Thursday, September 29, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹے بھارتی دعوے کے بعد انڈین اسٹاک مارکیٹ کریش

کنٹرول لائن پر ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹے دعوے
کے بعد انڈین اسٹاک مارکیٹ 500 پوائنٹس تک کریش کرگئی.  ممبئی اسٹاک مارکیٹ میں جعمرات کے روز کاروبار کا آغاز 9 بجکر 15 منٹ پر 28ہزار 452 پوائنٹس پر ہوا جب کہ 12 بجے کے قریب جب ہندوستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹے دعوے پر مبنی خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں تو ممبئی اسٹاک ایکسچینج بی ایس ای سینسیکس 27 ہزار 740 پوائنٹس تک گرگیا۔  تاہم دوپہر دو بجے تک بی ایس ای میں دوبارہ تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس 27 ہزار 902 پوائںٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرجیکل اسٹرائیکس کی جھوٹی رپورٹس سامنے آتے ہیں ہندوستانی شیئرز، بانڈز اور روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی اور این ایس ای انڈیکس 2.07 فیصد تک نیچے گرگیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے ہندوستانی دعوے کو یکسر مسترد کردیا گیا اور کہا گیا کہ ہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھمبھر، کیل، تتاپانی اور لیپا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایل او سی پر رات ڈھائی سے صبح 8 بجے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ آئی ایس پی آر نے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا فائرنگ کو سرجیکل اسٹرائیکس کا رنگ دینا ایک دھوکہ ہے۔

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کشمیر میں بھارتی بربریت : چھروں سے بینائی کھونے والے کشمیری نوجوان

مقبوضہ کشمیر میں ایک اور دن ابھرا ہے اور جنت نظیر وادی کے مختلف علاقوں سے لوگ جلدی میں سری نگر میں واقع شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال (ایس ایم ایچ ایس) کا رخ کر رہے ہیں۔ امراض چشم کا وارڈ بھر چکا ہے جہاں زیادہ تر آہنی چھروں سے زخمی ہونے والے افراد موجود ہیں۔ ان زخمیوں کے چہروں اور دھڑوں پر چھروں کے زخم موجود ہیں۔ پیلٹ گن (آہنی چھرے فائر کرنے والی بندوق) کے اندھا دھند استعمال سے بینائی کا ضیاع کشمیر کے شہریوں پر ہندوستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بربریت کی ایک تصویر پیش کر رہا ہے۔
ہندوستانی پولیس یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پیلٹ گن ایک غیر مہلک ہتھیار ہے لیکن کشمیر بلائنڈ اسپاٹ کیمپین (کے بی ایس سی) کے مطابق اس گن کے استعمال کے نتیجے میں، جو کہ عام طور پر جانوروں کے شکار کے لیے مختص سمجھی جاتی ہے، 69 انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔

اگرچہ کہ یہ ہتھیار ہمیشہ جان لیوا ثابت نہ بھی ہو، مگر اپنا شکار بننے والے پر یہ ہتھیار زندگی بھر کے لیے ایک گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ ہندوستانی حکومت کے مطابق اس ہتھار سے 500 لوگ زخمی ہو چکے ہیں، ان میں زیادہ تر افراد کی آنکھوں کی ساخت کو کئی طرح سے نقصان پہنچا ہے جس کے لیے کئی سرجریز اور طویل المدت طبی علاج مطلوب ہے۔ مگر کے بی ایس سی کی اطلاعات کے مطابق چھروں سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 4,500 سے بھی زیادہ کے ساتھ مذکورہ تعداد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ تنازعے کے ابتدائی صرف 32 دنوں میں ہی ہندوستانی فوج نے 13 لاکھ چھرے استعمال کیے تھے۔ چوں کہ پیلٹ گنز اندھے پن کی وجہ بن سکتی ہیں لہٰذا ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پیلٹ گنز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔








   بشکریہ 

احمر خان

روزنامہ ڈان نیوز اردو


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

دنیا کا معروف سرچ انجن گوگل 18 برس کا ہو گیا


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

اپنی ہی نسل کی تباہی کا تماشہ دیکھنے والی قوم

انصار عباسی


Read More