Header Ads

Breaking News
recent

سقوط حلب : قبل یہ کہ بہت دیر ہو جائے حلب کو بچانے کیلئے اپيل

كل حلب کے مشرق میں سب سے زیادہ گنجان آباد محلوں کو بحال کرنے اور اس
کے کنٹرول کو جلد حاصل کرنے کی خاطر شامی حکومت کی طرف سے اضافی فوجیوں کو تعینات کیا گیا جبکہ اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے شہر کو بچانے کی خاطر اپيل كى جا رہی ہے- 223 بین الاقوامی تنظیمیں ناقابل بیان انسانی تباہی سے خبردار کرتے ہوئے حلب کو بچانے کے لئے پكار رہی ہیں، جن میں "ہيومن رايئٹس واچ" اور "عالمی حفاظتی ذمے دار سنٹر" بھی شامل ہيں-  عالمی حفاظتی ذمے دار سنٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ "حلب ایک اور روانڈا یا سربیا بننے جا رہا ہے-" انہوں نے مزید کہا کہ "سلامتی کونسل نے شرمناک صورت حال کو روکنے کے لئے جنرل اسمبلی کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں پر حملوں کو فوری طور پر بند کرنے اور شام میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب کرنے کے لئے خصوصی اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کریں"۔
دریں اثناء مشرقی حلب میں فوجی کاروائیوں کو روکنے کے لئے کل انقرہ نے ترکی کی موجودگی میں ماسکو اور شامی اپوزیشن کے مابین مذاکرات کی میزبانی کی۔ معلومات کے مطابق مشرقی حلب کے "شامی فتح فرنٹ" کے جنگجوؤں کو باہر نکلنے کے لئے طرفین ایک عارضی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس کے مطابق بمباری بند کر کے فرنٹ کے جنگجوؤں کو ادلب جانے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا اور گهيرے ہوئے علاقوں میں امداد فراہم کی جائے گی۔  شامی اتحاد کے ایک رکن احمد رمضان نے انکشاف کیا کہ ترکی نے "بمباری کو مکمل طور پر بند کرنے سے متعلق ایک تجویز پیش کی ہے کہ حلب مقامی کونسل کی زیر نگرانی رہے اور آزاد فوج اسکی حفاظت کرے- ایرانی اور اسد کے تابع ملیشیاؤں کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ حلب كے اندر آئيں یا اس میں اہداف کو نشانہ بنائیں-" رمضان نے "الشرق الاوسط" سے کہا کہ "اسد كى مخالف جماعتیں اور روسى حكومت اس پر متفق ہیں جبکہ ایران اور شامى حکومت جو کہ روس کے زیر سایہ شہر پر حملہ كر رہے ہیں ان کی طرف سے اسے مسترد کر دیا گیا ہے- اس سے فريقين ميں انكے كرداروں كى تبديلى كا پتہ چلتا ہے-"

No comments:

Powered by Blogger.