Site is Related to News, Politics, History, Sports, Wars, Conflicts, People and Beautiful Places.

Breaking

Thursday, April 20, 2017

کیا میڈیا کچھ چھپا رہا ہے؟

  جب میں کہتا تھا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شرانگیزی، فتنہ و فساد
بڑھے گا تو free speech اور آزادی رائے کے چیمپئین مجھے کوستے تھے اور کہتے تھے کہ کسی کی سوچ پر تالے کیسے ڈالے جا سکتے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ اگر mainstream میڈیا میں کھل کر بات نہیں ہو سکتی تو کم از کم سوشل میڈیا پر تو کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔ مردان واقعہ اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایم بی بی ایس کی طالبہ (جس نے داعش میں شمولیت اختیار کر کے خودکش حملہ کرنا تھا) کے پکڑے جانے کے بعد کیے گئے انکشافات نے آزادی رائے کے چیمپئنز کو عجیب مخمسہ میں ڈال دیا۔ ان بچاروں کو سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔ لے دے کر اب سارا ملبہ مرحوم ضیاء الحق پر ڈال کر ہی اپنا دل خوش کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں اس سے دوسروں کو بے وقوف بھی بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن اب free speech اور free thought کی بات کرنے والے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے امریکا میں ایک شخص نے اپنے کسی عزیز کو قتل کیا اُس کی وڈیو بنائی اور اُسے فیس بک پر لوڈ کر دیا۔ اس واقعہ پر امریکا و یورپ میں شور اٹھا اور متعلقہ وڈیو کو بلاک کر دیا گیا جبکہ فیس بک کی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ فیس بک کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ اب کرنا ہو گا۔ افسوس کہ یہی امریکا اور یہی یورپ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام مخالف فتنہ انگیزی جو کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن چکی ہے اُسے آزادی رائے اور free speech کے بہانے تحفظ دیتے ہیں۔ البتہ آجکل امریکا و یورپ کی اس نام نہاد آزادی رائے سے مرعوب ہمارے کچھ دیسی لبرل کنفیوژڈ نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ hate speech پر پابندی لگائو تو کوئی مطالبہ کر رہا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے کے رجحانات کو نہ صرف سختی سے روکا جائے بلکہ ایسا کرنے والوں کو بھی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ 

جب حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے سوشل میڈیا کو توہین مذہب سے متعلق مواد سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تو اس مخصوص طبقہ نے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے یا تو مکمل خاموشی اختیار کی یا حوصلہ شکنی کی باتیں کی۔ حالیہ واقعات کے بعد اب یہی طبقہ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی سے تنگ دکھائی دے رہا ہے اور اس فکر میں لاحق ہے کہ نوجوانوں کو غلط راستے پر چلنے سے کیسے روکا جائے۔ سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی اور انتشار کی تو کوئی حد ہی نہیں ہمارے کچھ لبرل اور سیکولر دوست میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی کے معاملہ میں selective ہیں۔ لیکن یہ معاملہ selective approach سے حل نہیں ہو گا۔

اگر میڈیا اور سوشل میڈیا کو فتنہ بازی، شر انگیزی سے روکنا ہے تو پھر اس کے لیے ان ذرائع ابلاغ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے ہوں گے جس کا ساتھ ہم سب کو دینا ہو گا۔ ایک مربوط لائحہ عمل کے تحت سختی سے توہین مذہب سے متعلقہ ہر قسم کے مواد کو روکنا ہو گا کیوں کہ گستاخانہ مواد فتنہ اور شر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح توہین مذہب کے جھوٹے الزامات کے لیے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال سے سختی سے روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسا مواد جو ہمارے بچوں کو دہشتگردوں کی طرف راغب کرے یا اُن کے اخلاق، کردار کو تباہ کرے اور انہیں فحاشی و عریانیت کے راستے پر چلانے کا ذریعہ بنے تو اُسے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر روکا جانا چاہیے۔

انصار عباسی