Header Ads

Breaking News
recent

ارب پتی کلب...


ارب سے زائد انسانوں، سات براعظموں اور دو سو کے قریب چھوٹے، بڑے ممالک پر مشتمل اس وسیع و عریض عالمی گاؤں کے چوہدریوں، اس کے کرتا دھرتا، فیصلہ سازوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں۔ وہ 1826ء افراد جو نہ حکمران ہیں، نہ جرنیل۔ لیکن دنیا کے وسائل کے اصل مالک یہی وہ طاقتور ترین افراد ہیں، وسائل کے اعتبار سے دنیا کی مجموعی دولت کے خزانوں کے وہ سانپ ہیں۔ جن کے زیرقبضہ اثاثوں کی مالیت میں ایسے ہی اضافہ ہوتا ہے جیسے برسات کے موسم میں خود رو کھمبیاں اگ آتی ہیں۔ دن دگنی تو رات کو چوگنی ترقی۔ رپورٹ صرف، کم مائیگی کا احساس ہی نہیں دلاتی بلکہ ایسی بے بسی کی کیفیت میں بھی مبتلا کر دیتی ہے جو جسم و جاں سے توانائی کی آخری رمق بھی نچوڑ ڈالے۔ کم ہمتی اور لاچارگی ایسی کیفیت۔ ایسی رپورٹوں تک ہم عامیوں کی رسائی ذرا کم ہی ہوا کرتی ہے۔

وہی اطلاعات تک رسائی نہ ہونے کا معاملہ۔ وہی محنت نہ کرنے کی عادت۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ریسرچ نہ کرنے کی اصل وجہ راضی بہ رضا رہنے کی خیالی دنیا۔ یہ سمجھ کر بیٹھے بلکہ لیٹے رہنے کا شاخسانہ کہ رب کائنات نے کچھ خوش نصیبوں کو دولت سے نوازا ہے۔ ان پر ہن کی بارش کر رکھی ہے تو یقینی طور پر ان کی خوش بختی اور ہم دو ٹانگوں پر چلتی مخلوق میں سے اکثریت کے مقددرات۔ وہ تو بھلا ہو انٹرنیٹ کا۔ اب اس کی بدولت ایسی کلاسی فائیڈ رپورٹیں۔ خفیہ دستاویزات اور ایسے رسائل و میگزین بھی عام آدمی کی دسترس میں آ چکے جو گلیمرس دنیا کے پس پردہ اصل حقیقتوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ بہت زیادہ طویل نہ مختصر، میز پر کئی روز سے پڑی ہے۔ جو بتاتی ہے کہ اتنی بڑی دنیا کی طاقت، اس کے وسائل، چند ہاتھوں میں سمٹ چکے۔ باقی سب کچھ دکھاوا۔
ملمع سازی، فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آزادی، انسانی حقوق، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، حریت پسندی، سب کے سب محض دکھاوا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف 1826ء خاص انسانوں کے پاس 7 کھرب 15 ارب ڈالر مالیت کی دولت اور اثاثہ بطور ملکیت ہیں۔ یاد رہے کہ بات آمدنی کی نہیں۔ بلکہ صافی دولت کی ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین اور بینکاری ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل مارکیٹ میں 2014ء میں گلوبل ہاؤس ہولڈ ویلتھ کا والیم دو سو تریسٹھ ٹریلین ڈالر کا لگایا گیا۔ دولت کے یہ ماؤنٹ ایورسٹ زیادہ سے زیادہ چند ہزار افراد کی تجوریوں میں محفوظ پڑے ہیں۔ باقی اربوں انسانوں کو جو کچھ ملتا ہے وہ اتنا ہی جتنا شراب کے پیندے میں بچی کھچی تلچھٹ۔ ہماری اور آپ کی دنیا جس میں ہم سب کو فی الحال مفت میں آکسیجن پھپھڑوں میں اتار کر آتی جاتی سانسوں کا سلسلہ ہموار کرنے کی مفت عیاشی میسر ہے۔ اس دنیا میں ہر سال کروڑوں انسان خط غربت سے نیچے کی افلاس سے پر دنیا میں دھکیل دیئے جاتے ہیں۔ اسی دنیا میں مارکیٹوں پر راج کرتی کرنسی ڈالر میں ارب پتیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

