Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

ماحولیاتی امدادی فنڈ

ماحولیاتی تباہ کاریوں سے متاثرہ ممالک کی مدد کے لئے مصر میں ہونے والی کوپ 27 عالمی کانفرنس بین الاقوامی فنڈ کے قیام پر متفق ہو گئی ہے اور ایک تاریخی معاہدہ طے پاگیا ہے جس سے پاکستان سمیت دنیا کے 134 ممالک کے بے پناہ مالی نقصانات کا ازالہ ہو سکے گا۔ اس معاہدے کو پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا ہے کیونکہ موسمیاتی تغیروتبدل سے ہونے والی حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے سب سے زیادہ تباہی کا ہمارے ملک ہی کو سامنا کرنا پڑا اور اس کے ازالے کے لئے دنیا کو متحرک کرنے کی غرض سے سب سے زیادہ کردار پاکستان نے بین الاقوامی دوروں، رابطوں اور گفت وشنید کی صورت میں ادا کیا۔

پاکستان کی کوششوں سے مصر کے شہر شرم الشیخ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جو عالمی کانفرنس ہوئی اس میں مسئلے کی اصلی جڑ یعنی صنعتی ممالک کی فیکٹریوں اور کارخانوں سے بڑی مقدار میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج روکنے پر اتفاق نہ ہو سکا لیکن متاثرہ ممالک کے نقصانات کی تلافی کے لئے امداد فنڈ قائم کر دیا گیا ہے جس پر عملدرآمد کے لئے ایک عبوری کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے نقصانات کے ازالے کے لئے قواعد وضوابط طے کرے گی اور فنڈنگ کے لئے نئے اور اضافی وسائل کی تلاش کے لئے سفارشات پیش کرے گی۔ دو ہفتے کے طویل مذاکرات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر قابو پانے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ جس پر امریکہ برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ 

کاربن ڈائی آکسائیڈ کی روک تھام دراصل گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لئے سب سے ضروری اقدام ہے جس کے لئے بعض ممالک تیار نہیں ہیں جو انسانیت پر ظلم کے مترادف ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کوپ 27 کے انعقاد اور عالمی فنڈ کے قیام پر اتفاق رائے دنیا میں ماحولیاتی انصاف کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے تاہم کاربن کا اخراج روکنے کی ہنگامی پیش رفت میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب تک صنعتی ممالک کاربن کے تدارک پر توجہ نہیں دیں گے۔ دنیا ماحولیاتی تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں ہو گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اس جانب توجہ دینے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ انہوں نے درست کہا کہ کاربن کی روک تھام میں ناکامی کے باعث کرہ ارض بدستور ’ایمرجنسی روم‘ میں ہے جس پر فوری توجہ دینا ہو گی، اگرچہ متاثرہ ممالک کے موسمیاتی نقصانات کے ازالے کے لئے فنڈ کا قیام ایک اچھا فیصلہ اور ان ممالک کے لئے امید افزا ہے جو موسمیاتی آفات اور اثرات کی جنگ لڑرہے ہیں

مگر بنیادی سبب یعنی کاربن کا اخراج روکے بغیر دنیا کو ماحولیاتی تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کوپ 27 کانفرنس میں متاثرہ ممالک کے لئے فنڈ کی منظوری کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے جہاں تباہ کن سیلاب سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی کوششیں قابل ستائش ہیں جن کی وجہ سے 182 میں سے ماحولیاتی تباہ کاری سے متاثر ہونے والے 147 ممالک کے نقصانات کی تلافی ہو سکے گی۔ ترقی یافتہ ممالک کو اس وقت آنے والی مشکلات کا شاید اندازہ نہیں مگر ایک وقت آئے گا کہ وہ بروقت اقدامات نہ کرنے پر پچھتائیں گے۔ اس لئے بہتر ہے کہ کوپ 27 کے پلیٹ فارم سے اس مسئلے کا حل بلا تاخیر تلاش کیا جائے۔ ترقی یافتہ صنعتی ملکوں پر اس حوالے سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

 بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments