Header Ads

Breaking News
recent

کامیاب فنکار ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 1946 کو کوئنز ٹاؤن، نیویارک میں پیدا ہوئے۔ وہ اربوں ڈالر کے مالک ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ بزنس مین ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2004 میں این بی سی یونیورسل چینل کے ڈرامہ ’’دی اپرنٹس‘‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ جس کی کامیابی کے بعد اُسی چینل کے دوسرے ڈرامے ’’دی سیلبرٹی اپرنٹس‘‘ میں کام کیا- اُن کی ازدواجی زندگی بھی اُن کے بزنس کی طرح بدنامی کا شکار رہی۔ 1991 میں اپنی پہلی بیوی ’’ایوانا‘‘ کو طلاق دے کر اداکارہ مارلامیپلز سے شادی کرلی۔ لیکن 1997 میں اُسے بھی طلاق دے دی اور پھر 2005 میں بڑی دھوم دھام سے ماڈل میلنا کنساس سے تیسری شادی کرلی۔

ڈونلڈ نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1999 میں امریکہ کے صدارتی اُمیدوار کے طور پر کیا لیکن ووٹرز کا مایوس کن ردعمل دیکھ کر وہ دست بردار ہوکر واپس بزنس اور اداکاری کی طرف چلے گئے۔ لیکن سیاست کا شوق اُن کے دماغ میں جاگزیں رہا۔ اس سال ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن صدارتی اُمیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو اُن کی پوزیشن بہت کمزور تھی، لیکن اُنھوں نے اپنے نفرت انگیز اور شر انگیز بیانات کے ذریعے جلد ہی امریکی سفید فام اکثریت کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور آج وہ ری پبلکن پارٹی کے سب سے مضبوط اُمیدوار ہیں۔

 میتھیوہیم بیک جو ایک سفید قوم پرست لیڈر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن جیسے نیند میں مدہوش سفید فاموں کو جگا دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت کا پہلا نشانہ میکسیکن کمیونٹی بنی، جنہیں ڈونلڈ نے امریکہ میں تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ میکسیکن بارڈر پر 2 ہزار میل لمبی دیوار لگا دیں گے، تا کہ میکسیکن امریکہ میں داخل نہ ہوسکیں۔ اُن کے اس بیان پر این بی سی چینل نے اُن کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے معافی مانگنے کے بجائے چینل کے خلاف 500 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔

جب فاکس نیوز کی میزبان میگن کیلی نے اُن سے سوال کیا کہ وہ بعض عورتوں کے لئے نازیبا الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا ’’جو مجھے کہنا ہوتا ہے وہ میں کہتا ہوں‘‘۔ اس سے پہلے اپنی ہی پارٹی کے سینیٹر جان مکین بھی اُن کے تعصب کا نشانہ بنے۔ 18 جولائی 2015 کو آئیوا میں تقریر کرتے ہوئے اُنہوں نے جان مکین کے بارے میں کہا ’’وہ جنگی ہیرو نہیں ہے، کیا وہ اس لئے ہیرو ہے کہ اُسے قیدی بنا لیا گیا تھا؟ میں اُن لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو قیدی نہ بنائے گئے ہوں‘‘َ۔ جان مکین نے ویت نام جنگ لڑی تھی اور وہ وہاں جنگی قیدی بنا لئےگئے تھے۔ جہاں اُنہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور صدر اوبامہ کو تو وہ اِس بات پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں کہ وہ پیدائشی امریکی نہیں ہیں۔

میکسیکن کمیونٹی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ شکار مسلمان بنے ہیں۔ چند دن پہلے جب سین برنارڈینو میں ایک مسلمان جوڑے نے 14 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مسلمانوں سمیت تمام مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب حالیہ پولز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن تھوڑی کمزور ہوئی۔ تجزیہ نگاروں نے اس بیان کو ایک سیاسی شاطر اور ابن الوقت کا بیان قرار دیا۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سیاسی مفادات کے لئے کس حد تک گرسکتے ہیں۔
اُن کے اس بیان کے بعد پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ برطانیہ میں چار لاکھ سے زائد افراد ایک آن لائن عرضداشت پر سائن کرچکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ میں داخلہ بند کیا جائے۔ برطانیہ کے قانون کے مطابق اب اس عرضداشت پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی۔ مشرق وسطیٰ میں مشہور لینڈ مارک گروپ نے ٹرمپ کی گھریلو مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے تمام اسٹورز سے ٹرمپ مصنوعات ہٹالی ہیں۔

صدر اوبامہ، بان کی مون، فیس بُک کے بانی مارک زکر برگ، مشہور باکسر محمد علی، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت دنیا کے تمام بڑے لیڈروں نے اس بیان کی مذمت کی ہے۔ ری پبلکن پارٹی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنے کی دھمکی دے کر پارٹی کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے کیونکہ پارٹی کو معلوم ہے کہ اس صورت میں اُن کا ووٹ تقسیم ہوجائےگا اور اُن کی ہار یقینی ہوجائے گی۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی دیکھیئے کہ اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں کسی کی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں صحیح کر رہے ہیں۔

اِن حالات میں سب سے پریشان کن بات امریکی مسلمانوں کی حالت ہے جو اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے کے ساتھ ساتھ پریشان، افسردہ اور سہمے ہوئے ہیں۔ بدھ 9 دسمبر کو سان فرانسسکو کے ایک پارک میں چند امریکی مسلمان نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک امریکی عورت نے اسلام کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اپنی ’’کافی‘‘ اور چھتری اُن پر پھینک دی۔

اب جب تک انتخابات نہیں ہوجاتے اُس وقت تک اِسی طرح کی تذلیل کے کتنے ہی واقعات آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو برداشت کرنے ہوں گے اور اِس کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ امریکی صدارت کا امیدوار بھی ہے، یعنی اگر وہ انتخابات جیت جاتا ہے تو امریکہ میں موجود لاکھوں مسلمان تو مشکل میں آئینگے ہی مگر دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل بھی خطرے کا شکار ہوجائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جن کا کوئی مذہب، رنگ اور نسل نہیں ہوتی، اُن کا مذہب، رنگ، نسل اور وفاداری اُن کے مفاد کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی بیمار ذہنوں کی وجہ سے آج دنیا جنگل بنی ہوئی ہے۔ جہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون چلتا ہے۔

محمد آصف 

  

No comments:

Powered by Blogger.