصوبوں پر عمل کریں۔ ضروری ہے کہ پیشہ ور ماہرین کی ٹیمیں بنائی جائیں. جو کہ CPEC پروگرام کے مختلف پہلوؤں پرسمجھداری کے ساتھ عمل درآمد کر سکیں۔ اس کے لئے ہمیں کئی ہزار ہونہار نوجوانوں کو چینی حکومت کی مشاورت سے چینی اداروں اور جامعات میں منتخب شعبوں میں 6 ماہ کی تربیت کے لئے بھیجنےکی فوری ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ CPEC کو محض چین سے سامان لانے یا لے جانے کے لئے ایک سڑک کےطور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اعلیٰ ٹیکنالوجی سامان کی تیاری کے لئے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کرنا چاہئے۔ جیسے کہ انجینئرنگ مصنوعات، دواسازی، بایو ٹیکنالوجی مصنوعات  برقیات، زراعت، گاڑیوں کی صنعت وغیرہ۔ چینی اور دیگر نجی صنعت کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے 15 سال کے ٹیکس کی چھوٹ دی جانی چاہئے۔

ہر ایک صنعتی حلقے میں(1) ایک مخصوص میدان میں اعلی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی برآمد اور پیداوار کے لئے اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتیں ہونی چاہئیں (2) ہر مخصوص صنعتی حلقےمیں اعلی تعلیم یافتہ تکنیکی ماہرین کی تکنیکی تربیتی مراکز کا قیام (3) ہر ایک صنعتی حلقے کی ترقی اور اسی شعبے سے متعلق جامعاتی تحقیقی مراکز قائم کئے جائیں (4) نئی کمپنیوں کی حاصلہ افزائی کیلئے ٹیکنالوجی پارکس قائم کئے جائیں جہاں نئی مصنوعات اور انکے نئے نمونے تیار کئے جائیں۔ 1970ء میں کوریا کی حکومت کی جانب سے جہازوں کی صنعتوں کے قیام، صنعتی مشینری، انجینئرنگ مصنوعات، برقیات، لوہے کے علاوہ دھاتیں، پیٹرو کیمیکلز اور کیمیکلز کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے قیام پر بھرپور توجہ دی گئی، آج جنوبی کوریا کی ترقی سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انتہائی ہنر مند تکنیکی افرادی قوت فراہم کرنے کیلئے، کورین سائنس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی، کورین ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ برائےسائنس اور ٹیکنالوجی، اور سیول نیشنل جامعہ قائم کی گئی۔

بارہ خصوصی تحقیقی ادارے بھی قائم کئے گئے تھے جو کہ نجی کمپنیوں کی شراکت سے صنعتی ٹیکنالوجی تیار کر سکیں۔ کوریا میں نئے اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے نئی ٹیکنالوجی پر مبنی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے قیام میں مدد کرنے کیلئے 1997 میں ایک خاص قانون منظور کیا گیا تھا۔ اس طرح کوریا جدت اورترقی کی جانب رواں دواں ہو گیا۔ اس اعلیٰ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور قیمتی برآمدات کی ترقی پر خصوصی توجہ کے ساتھ وسیع تر معاشی، تجارتی اور صنعتی پالیسی اصلاحات نے 25 سال کے مختصر عرصے میں کوریا کو صنعتی دیو بنا دیا.

یہ ایک فوجی جنرل ( جنرل پارک) کی بصیرت انگیز قیادت کی بدولت ہوا۔ سنگاپور کی بھی اسی طرح کی ترقی کی کہانی ہے جیسے ملائیشیا اور چین کرتے ہیں۔ 2016 کے دوران چین نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے چھ لاکھ طلبا کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا اور اسی سال تقریبا پانچ لاکھ طلبا غیر ملکی تربیت مکمل کرنے کے بعد چین واپس لوٹے۔ ہمارے رہنماؤں کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کاحقیقی سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہے۔ تعلیم کے میدان میں ہماری سرمایہ کاری ہماری جی ڈی پی کا مایوس کن 2 فیصد حصہ ہے جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کا صرف 0.3 فیصد حصہ ہے. جب تک ہم اعلیٰ معیار کی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو اپنے قومی ترقیاتی منصوبوں میں سب سے زیادہ ترجیح نہیں دیں گے تب تک ملک ترقی نہیں کرے گا۔ اس کیلئے ایک صاحب بصیرت حکومت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن


Read More

Sunday, April 23, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : 'میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔' پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر 'احتجاجی خون' بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے
جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج 'مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔' تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔' سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے
اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں
کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو
کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی
اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔
سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔
جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے 'اخلاقی دباؤ' کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو 'لیرو لیر' کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف 'جھوٹے مقدمات' کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔ 

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔
ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا 'سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔' انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا
جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

Read More