 ارب پتی، خواص کی کل تعداد ایک ہزار چار سو چھبیس تھی۔ لیکن صرف ایک سال کے وقفہ میں 2014ء کے آغاز تک قارون کے ہم قبیلہ ان افراد کی تعداد بڑھ کر اٹھارہ سو چھبیس تک پہنچ گئی۔ مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک میدان کار زار گرم رہے۔ بارود کی بارش ہوتی رہی۔ جنگی سازوسامان تیار کرنے والی فیکٹریوں کی چمنیاں گاڑھا سیاہ دھواں اگلتی رہیں۔ جب تک دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضہ اور بالادستی کی جنگ جاری رہے گی۔ مٹھی بھر افراد کی دولت، ان کے اثاثوں، طاقت، اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ عالمی گاؤں کے یہ ایک فیصد فرعون، ایک سو دس ہزار ارب ڈالر سرمائے کے مالک ہیں۔ یہ دنیا بھر کے غریب متوسط طبقے کی بچت سے بچائے پیسوں سے 65 گنا زیادہ ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا تخمینہ ہے کہ یہ دنیا کے 85 فیصد غریب کی کل دولت کی تعداد ان افراد کی مجموعی دولت سے بھی کم ہے۔ گزشتہ 30 سالوں میں 100 سے زائد ممالک ایسے ہیں جن میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کی خلیج روز بروز گہری ہو رہی ہے۔ گویا دنیا کے نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسا میکنزم، کوئی ایسی خفیہ فیکٹری، کوئی ایسے پوشیدہ ہاتھ ضرور ہیں جہاں ارب پتیوں کی مینوفیکچرنگ ہوتی اور غریبوں کو ایکسپائر شدہ آئٹم کی طرح ضائع کیا جا رہا ہے۔

یہ نظام، یہ فیکٹری، پوشیدہ ہاتھ وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، میڈیا کے ادارے اور مجبور محض حکومتیں اور وہ غیر حقیقی جمہوری نظام ہے جو امیر کو امیر تر اور غریب کے گلے میں افلاس کا پھندہ کستا چلا جاتا ہے۔ دنیا کے وسائل پر قابض یہ ایک فیصد اقلیت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے بنی نوع انسان پر حکمرانی کرتی اور اپنی دولت میں اضافہ کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ کر کے بین الاقوامی سطح پر ایسے قوانین بنوائے جاتے ہیں جو کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے چور دروازے فراہم کرتے ہیں۔ ٹیکس چوری کے راستے تلاش کئے جاتے ہیں۔ معاشی رازداری کے نام پر اصل زر کو چھپانے کے لئے کور دیئے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر زرعی اجناس کو اپنی مٹھی میں رکھا جاتا ہے۔ پانی اور دیگر قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت ایسی سہولیات پر بجٹ خرچ کرنے کی بجائے لائف سٹائل اپنانے کی تلقین و ترغیب دی جاتی ہے۔ اس ترغیبی مشن میں کارپوریٹ میڈیا بنیادی کردار ادا کرتا ہے جو عوام کو بتاتا ہے کہ مسی روٹی کی بجائے پیزا فیشن اور تہذیب کی نشانی ہے۔

جو مسواک کی بجائے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے پر اکساتا ہے۔ جو ٹماٹر کی چٹنی کی بجائے اشتہاانگیز کیچ اپ دکھا کر غریب کی جیب کاٹتا ہے۔ جو گھر کے کھانے کی بجائے برگر اور لیموں کی سکنجبین کو چھوڑ کر پیپسی اپنانے کی راہ دکھاتا ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے جو سبق دیتا ہے کہ محلے کے درزی کی بجائے بوتیک سے برانڈڈ کپڑوں کی خریداری کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ قسطوں پر ٹی وی، فریج اور لیزنگ کی گاڑیاں خریدنے کے لئے نت نئے حربے سکھاتا ہے۔ بھارت ایسے ملک میں سوا ارب آبادی میں سے صرف ایک درجن افراد ایسے ہیں جن کی جیبوں میں 250 ارب ڈالر ٹھنسے ہوئے ہیں۔ باقی بھارت کرکٹ، شوبز کی گلیمرس دنیا کا اسیر ہے۔ ایسی ہی صورت حال وطن عزیز میں ہے۔ جہاں وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے۔ ایسے خاندان جو حکومت پاکستان میں، لیکن سرمایہ کاری بیرونی ممالک میں کرتے ہیں۔ جو بین الاقوامی شہری ہیں۔ بس ووٹ پاکستان میں درج ہے۔ دنیا کی دولت کے یہ مالک ایک فیصد ارب پتی، آپس میں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ڈائریکٹر شپ، سٹاک مارکیٹ کے حصص اور مفادات کے ناطوں سے رشتہ داریوں میں جکڑے ہوتے ہیں۔ ارب پتی کلب کے یہ ارکان ایک دوسرے کے رشتے دار اور ان کی رگوں میں ایک ہی خون، ڈالر، پونڈ بن کر دوڑتا ہے۔ ان کا ڈی این اے ایک دوسرے سے میچ کرتا ہے۔

طارق محمود چوہدری

بشکریہ روزنامہ "نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.