Header Ads

Breaking News
recent

اے شہر مکہ

اے شہرِ مکّہ .... تُو شہرِ عتیق ہے کہ تیرے اندر بیت العتیق ہے۔ اے شہرِ مکّہ‘ تُوشہرِ قدیم ہے کہ تیرے اندر بیت ِ ذاتِ قدیم ہے ۔ اے شہرِ مکّہ....تُو اُمّ القریٰ ہے تُو اُس مشفق ماں کی طرح ہے جو ہر قرئیے ‘ہر شہر سے آنے والوں کو اپنی محبت بھری آغوش میں سمیٹ لیتی ہے ۔ اے شہرِ مکّہ....تُو بَلَدُ الامین ہے ‘ تومخلوقاتِ عالم کی پناہ گاہ ہے‘ جو تیرے پاس پہنچا‘ اُس نے اَمن پایا .... خوف اور بھوک سے نجات حاصل کی۔ 

جس نے اس شہرِپُرسکوں کا سکون برباد کیا ‘وہ خود برباد ہوا زمانے میں اُس کا نشان تک نہ رہا.... اگر کوئی نشان رہا بھی تو عبرت کا نشان بن کررہا۔کتنے ہی زمانے تیرے آگے پیچھے اوردائیں بائیں گُم ہوگئے مگرتُو زمانے میں کبھی گُم نہ ہوا ‘ زمانے کا ہر نشان مٹ جائےگا مگر تیرانشان باقی رہے گا کہ تیرے اندر اُس خدائے حیّ و قیّوم کا گھر ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ وہ ایسا قائم ہے کہ ہر زمانہ ‘ اُس کا زمانہ ہے.... بلکہ وہ کہتاہے کہ زمانہ وہ خود ہے۔ آدم ؑ تا ایں دم کتنے ہی انسانوں نے تیری گود میں سانس لیااور اپنی روح اور جسم دونوں کاسامان لیا۔ تیرے اندر محبت کاایک نہ ختم ہونیوالازم زم ہے ‘ جوکبھی نہیںٹھہرتا  یہ زم زمہ کا فیض تیری فضاﺅں اور نداﺅں میں چاروں اور بہہ رہاہے ۔
اے شہرِ مکہ ! تیری عظمت کا سکّہ دوسرے شہروں پر اس طرح قائم ہے جس طرح قرآن کی عظمت دوسری کتابوں پر !! تیری عظمت کا ڈنکا چار دانگِ عالم میں بج رہا ہے۔ تیری فضیلت دنیاکے ہر شہر پر کیسے قائم نہ ہو....کہ دنیائے عالم میں جہاں بھی بندگان ِ خداہیں ‘ اُن کی جبینِ نیاز تیری ہی زمینِ ناز کی جانب جھکی ہوئی نظرآتی ہے۔ تو مرکز البلاد ہے ۔دنیاکے ہر شہر کی مسجد تیری ہی جانب قبلہ رُو ہے۔ اطرافِ عالم سے تیری طرف سفر کرنے کا قصد کرنا عبادت ہے۔اِس متناہی دنیا میں تُو لامتناہیت سے عبارت ہے۔ اے شہرِ مکّہ! تجھ میں کعبتہ اللہ ہے‘ بادشاہوں کے اُٹھائے ہوئے محلات اورفلک بوس عمارتیں عظمتِ کعبہ کے سامنے زمین بوس ہو جاتی ہیں مگر بیت اللہ کی عمارت ہے کہ اسکی ہیبت و جلالت بدستور بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ۔
اللہ اکبر! کعبہ کی عمارت ”اللّٰہ اکبر“کی ایک تفسیر ہے۔ فانی انسانوں کی تعمیر کردہ عمارتوں اور اَمارتوں کو وقت کی دیمک کھا جاتی ہے۔ جب وقت کا پہ یہ چلتا ہے تو بلندو بالاعمارتیں اپنے ہی بوجھ سے گرنے لگتی ہیں مگر سیاہ پتھروں کی ایک سیاہ پوش عمارت ہے ‘جو سادگی سے کچھ اس طرح عبارت ہے کہ عظمت میں سب عمارتوں سے بلند ہے۔ جلالت میں ہرعمارت سے بالا ہے ....آخر ایساکیوں نہ ہوکہ کعبہ کی دیواریں اینٹ‘ چونے ‘پتھر سے نہیں بلکہ خونِ وفا سے تعمیر کی گئی ہیں۔ اے شہرِ مکہ ‘تجھے زمانے میں ثبات کیونکر نہ حاصل ہو کہ تیرے یہاں ہی تو اللہ کے دوست کا پائے ثبات ثبت ہے ۔ مقامِ ابراہیم ؑ‘ نشانِ قَدم بھی ہے اور نشانِ قِدم بھی

