Header Ads

Breaking News
recent

لیکن پولیس کی مدد کون کرے ؟

پولیس دنیا بھر میں پہلی دفاعی لائن سمجھی جاتی ہے۔ فوج اور نیم فوجی اداروں کے برعکس پولیس شہریوں کے درمیان رہتی ہے۔ آبادی کے ہر طبقے کی نفسیات  جرائم کی ساخت ، طریقِ کار وغیرہ کو کسی بھی قانون دوسرے ادارے سے بہتر سمجھتی ہے۔الغرض جس طرح دائی سے پیٹ چھپانا مشکل ہے اسی طرح کسی فرض شناس پولیس انسپکٹر سے جرم کا چھپنا مشکل ہے۔ یہ تو ہوگئی آئیڈیل صورتِ حال۔ مگر عملی صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ پہلی دفاعی لائن ہونے کے باوجود پولیس کا محکمہ غریب کی جورو اور دھوبی کا کتا ہے جس پر صرف شک ہو سکتا ہے ، مذمت ہو سکتی ہے اور کسی خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔لیکن پولیس اتنی ہی بری اور نااہل ہے تو پھر یہ محکمہ اب تک قائم کیوں ہے ؟ اس پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کا جواز کیا ہے ؟ اور نتیجہ ہمیشہ ڈھاک کے تین پات ہی کیوں ہے ؟

شائد پولیس کو جدید خطوط پر منظم کرنے، اسے فیصلہ ساز خودمختاری دینے ، اس کی شرائط و اوقات کار کو دیگر سیکیورٹی اداروں سے ہم آہنگ کرنے اور جدید تحقیقی و دفاعی آلات فراہم کرنے میں سب ہی کا نقصان ہے۔ فرض کریں کہ اگر یہ سب کچھ ہو جائے اور پاکستانی پولیس بھی چینی ، ایرانی ، عرب ، یورپین یا امریکی پولیس کی طرح پروفیشنل اور باعزت بنا دی جائے تو کیا ہوگا ؟ سب سے زیادہ خسارہ حکمران طبقات کو ہوگا۔ ایک خود مختار پروفیشنل محکمہ پولیس ہونے سے مقتدر طبقات کے ذاتی ، سیاسی اور سماجی دبدبے اور بدمعاشی کی قوت کو زک پہنچے گی۔ صرف ایف آئی آر کاٹنے کا نظام ہی سدھر جائے تو حکمران طبقے کی آدھی قوت مفلوج ہو جائے گی۔ اپنی مرضی سے بندے چھڑانے، بند کرانے اور انتقامی مقدمات کا ہتھیار کند ہوجائے گا۔ جعلی پولیس مقابلوں کی سہولت کم ہو جائے گی۔ ہر حکم اور قدم کا معقول قانونی جواز دینا پڑے گا۔ خود کو قانون سمجھنے کے مرض میں افاقہ ہوگا۔ مزید طاقتور ادارے پولیس کو بطور ٹشو پیپر اپنے مقاصد کے لیے آسانی سے استعمال نہ کر پائیں گے۔ ایسی اصلاحات سے جرم ، سیاست اور پولیس کی تکون اگر ٹوٹ نہ بھی سکی تو کمزور ضرور پڑ جائے گی۔
مزید برآں دیگر طاقتور اداروں کا شہری علاقوں میں انتظامی مداخلت کا جواز ختم ہوجائے گا۔ یہ درست ہے کہ امن و امان کی غیر معمولی ابتری کے دیگر مسلح اداروں کی مدد اور مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے مگر اس کی نوعیت ہمیشہ عارضی رہتی ہے۔ جتنا پولیس کو کمزور رکھا جائے گا اتنا ہی دیگر طاقتور اداروں پر تکیہ بڑھتا چلا جائے گا۔ یہ بھی دھیان رہے کہ کوئی فرد ہو یا ادارہ اضافی بوجھ تب تک نہیں اٹھاتا جب تک کسی صلے، منافع یا مزید اختیارات کے ذریعے روزمرہ زندگی کنٹرول کرنے کی قوت حاصل ہونے کی امید نہ ہو۔

چنانچہ پولیس کو اگر واقعی تمام بیساکھیوں سے آزاد کرکے پاؤں پر کھڑا کر دیا جائے گا تو بہت سوں کی روزی روٹی ، اللے تللے اور اضافی اختیارات و مراعات  خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا فائدہ اسی میں ہے کہ پولیس کو گدھا بنا کے اسے ہر طرح کی انتظامی و بدانتظام باربرداری کا سستا ذریعہ بنا کے رکھا جائے۔
یہ جواز بھی پیش کیا جاتا ہے کہ پولیس کی نفسیاتی جڑیں نوآبادیاتی دور کی ذہنیت میں پیوست ہیں۔ لہذا کچھ بھی کرلیں پولیس والا پولیس والا ہی رہے گا۔ نوآبادیاتی جابرانہ سوچ اس کے جینز میں اتر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پچھلے ستر برس میں کیا ہمارے حکمرانوں کو برطانیہ یا امریکا نے پولیس اصلاحات سے روکا ہوا ہے ؟ اگر پرانے آقاؤں کی تقلید ہی سنتِ حکمرانی ہے تو پھر اس عرصے میں برطانیہ نے اپنے پولیس نظام میں جو اصلاحات کیں ان کی نقالی سے آپ کو کس نے باز رکھا ہے ؟

