امریکہ آخر کس نے دریافت کیا! یہ سوال ہر سال 12 اکتوبر کو خاص طور پر دہرایا جاتا ہے کیونکہ امریکی حکومت اور عوام اس دن کو کولمبس ڈے کے نام سے مناتے ہیں۔ اس دن عام تعطیل ہوتی ہے اور اس کی مناسبت 12 اکتوبر 1492 کے اس دن سے ہے، جب اٹلی کی مشہور سیاح کرسٹوفر کولمبس نے اس خطے میں قدم رکھا جسے دنیا اب امریکہ کے نام سے جانتی ہے۔ امریکہ میں کولمبس ڈے 1937 سے ہر سال منایا جاتا ہے۔ کولمبس نے آتے ہی اس سرزمین کا اسپین کی ملکیت ہونے کا دعوی کیا تھا۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا لیکن ماہرین کے مطابق یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کولمبس نے اس خطے کو 1492 اور 1502 کے دوران کیے گئے اپنے چار سمندری سفروں سے مغربی یورپ میں متعارف کیا۔ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ کولمبس نے مغربی یورپ سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی اس نئے دریافت کیے گئے خطے میں آمد کی راہ ہموار کی۔ اور مغربی لوگوں کی اسی منتقلی کی نتیجے میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو سمیت کئی نئی قوموں کی داغ بیل ڈالی۔ لیکن یہ کہنا کہ کولمبس ہی نے امریکہ دریافت کیا، درست نہیں ہو گا کیونکہ اس سیاح کے آنے سے قبل ہی امریکی خطے میں بہت سے لوگ بستے تھے۔
امریکہ کی قدیم تاریخ کیا بتاتی ہے؟ یہ سوال تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو ہے کہ پہلے امریکی کن لوگوں کو کہا جائے۔ آثار قدیمہ کے میگیزین امریکن آرکیالوجی کے مدیر مائیکل باوایا کے مطابق پہلے امریکی غالباً براعظم ایشیا سے 15 ہزار سال قبل یہاں آباد ہوئے تھے۔ وہ لوگ سربیا اور موجودہ امریکی ریاست الاسکا کو ملانے والے بیرنگ نامی پل سے اس جگہ پہنچے تھے۔ 15 ہزار قبل سمندری سطح بہت کم تھی اور براعظموں کے درمیان ملانے والی زمین سینکڑوں میل وسیع ہوا کرتی تھی۔ اس وقت یہ زمین ریاست الاسکا کے سی ورڈ نامی جزیرہ سے ملتی تھی جہاں کوئی درخت اور سبزہ وغیرہ نہیں تھا۔ محض ایک یخ بستہ بنجر زمیں کا ٹکڑا تھا۔ لیکن ان ناموافق حالات کے باوجود یہاں حیات موجود تھی۔ امریکی قومی پارک سروس کے مطابق اس زمینی پل نے براعظموں کے درمیان نباتات اور حیوانات کے منتقل ہونے اور افزائش میں اہم کردار ادا کیا۔ جانوروں کی بہت سی اقسام اس معروضی پل کے راستے ایک براعظم سے دوسرے براعظم آتی جاتی تھیں۔ ان جانوروں میں اونی میماتھ، ماسٹڈون، اسکیمار بلی کی نسل، آرکٹک اونٹ، گندمی ریچھ، گھوڑے اور موس جیسے جانور شامل تھے۔
اس کے علاوہ پرندے، مچھلیاں اور دوسرے آبی جانوروں نے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی راہیں بنائیں اور یہ سفری راستے آج بھی موجود ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ نباتات اور حیوانات کے آنے کے بعد انسانوں نے شکار، خوراک اور پناہ کی تلاش میں یہاں آنے کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر اسی مقام سے وہ براعظم امریکہ کہ شمال، وسط اور جنوب میں پھیلتے چلے گئے۔ 1970 تک امریکہ میں سب سے پہلے آنے والے لوگوں کو کلووس کا نام دیا گیا۔ یہ نام میکسیکو میں کلووس کے مقام پر دریافت کی گئی 11 ہزار سال قدیم آبادی کے نام ہر رکھا گیا تھا۔ ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ اس مقام پر آباد ہونے والے لوگ امریکی خطوں میں بسنے والے 80 فی صد لوگوں کے اجداد تھے۔ اٹلی کی فلورنس لائبیریری میں ایک کتاب کے ساتھ محافظ کھڑا ہے۔
اس کتاب میں اس خط کا عکس ہے جس میں 1493 میں کولمبس نے نئی دنیا دریافت کرنے کے متعلق لکھا تھا۔ اٹلی کی فلورنس لائبیریری میں ایک کتاب کے ساتھ محافظ کھڑا ہے۔ اس کتاب میں اس خط کا عکس ہے جس میں 1493 میں کولمبس نے نئی دنیا دریافت کرنے کے متعلق لکھا تھا۔ لیکن اب تازہ ترین تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان لوگوں سے پہلے بھی امریکی خطے میں لوگ آباد تھے۔ مدیر باوایا کے مطابق ابھی تک ان قدیم لوگوں کو کوئی نام نہیں دیا گیا۔ ان لوگوں کے آثار امریکی ریاستوں ٹیکساس، ورجینیا اور جنوبی امریکہ میں پیرو اور چلی تک پائے جاتے ہیں۔ اور انہیں فی الحال کلووس سے پہلے کے لوگوں کا نام دیا گیا ہے۔ اب جدید ترین دریافتوں سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ امریکہ میں آج سے 20 ہزار سال پہلے بھی لوگ آباد تھے۔
