Header Ads

Aliexpress INT
Breaking News
recent

شامی جنگ میں مغرب نے کیا غلطیاں کیں؟

شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی میں مغربی ممالک نے مداخلت کرنے کے کئی مواقع گنوائے۔ ایسے تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے مغرب کو اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ ڈی ڈبلیو کے کیرسٹن کِنپ کا تبصرہ۔ 

شامی جنگ سے متعلق ’اگر یوں یوتا تو۔۔۔‘ کے ساتھ کئی سوالات جڑے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر کا تعلق مغربی ممالک کے اس جنگ میں کردار سے متعلق ہیں۔ اگر مغرب اس تنازعے میں پہلے مداخلت کرتا تو شامی جنگ کیا رخ اختیار کرتی؟
موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں مغرب نے شامی تنازعہ حل کرنے کے کئی سنہری مواقع گنوائے۔ مثال کے طور پر سن 2013 میں جب یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں، تب امریکی صدر اوباما نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیتے ہوئے اسد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ایسی صورت میں مغرب ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور امریکا اور مغربی ممالک نے پھر بھی شام میں عسکری مداخلت سے گریز کیا۔

’اوباما کی سرخ لکیر‘
اب یوں لگتا ہے کہ اس وقت امریکا اور مغربی اتحادیوں نے شام میں مداخلت نہ کر کے اسد حکومت کو محدود کرنے کا موقع گنوا دیا۔ اس وقت اسد کو روس اور ایران کا ویسا تحفظ اور حمایت حاصل نہیں تھی، جیسی کہ اب ہے اور تب شام میں مغرب کی مداخلت ممکنہ طور پر کارگر ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن اوباما نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ اوباما کے شام میں مداخلت نہ کرنے کے اس فیصلے کی وجوہات بھی تھیں۔ امریکا افغانستان اور بعد ازاں عراق میں جنگ شروع کر چکا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری مداخلت کی بنیاد دانستہ طور پر بولے گئے جھوٹ پر مبنی تھی جس کی وجہ سے امریکا کا تشخص بری طرح سے مجروح تھا اور شام میں عسکری مداخلت اخلاقی اور سیاسی طور پر امریکا کی عالمی ساکھ کو مزید خراب کر سکتی تھی۔

علاوہ ازیں عسکری مداخلت سے وابستہ اسٹریٹجگ خطروں کا اندازہ لگانا بھی مشکل کام تھا۔ مغربی اتحادیوں کی عسکری مداخلت کے اسد پر کیا اثرات مرتب ہوتے؟ روس اور ایران کا ردِ عمل اس وقت کیسا ہوتا؟ ایسے فیصلے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں امریکا مخالف جذبات کتنے بڑھتے، شیعہ اور سنی مسلمانوں کا ردِ عمل کیا ہوتا ؟ اور پھر عسکری مداخلت کے بعد امریکا اور یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بھی کس قدر بڑھ جاتا؟

'جمود کی قیمت‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں مغربی عسکری مداخلت کے ممکنہ طور پر بھیانک نتائج نکل سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو مداخلت نہ کرنے کے نتائج بھی کوئی اچھے نہیں نکلے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ روس اور ایران شامی تنازعے میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ روس کے فریق بننے کے بعد اب مغرب کے لیے تصادم سے بچے بغیر مداخلت کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
اسی لیے اب واشنگٹن اور یورپی رہنماؤں کے اسد کے اقتدار سے الگ ہو جانے کے مطالبے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ مغرب شام میں کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، اب ان باتوں کا شام کے زمینی حقائق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

’باغیوں کی مدد یا جہادیوں کی‘
امریکا نے شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے ہی مبینہ طور پر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس سے شام افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا۔ اس مبینہ منصوبے کے باعث بھی شام میں امریکی مداخلت کی نیت مشکوک ہو چکی تھی۔  سن 2010ء میں ابھی اُس باغیانہ انقلابی تحریک نے حلب کی جامع الاموی کے دروازوں پر دستک نہیں دی تھی، جو تب پوری عرب دُنیا میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ خوبصورت مسجد سن 715ء میں تعمیر کی گئی تھی اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

شامی تنازعے کے شروع میں بھی انہی وجوہات کے باعث امریکا اور مغربی اتحادی متذبب دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ممالک شامی باغیوں کی حمایت اور معاونت بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ساتھ میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں غلطی سے وہ جہادیوں کو اسلحہ نہ فراہم کر بیٹھیں۔ اسی پالیسی کے باعث شام میں ایک نہیں کئی اپوزیشن اور باغی گروہوں نے جنم لیا جس کے باعث خانہ جنگی ختم ہونے کے بجائے پھیلتی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں صرف باغی اور جہادی ہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عام شہری بھی مارے گئے۔ شام میں ایسی تباہی اور ایسے بھیانک مناظر سامنے آئے جن کی مثال حالیہ عالمی تاریخ کسی اور جنگ میں نہیں ملتی۔

'محض بیان بازی سے کام نہیں چلے گا‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان غلطیوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ مغرب کی ناپختہ عسکری مداخلت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، وہ ہم لیبیا اور عراق میں دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ مغرب اب کسی طویل مدتی اور تعمیری عسکری کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ مغربی ممالک شام میں عسکری کارروائیوں کو روس اور ایران کے ہاتھوں میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ اب شامی صورت حال میں بہتری کے لیے مغرب کے کردار کا قصہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ 

مغرب کو لیکن اب یہ ضرور سیکھنا ہو گا کہ آئندہ کسی تنازعے میں جب وہ کسی ملک یا آمر کو خبردار کریں تو اس کے ساتھ ساتھ انہیں عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں کیا ردِ عمل دکھانا ہے، اس بات پر بھی پوری تیاری کے ساتھ ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ یا دوسری صورت میں انہیں کسی بھی معاملے میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ محض بیان جاری کرنے کا زمانہ گزر چکا، ان باتوں سے تنازعات حل نہیں ہوتے، مزید بگڑ جاتے ہیں۔

بشکریہ DW اردو
 

No comments:

Powered by Blogger.