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پاکستان چونکہ پچھلے کئی عشروں سے دہشت گردی کا شکار ہے اور غیر معمولی حالات سے دوچار ہے لہذا ان سے نمٹنا اکیلے پولیس کے بس کی بات نہیں۔ ان غیر یقینی حالات میں وہ کوئی خود مختارانہ کردار ادا نہیں کر سکتی۔ بس مددگار اور ذیلی کردار ہی نبھا سکتی ہے۔ لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اگر پولیس کو شروع سے ہی خود مختار اور جدید خطوط پر استوار کیا جاتا اور انھیں شہریوں کو انسان سمجھنے کی تربیت دی جاتی تو آج ہمارے شہروں اور قصبوں کے گلی محلے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہ ہوتے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس ریفارمز اور ان کے ملازمتی حالات بہتر بنانے کے وسائل میسر نہیں۔ چنانچہ دیگر زیادہ منظم اداروں سے مدد لینا ایک مجبوری ہے۔مگر یہ جواز دینے والے یہ نہیں بتاتے کہ ایک اچھی پولیسنگ کے لیے ابراہام ٹینک یا ایف سولہ نہیں چاہئیں۔ بس تھوڑی سی عزتِ نفس ، بنیادی پیشہ ورانہ سہولتیں اور آلات ، خاندانی تحفظ اور طاقتوروں کی بیگار سے آزادی اور مورال برقرار رکھنے کے لیے اچھے کام پر انعام اور برے کام پر سرزنش کافی ہے۔اس پروجیکٹ میں آخر کتنے پیسے لگتے ہیں ؟

ہاں دوسرے ادارے زیادہ منظم ، پیشہ ور اور مستعد ہیں۔ مگر سوچئے کہ اگر کسی رینجر یا فوجی کو نوکری پر آنے جانے کے لیے ہر راہگیر کو ہاتھ کا اشارہ کرکے لفٹ لینی پڑ جائے ، اگر اسے بھوکے پیٹ شاہراہوں اور چوکوں پر گھنٹوں کھڑا رکھا جائے ، اگر اسے سب کے سامنے گاہے بگاہے بے عزت کیا جاتا رہے ، زخمی ہونے کی صورت میں اسے ایک خاص مدت اور خاص بجٹ کے بعد اپنا علاج خود کروانا پڑے ، اگر اس کے نام سے کوئی سڑک یا عمارت منسوب نہ ہو ، اگر لڑتے ہوئے شہید ہونے کے بعد اس کے لواحقین کے لیے اعلان شدہ معاوضے کو حاصل کرنے یا پھر پنشن وصولی کے لیے ایک سے دوسری جگہ اس کی بیوہ  بیٹی یا زیرِ تعلیم بیٹے کو دھکے کھانے پڑیں ، خوشامدیں کرنی پڑیں تو پھر میں پوچھوں کہ کسی بھی فورس کے کسی بھی سپاہی کے پروفیشنل ازم اور مورال کا لیول کیا ہوگا ؟

زیادہ دور نہیں جاتے سامنے کی مثال لے لیتے ہیں۔ یہی راجن پور پولیس تھی جس نے صوبائی حکومت کی جانب سے ایکشن کی آزادی اور لاجسٹک حمایت ملنے کے سبب جولائی دو ہزار گیارہ میں چھوٹو گینگ کو تینوں دریائی جزیروں سے فرار ہونے پر مجبور کردیا ، دو سو پچانوے اشتہاریوں کو گرفتار کیا اور بائیس پولیس پکٹس قائم کیں۔ کچھ عرصے بعد اس مہم کی قیادت کرنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر سہیل ظفر چٹھہ کا تبادلہ ہوگیا۔ اس کے بعد لگ بھگ ڈیڑھ برس تک یہ پوسٹ خالی رہی کیونکہ کوئی ایسا ڈی پی او نہیں مل رہا تھا جو مقامی خداؤں کو پسند آ سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی ماہ بعد چھوٹو کی سلطنت دوبارہ بحال ہوگئی اور اس نے جولائی دو ہزار تیرہ سے لے کر تاحال جتنی بار بھی پولیس ایکشن ہوا اتنی بار پولیس والوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا ، ہلاک کیا  یرغمال بنایا۔ تاآنکہ فوج کو طلب کرنا پڑا۔

سوال یہ ہے کہ اگر پولیس اتنی ہی نااہل تھی تو دو ہزار گیارہ میں اسے کیوں کامیابی ملی اور پھر ذلت مسلسل اس کا مقدر کیوں بنتی رہی ؟ ہاں پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی۔ مگر پولیس کی مدد کون کرے ؟ انھیں ایک نارمل عوام دوست پروفیشنل سپاہی یا افسر بنانے میں ، ان کا ہر دکھ سکھ میں ساتھ دینے اور عزتِ نفس برقرار رکھنے میں اور اسے بے دھڑک اس یقین کے ساتھ جان دینے کے لیے تیار کرنے میں کہ کہ تم چلے بھی گئے تو ریاست تمہارے بچوں کی نگہبان ہے ؟ یہ سب ممکن ہے۔ اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ مگر پھر وہ کالی بھیڑ کہاں ملے گی کہ جس پر اپنی اپنی نااہلیوں اور بدانتظامیوں کا وزن لادا جا سکے۔

وسعت اللہ خان


No comments:

Powered by Blogger.