Header Ads

Breaking News
recent

مقدس جنگ ۔۔۔ صلیبی جنگ

ایک نامور تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں یہ خبر 'بریک 'کی ہے کہ سندھ میں نئی یعنی 'حقیقی' پیپلز پارٹی بنائی جا رہی ہے۔ یہ ''حقیقی'' ذوالفقار مرزا کی قیادت میں بنے گی جسے راجا بازار کی بھگوی حویلی سے 'مولا جٹ' کا خطاب ملا ہے۔ کالم نگار کی خبر کے مطابق سندھ ارکان اسمبلی میں جوق در جوق اس ''حقیقی'' میں شامل ہو جائیں گے اور قائم علی شاہ اکیلے قائم دائم رہیں گے۔

یہ فیصلہ یقیناً ہوا ہو گا اور خبر بے شک درست ہو گی کہ دوسرے قرینے بھی ایسے ہی اشارے دے رہے ہیں۔ لیکن اس بات کی کوئی ضمانت کہاں سے ملے گی کہ یہ ''حقیقی'' کامیاب بھی ہو گی، دوسری فنکشنل لیگ بن کر نہیں رہ جائے گی۔ مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل سندھ کی ساری لال حویلیوں کو اکٹھا کر کے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے لیے قلعہ بند کیا گیا لیکن یہ ساری قلعہ بندی ڈھیڑ ہو گئی۔ پتا چلا کہ ریت سے بنی تھی۔ دوسرے مرحلے میں ذوالفقار مرزا والی قلعہ بندی پھر بھی کامیاب رہی جس کی وجہ شائد یہ تھی کہ یہ قلعہ ذوالفقار مرزا کا اپنا تھا۔ لال حویلیوں کی ریت سے نہیں بنا تھا لیکن یہ تو ایک محدود قلعہ تھا، اسے''چوکی''کہنا زیادہ ٹھیک رہے گا۔ اب یہ ''مرزا چوکی'' لال قلعہ کیسے بنے گی؟۔

اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ لال حویلیوں کے ''سائبان'' کو پیپلز پارٹی کا خاتمہ کر کے، یعنی اسے 'حقیقی' بنا کر ملے گا کیا۔ متحدہ کو اسی سائبان نے بنایا اسے کیا ملا؟۔ پھر اس کے خلاف آپریشن کیا تو اس سے یہ ملا کہ اس کا ووٹ بینک پہلے سے بڑھ گیا جیسا کہ اہل کراچی بتاتے ہیں، یہاں تک کہ اب الیکشن ملتوی کرنے کا خیال پک رہا ہے اور ساتھ ہی اس احتیاط کی داد بھی دیجیے کہ ملتوی اس طرح کرانا چاہتے ہیں کہ الزام متحدہ پر آئے کہ اس نے بائیکاٹ کرایا اس لیے مجبوری ہے لیکن یہاں تیسرا سوال ہے کہ اگر متحدہ نے بائیکاٹ نہ کیا تو ۔۔۔؟پھر جو بحران ہو گا اس سے نمٹنے کیلیے نسخہ کہاں سے ملے گا؟۔۔۔ اور آخری اور پانچواں سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ کو ''حقیقی'' بنانے کی باری کب آئے گی۔ مشرف نے ''قاف'' بنائی، وہ اب پاکستان میں نہیں پائی جاتی، سنا ہے کوہ قاف کو ہجرت کر گئی۔
روس کے چرچ نے فتوی جاری کیا ہے کہ شام کی جنگ ''صلیبی جنگ'' ہے۔ ماسکو سے جاری ہونے والے اس فرمان میں صلیبی جنگ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی لیکن کہا گیا ہے کہ مقدس جنگ  ہے۔ بات تو وہی ہے، کان سامنے پکڑ لو یا ہاتھ گھما کر، وہی مقدس جنگ اور وہی صلیبی جنگ۔ روس کا چرچ آرتھوڈاکس کہلاتا ہے اور مسیحیت کا تیسرا بڑا چرچ ہے۔ پروٹسٹنٹ چرچ یعنی امریکا پہلے ہی شام پر حملہ آور ہے، پھر کیتھولک چرچ یعنی فرانس بھی ٹوٹ پڑا۔ گویا مسیحیت کے تینوں بڑے چرچ مسلمانوں یعنی'دہشت گردوں'' سے صلیبی جنگ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہیں، اسے آرمز ریس کی طرز پر کروسیڈ ریس کہہ لیجئے۔

جب امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملے کو ''کروسیڈ ''کہا تھا اور ان کی یہ تقریر پوری دنیا نے لائیو سنی تھی تو پاکستان نے فرقہ پرویز مشرف عرف روشن خیالی اعتدال پسند حلقے نے عام پاکستانیوں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ یہ تو بش کی زبان پھسل گئی تھی، ورنہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا (یہ نہیں تھا تو شاید وہ ''جہاد'' کہنا چاہتے تھے، کروسیڈ کہ گئے) اب آرتھوڈاکس کے فتوے پر یہ فرقہ پرویز مشرفیہ کیا کہتا ہے۔ تین دن تو گزر گئے فتویٰ جاری ہوئے، ابھی تک سی طرف سے وضاحت نہیں آئی۔ کچھ تو کہیے، زیادہ نہیں تو ''ہماری جنگ'' ہی کہہ دیجیے۔

