Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے پر تنقید کو ترک صدر اردوان نے مسترد کر دیا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے بازنطینی دور کی یادگار آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے ترکی کے فیصلے پر عالمی سطح پر مذمت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے میں ان کے ملک کی 'خودمختار حقوق' کے استعمال کا اظہار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ترک صدر نے اعلان کیا تھا کہ یونیسکو کے عالمی ورثہ قرار دیے گئے آیا صوفیا میں مسلمان نماز پڑھ سکیں گے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ ترک صدر مسلم اکثریتی ملک کے سیکولر ستونوں کو ختم کر رہے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے کئی مرتبہ اس اہم ترین عمارت کو مسجد بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ رجب طیب اردوان نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے کہا کہ 'جو لوگ اپنے ممالک میں اسلامو فوبیا کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتے وہ ترکی کے خود مختار حقوق کو استعمال کرنے کی مرضی پر حملہ کرتے ہیں'۔


دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے اہم مقام آیا صوفیا کو پہلی بار عیسائی بازنطینی سلطنت میں ایک گرجا گھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا تاہم سن 1453 میں سلطنت عثمانیہ کے قسطنطنیہ پر فتح کے بعد سے اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
رجب طیب اردوان کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب 1934 میں ترکی کی جدید سیکولر ریاست کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے دور حکومت میں سلطنت عثمانیہ کے دور کی مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے کابینہ کے فیصلے کو ترکی کی اعلی عدالت نے منسوخ کر دیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ 'کنونشن میں (عالمی ثقافتی اور قدرتی ورثہ کے تحفظ سے متعلق) ایسی کوئی شقیں موجود نہیں ہیں جو مقامی قانون کے مطابق آیا صوفیا کے استعمال کو روکتی ہیں'۔ اس کے بعد رجب طیب اردوان نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے جس میں 'آیا صوفیہ مسجد' کا کنٹرول ترکی کے مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ دیانت کے حوالے کر دیا گیا۔

ترک رہنما کا کہنا تھا کہ 'ہم نے یہ فیصلہ اس بات پر نہیں کیا کہ دوسرے کیا کہتے ہیں بلکہ یہ دیکھ کر کیا ہے کہ ہمارا حق کیا ہے اور ہماری قوم کیا چاہتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے شام، لیبیا اور کہیں اور کیا تھا'۔ طیب اردوان نے نیٹو اتحادی امریکا اور روس سے اپیلوں کے باوجود اس منصوبے کو آگے بڑھایا جس کے ساتھ انقرہ نے حالیہ برسوں میں قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔ جرمن مارشل فنڈ کے انقرہ کے ڈائریکٹر اوزگور انلوحسیرکلی نے کہا کہ اس اقدام سے عوام کا دل و دماغ جیت لیا جائے گا کیونکہ بیشتر ترک 'مذہبی یا قوم پرست جذبات کے ایسے فیصلے کے حامی ہوں گے'۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بحث ہے جسے صدر اردوان ہار نہیں سکتے اور اپوزیشن جیت نہیں سکتی، حقیقت میں یہ مسئلہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے'۔ 

ترک صدر کے قوم پرست اتحادی ڈیولیٹ باہسیلی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیا کو دوبارہ مسلمان عبادت گاہ کے طور پر کھولنے کی 'ہماری خواہش طویل عرصے سے ہے'۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والے فیصلے کے بعد سینکڑوں افراد مشہور عمارت کے باہر جمع ہوئے اور شام کی نماز ادا کی جبکہ ہفتے کے روز پولیس نے آیا صوفیا کے آس پاس رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں ترک صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آیا صوفیا غیر مسلمانوں سمیت تمام زائرین کے لیے کھلا رہے گا۔ ان کے معاون برائے میڈیا فرحتین التون نے ٹویٹ کیا کہ 'آیا صوفیا کے دروازے پوری دنیا کے زائرین کے لیے کھلے رہیں گے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'تمام مذہبی طبقات کے لوگوں کے اس کا دورہ کرنے کے لیے خیرمقدم اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ نیلی مسجد سمیت دیگر مساجد کا دورہ کرسکتے ہیں'۔

بشکریہ ڈان نیوز

Post a Comment

0 Comments