Header Ads

Breaking News
recent

قوم پوچھتی ہے انتخاب عالم، نجم سیٹھی، شہریار کب جائیں گے؟

پاکستان کی ایشیا کپ اور ورلڈکپ T20 کرکٹ میں شکستوں کے تینوں کردار کپتان شاہد آفریدی، کوچ وقار یونس اور سلیکشن کمیٹی سب نے استعفے دیدئیے جس سے قوم کا غصہ کسی حد تک کم تو ہوا ہے، یہ الگ بات ہے کہ شکستوں میں کس کس کا کتنا حصہ تھا گو شاہد آفریدی کے سوا کوئی بھی میدان میں نہیں کھیل رہا تھا مگر انہوں نے استعفے دے کر ایک اچھی روایت قائم کی ہے جسے جاری اور ساری رہنا چاہئے۔
قوم اب پوچھتی ہے جنہوں نے استعفے دئیے ان سب سے بڑے مجرم نجم سیٹھی، شہریار اور انتخاب عالم ہیں جو عقل کل تھے، تمام کردار کے کرتا دھرتا تھے اور ہر ایک کی پوشیدہ انکوائری رپورٹ کو افشاں کرنے والے یہی تھے تاکہ وہ بچ جائیں باقی بھاڑ میں جائیں اور بقیہ ذلیل و خوار ہوں۔ ان شکستوں کے بعد بھی میں نے لکھا تھا اور اب لکھتا ہوں شکست کے ان سب کرداروں کو جانا ہو گا۔ پاکستان کی سپورٹس کے ساتھ بہت ہو چکی۔ ہاکی، بیڈمنٹن، سکواش، فٹبال اور اب کرکٹ سب تباہ ہو گیا، سب ختم ہو گیا ان کرتا دھرتاؤں نے ان مجروں نے سب تباہ کر دیا۔

سفارش، اقربا پروری اور دولت کی ہوس کو ہی سب کچھ سمجھ لیا۔ اتنی ٹینشن میں سرفراز احمد کو T20 کا کپتان بنانا ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ہے۔ سرفراز کو آفریدی جیسے ان پڑھ ماڈل کو ہٹا کر پہلے ہی کپتان بنا دینا چاہئے تھا تو کم از کم اتنی بڑی شکستیں نہ ہوتیں۔ سرفراز کپتانی کے اہل تھے۔ انہوں نے پاکستان سپرلیگ میں عمدہ کپتانی کی تھی۔ عمران خان کی بات عوام کو زیادہ پسند آئی ہے کہ ٹیسٹ ون ڈے اور T20 کا ایک ہی کپتان ہونا چاہئے جو کھلاڑیوں کو، ان کی طاقت کو سمجھتا ہو۔ مجموعی طور سے پوری قوم کو ان تین بابوں انتخاب عالم، نجم سیٹھی، شہریارکے استعفوں کا انتظار ہے؟

محمد صدیق


No comments:

Powered by Blogger.