 مغرب اور امریکا کی ہر جنگ ''مقدس ہوتی ہے'' اور روس بھی مغرب کا حصہ ہے (مشرق پر پھیلے ہوئے روس پر مت جائیے جو بس رقبہ ہی رقبہ ہے۔ 16 میں سے 15 کروڑ آبادی روس کی یورپی حصے میں ہے) دوسری بڑی لڑائی میں امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم برسا کر لاکھوں انسانوں کو جلا کر بھسم کر دیا تھا۔ ان میں 75 ہزار بچے تھے اور پھر کئی لاکھ آنے والے برسوں میں ٹرپ ٹرپ کر مرے، ان میں بھی بے شمار بچے تھے۔

 اس وقت امریکا کا صدر ہنری ایس ٹرومین نامی شیطان تھا۔ اس موقع پر اس شیطان نے قوم سے خطاب فرمایا تھا اور ایٹم بم کو''خدا کا تحفہ''قرار دیا تھا۔ اپنی اس تاریخی تقریر میں ہنری ایس شیطان نے کہا کہ، ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایٹم بم دیا۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری رہنمائی کرے تاکہ ہم اسے (ایٹم بم کو) خدا کے راستوں پر اور خدا کے مقاصد کیلیے استعمال کر سکیں۔

خدا کے مقاصد؟ خدا کا حکم ہوتا ہے اور منشا ہوتی ہے، مقصد نہیں۔ ہنری ایس ٹرو شیطان الومنیاٹی  کا رکن تھا جو شیطان کو خدا مانتی ہے، اسی لیے ہنری نے کہا کہ ہم ''اس ''کے مقاصد ایٹمی ہتھیار چلا کر پورے کریں گے، پھر امریکا نے افغانستان میں بھی ایٹمی ہتھیار چلائے اور عراق میں بھی (ہنری ایس ٹرو شیطان کی آڈیو ویڈیو تقریر کیلیے  ڈاکومنٹری دیکھئے اور بھی کئی جگہ یہ تقریر موجود ہے۔) اس میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح جاپان پر ایٹمی حملوں کے بعد امریکی قوم جشن مناتے، سڑکوں پر ناچتی گاتی نکل آئی اور گھنٹوں شراب پیتی اور بوتلیں اچھالتی رہی، قربان جایئے ہماری اسٹبلیشمنٹ کے کہ پاکستان کو اسی امریکا کا غلام بنا ڈالا۔ اس سے تو اچھا تھا انگولا، یوگنڈا کا غلام بنا دیتے۔ انسان کے غلام ہوتے، شیطان کے غلاموں کے غلام نہ ہوتے۔

''جہان ِپاکستان''نے کل یہ خبر چھاپی ہے کی چین کی طرف سے قرضے کی کوئی شرطیں لگائی گئی ہیں جن کی وجہ سے لاہور کے ٹرین منصوبے میں تاخیر کا خدشہ ہے۔ خادم اعلی چین کے باب میں جادوگر ہیں، وہ کوئی حل نکال ہی لیں گے اور وہ ریل بن کر رہے گی جس کے برابر کی مہنگی ٹرین امریکا میں ہے نہ جاپان میں، وہی ٹرین جس کے بارے میں ماہرین اب تک سوچ کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں کہ آخر اس سے فائدہ کیا ہو گا، سوائے اس کے کہ سڑک کے بیچوں بیچ ایک لمبا معلق جادوئی پل بنا نظر آئے گا۔

بہرحال خوش کرنے ولا بیان وفاقی وزیر احسن اقبال نے دیا ہے کہ پشاور اور کوئٹہ سے درمیان ریل بچھے گی۔ اس وقت کوئٹہ سے پشاور اور پشاور سے کوئٹہ جانے والوں کو پورا پنجاب گھوم کر جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر ایسے ہی ہے جیسے کراچی سے حیدرآباد جانے کیلیے آپ پہلے دادو پھر سکھر، وہاں سے ملتان اور اس کے بعد سبی جائیں۔ سبی سے قلات، وہاں سے جیکب آباد کے راستے روہڑی پہنچیں اور وہاں سے ٹرین پکر کر حیدرآباد جا پہنچیں۔

 پاکستان بنے 69 برس ہو چلے، کسی نے اس مختصر سے روٹ کو پٹڑی سے ملانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اس روٹ کی تعمیر پر لاہور کی جادوئی ٹرین سے کہیں کم خرچ آئے گا اور ہر سال کروڑوں شہری فائدہ اٹھائیں گے۔ حکمران نئی ریل کی پٹڑیاں بچھانے اور جو بچھی ہوئی ہیں ان پر زیادہ گاڑیاں چلائیں۔ 

عبداللہ طارق سہیل

بشکریہ روزنامہ 'جہان پاکستان'

No comments:

Powered by Blogger.