یورپی باشندوں کی آمد اب تک کی دریافتوں اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ امریکہ کی دریافت کا سہرا کلووس اور ان سے پہلے سے آ کر یہاں بسنے والے لوگوں کے سر ہے۔ ان لوگوں کے جینز ابھی تک تمام مقامی امریکیوں میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ امریکہ کے مغربی ساحل سے یہاں پہنچے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ مشرقی ساحل سے آنے والے لوگ یہاں کیسے آئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کولمبس پہلے یورپی تھے جنہوں نے اس وقت کے جنت نما خطہ ارض کو دریافت کیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ کینیڈا کی سرزمین پر آج سے 500 سال قبل یورپی لوگ آئے تھے جو کہ کولمبس کے یہاں آنے سے پہلے کی بات ہے۔ ان لوگوں کو وائی کنگز کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان کے آنے کے آثار کینیڈا کے جزیرہ نیو فاؤنڈ لینڈ میں پائے جاتے ہیں۔ اس جزیرے کے میڈو نامی مقام پر لکڑی کی آٹھ عمارتیں اب اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے عالمی آثار میں شامل ہے۔ آج یہ جگہ بنجر ہے لیکن ایک ہزار سال پہلے اس مقام پر ہر طرف درخت ہی درخت تھے اور امکان غالب یہ ہے کہ اسے موسم سرما میں ایک عارضی قیام گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وائی کنگز یہاں اپنی کشتیوں کی مرمت کیا کرتے تھے اور سخت موسم میں اس جگہ کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ جگہ ایک مستقل رہائشی مقام تھا۔ لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ کولمبس کے امریکہ آنے سے بہت پہلے سے موجود تھے۔
ایک آخری پر اسرار پہلو امریکہ کی تجسس سے بھرپور دریافت کی کہانی میں ہر دل عزیز سبزی شکر قندی کا ذکر ضرور آتا ہے۔ شکر قندی جنوبی امریکہ کی مقامی سبزی ہے اور پولی نیسیا کے مقام پر شکر قندی آج سے ایک ہزار سال پہلے بھی خوراک کا اہم جزو تھی۔ سوال ہی ہے کہ شکر کندی یہال کیسے پہنچی۔ سائنس دانو ں کے مطابق پولی نیسیا اور جنوبی امریکہ میں اگنے والی شکر قندی کے ڈی این اے کا موازنہ بتاتا ہے کہ یا تو پولی نیسیا کے کچھ لوگ اسے جنوبی امریکہ سے یہاں لائے یا پھر جزیرے کے رہائشی بحرالکاحل کی سیاحت کے بعد اسے جنوبی افریقہ سے واپسی پر لائے۔ دونوں صورتوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جس وقت شمالی یورپ کے لوگ کینیڈا میں درخت کاٹ رہے تھے، اسی وقت پولی نیسیا میں جنوبی امریکہ سے لائی گئی شکر قندی کو پہلی بار کاشت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سنہ 2014 میں مکمل کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق پولی نیسیا کے راپا نوئی جزیرے پر رہنے والے مقامی لوگوں کی جینز میں امریکی جینز کی خاطرخواہ مقدار بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکی جینز کے لوگ اور راپا نوئی کے مقامی لوگ 1280 کے قریب اکٹھے رہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی مفروضے ہیں۔ ایک برطانوی بحریہ کے سابق افسر گاوین مینزیز اس مفروضے پر زور دیتے ہیں کہ چینی لوگوں نے جنوبی امریکہ کو 1421 میں اپنی کالونی بنایا تھا۔ ایک اور مفروضے کے مطابق سابق کیمیا دان جان رسکیمپ کہتے ہیں کہ ریاست اری زونا میں دریافت کیے گئے خاکے چین کے کرداروں سے ملتے جلتے ہیں۔ ان کے مطابق چینی نسل کے لوگ تقریباً 1300 قبل مسیح میں ریاست اری زونا میں موجود تھے۔ ان مفروضوں کو مکمل طورپر رد کردیا گیا ہے۔
ایک کثیرالثقافتی مرکز تحقیق اور تاریخ سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ کئی صدیوں سے مختلف ثقافتوں کے ملاپ کی سرزمین رہی ہے۔ وائس آف امریکہ بھی امریکہ کی کہانی بیان کرنے کی کاوش کرتا ہے۔ اور اب یہ بات سب پر عیاں ہے کہ امریکہ صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے ملاپ کا مرکز رہا ہے۔ اور ایسا نیویارک کے مجسمہ آزادی کے دنیا کے غریب، پسے اور سہمے ہوئے آزادی کے متلاشی لوگوں کو اپنی آغوش میں لینے سے صدیوں پہلے سے ہوتا آ رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شمالی اور جنوبی امریکہ دونوں ہی زمانہ قدیم سے ہی مختلف ثقافتوں کے گہوارے رہے ہیں۔ اور یہاں پرانے وقتوں سے لوگ رزق کی فراوانی، ترقی کے مواقع اور ایک بہتر زندگی کی جستجو میں معلوم تاریخ سے پہلے سے ہی آ کر بس رہے ہیں۔ اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آج بھی کل سے کہیں زیادہ مختلف نہیں ہے۔
0 Comments