اے رب کعبہ ! تیری شانِ قِدم کا جلوہ اِس عمارت کی صورت میں اُس مخلوق کے سامنے عیاں ہے جو قدم قدم پر حَدث کاشکارہے۔اے معبودِقدیم! بے شک تیرا قِدم ہی تیری بڑائی ہے ‘اوربندے کا حَدث ہی اس کی عاجزی ہے۔ اے معبودِ مطلق‘ تجھے نیند آتی ہے نہ اونگھ.... اور نہ تجھے تھکن ہی لاحق ہوتی ہے مگر یہ کہ مخلوق بندگی کرتے کرتے تھک جاتی ہے۔ طواف کرتے کرتے قدم تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا کہ ا نسان کا دل بھی تو تیراہی گھر ہے 

اے معبودِ برحق ! یہ حق ہے کہ تُو بے نیاز ہے مخلوق کی سب عبادتوں سے .... ریاضتوں سے ....تُو چاہے تو محبت سے بھری اُس ایک نظر کو قبول کرلے جو بار بارتیرے گھرکی طرف لوٹ کر جاتی ہے .... نظر نہ ٹکتی ہے ، نہ تھکتی ہے....تُو چاہے تو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والے کا دل صدق وصفا سے بھر دے .... تُو چاہے تو اِسکی آنکھوں میں مروّت و مودّت کی جوت جگا دے‘ یہ ہوتو سعی بھی قبول ہو ‘یہ نہ ہو تو ہر سعی .... ایک سعی لاحاصل 

اے حرم ِکعبہ ! تیری عظمت کا ستارہ اس سمے کس اوج پر ہوگا‘ جب تیرے رب کا محبوب رسول تیرے گرد محوِ طواف ہوتا ہوگا۔ اے مطاف ِحرم ! ایک کلمہ گو کے نزدیک تیری حرمت کیلئے یہی کافی ہے کہ تُوسرکارِ دوعالم کی اونٹنی کے تلووں تلے لوٹ پوٹ ہوئی۔ اے سرزمینِ مکہ! تیری عظمت کیلئے یہی کافی ہے کہ تو مسلسل ترپن (۳۵) برس آقائے دوجہاں کے نعلین کو چومتی رہی۔ دیکھ !نقش ِکف ِ پائے محمدﷺکے صدقے تیری عمر حشر تک دراز کر دی گئی ....تُو اب کبھی پائمال نہ ہوپائے گی۔

 اپنی بلند نصیبی پر ناز کر.... تجھے ایسے فاتح ِعالم نے بغیر جنگ کئے فتح کر لیاکہ اب تُوکبھی مفتوح نہ ہوگی۔ اَے فضائے مکہ! تجھ میں کبھی اُس مشام ِ جاں نے سانس لیا تھا .... جو کُل کائنات کی رُوح ِ حیات ہے۔پس اُسی کے دَم قدم سے تُوہمیشہ کیلئے ایسے معطر ہوگئی کہ اب تیری ہوائیں تاقیامت ہر زائر کو معطر بھی کرتی رہیںگی اور مطہر بھی 

اے شہر ِمکہ! ....آخر تُو عالم کو محبوب کیوں نہ ہوگا‘ جب تو محبوبِ ربّ العالمین کو محبوب ہے 

  اظہر وحید
"بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت

No comments:

Powered by Blogger.