Thursday, August 25, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

کراچی اور حیدر آباد میں الطاف حسین کی تصاویر ہٹادی گئیں

قائد ایم کیوایم الطاف حسین  کی پاکستان مخالف تقریر  کے  بعد شہر قائد سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کے دفاتر سیل کئے جانے کے بعد اب  متحدہ کے قائد کی تصاویر بھی نہ صرف نائن زیرو بلکہ شہر سمیت حیدرآباد سے بھی ہٹادی گئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق  ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے پاکستان سے متعلق نفرت انگیز تقریر اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر پر حملوں کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری علاقوں میں جماعت کے دفاتر سیل کردیئے گئے تھے تاہم اب کراچی سمیت حیدرآباد میں  ایم کیو ایم کے قائد کی تصاویر بھی ہٹادی گئی ہیں۔


 کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور مکا چورنگی کے اطراف کے علاقوں عائشہ منزل، حسین آباد، لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا  سے بانی قائد کی تصاویر ہٹادی گئی ہیں اور جو تصاویر چسپاں تھیں انہیں پھاڑ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کراچی کے علاوہ حیدر آباد کےعلاقے لطیف آباد سے بھی ایم کیو ایم کے قائد کی تصاویر ہٹادی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ 22 اگست کوقائد ایم کیوایم نے کراچی پریس کلب کے باہرمتحدہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی اوراس دوران پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگوائے تھے۔

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کیا ایم کیو ایم پر پابندی لگنے والی ہے ؟



Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

اب آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے لڑنے کے لیے اسرائیل سے مدد کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی پاکستان میں موجود رابطہ کمیٹی نے الطاف
حسین کے امریکا میں کارکنان سے حالیہ خطاب میں اسرائیل سے مدد مانگنے اور  پاک فوج سے لڑنے کے بیان سے بھی اعلان لاتعلقی کر دیا۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئر فاروق ستار اور نسرین جلیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر الطاف حسین کے آڈیو کلپس چل رہے ہیں، یہ تقریر کراچی میں کارکنان سے کیے گئے خطاب سے ملتی جلتی ہے۔ عامر خان نے مزید کہا کہ کراچی میں کی گئی تقریر سے ایم کیو ایم نے اعلان لا تعلقی کیا تھا، اسی طرح امریکا میں کی گئی تقریر سے بھی رابطہ کمیٹی پاکستان اعلان لاتعلقی کرتی ہے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر الطاف حسین نے کہا ہے کہ 'امریکا، اسرائیل ساتھ دے تو داعش، القاعدہ اور طالبان پیدا کرنے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے خود لڑنے کے لیے جاؤں گا'۔ الطاف حسین نے امریکا اور برطانیہ میں مقیم کارکنان کو ہدایت کی کہ ہر کسی سے مدد مانگی جائے، اسرائیل، ایران، افغانستان، ہندوستان سے بات کی جائے کہ وہ ہماری مدد کریں۔ برطانیہ میں مقیم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ہم سے غلطی اور گناہ ہوگیا، اے ہندوؤں! ہم اس سازش کو نہیں سمجھے جو انگریز نے بنائی تھی، ہم اس کا حصہ بن گئے اور جو اس کا حصہ نہیں بنے وہ عیش کر رہے ہیں'۔ الطاف حسین نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے کنوینئر ڈاکٹر ندیم نصرت پر بھی زور دیا کہ وہ ’کھل کر بولیں‘۔
اس موقع پر وہاں موجود افراد الطاف حسین کی تائید کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنائی دیئے کہ پاکستان کا تقسیم در تقسیم ہونا لکھ دیا گیا ہے، اس دوران انھوں نے 'لے کر رہیں گے آزادی' کے نعرے بھی لگائے۔ خیال رہے کہ 22 اگست کو بھی الطاف حسین نے کراچی میں پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان مخالف نعرے لگوائے تھے جبکہ کارکنان کو مختلف ٹی وی چینلز پر حملوں کے لیے اکسایا تھا۔ الطاف حسین کے اس خطاب کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئی تھیں جبکہ ایک روز بعد ہی کراچی میں موجود رابطہ کمیٹی کے فیصلے سے فاروق ستار نے الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان سے اعلان لاتعلقی کردیا اور ایم کیو ایم کو پاکستان سے چلانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔

اس نئے آڈیو کلپ کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما عامرخان نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ الطاف حسین کی یہ تقریر بھی 2 روز پرانی ہی ہے، امید ہے اب ایسی کوئی تقریر اور بات نہیں ہوگی، ایم کیو ایم کراچی کی رابطہ کمیٹی الطاف حسین کے امریکا میں کارکنوں سے خطاب کے بیان سے بھی اعلان لاتعلقی کرتی ہے۔  

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

Attack on American University in Kabul


An attack at the campus of the American University of Afghanistan in Kabul has ended in the early hours of Thursday morning with 12 people, including seven students, dead, a police spokesman has said. Fraidoon Obaidi, the chief of the Kabul police Criminal Investigation Department, told Reuters news agency that security forces shot dead two men suspected of carrying out the attack, which began late on Wednesday with a large explosion followed by gunfire. Obaidi said that another 44 people, including 35 students, were wounded, while about 700 to 750 students were evacuated from the university. 


Sporadic gunfire could be heard through the night and, before dawn, police said the operation had concluded. "The fight is over and at least two attackers have been killed," a police official at the scene told Reuters. "Right now a clearance operation is ongoing by a criminal technique team."No group has so far claimed responsibility for the attack, which comes as the Taliban step up their summer fighting season against the Western-backed Kabul government. The attack came after two professors at the university - an American and Australian - were kidnapped in the heart of the capital earlier this month, the latest in a series of abductions of foreigners in the conflict-torn country.


 The management of the elite American University of Afghanistan, which opened in 2006 and caters to more than 1,700 students, was not immediately reachable for comment. NATO ended its combat mission in Afghanistan in December 2014 but thousands of troops remain to train and assist Afghan forces, while several thousand more US soldiers are engaged in a separate mission focusing on al-Qaeda and the Islamic State of Iraq and the Levant (ISIL, also known as ISIS) group. The US said it was closely monitoring the situation in Kabul after the university attack and that forces from the US-led coalition were involved in the response in an advise-and-assist role. 





Read More