Header Ads

Breaking News
recent

یہودی دنیا پر کیوں چھائے ہوئے ہیں؟.....


وہ بھی ایک وقت تھا جب دنیا کے بیشتر ممالک پر مسلمانوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی۔ مسلمانوں کا طوطی بولا کرتا تھا۔اہل مغرب ہماری مثالیں دیا کرتے تھے۔ہم ہی تھے جنہوں نے دنیا کو تہذیب سکھائی۔ طب و دیگر شعبوں میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات کا اعتراف پوری دنیا نے کیا۔ ابن خلدون،بو علی سینا، ابن بطوطہ، جابر بن حیان سمیت الرازی کے کارناموں کو کون نہیں جانتا۔ مگر پھر قسمت ایسا روٹھی کہ آج تک روٹھی ہوئی ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے والے اپنی قدرو منزلت گنوا بیٹھے اور آج دنیا کے بیشتر وسائل اور نظام پر یہودی قابض ہیں۔ آج کے کالم میں تفصیل سے اس کا جائزہ لیں گے کہ ایسا کیوں ہے کہ یہودی تمام شعبہ ہائے زندگی میں مسلمانوں پر سبقت لے گئے ہیں؟ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے قدر و منزلت کے بلند مرتبے مسلمانوں سے روٹھ گئے؟ہم ہمیشہ یہ تو تنقید کرتے ہیں کہ یہودی پوری دنیا کا نظام و انصرام چلانے میں مصروف عمل ہیں مگر ہم یہ کبھی غور نہیں کرتے کہ مسلمان ایسا کیوں نہیں کرپارہے؟ اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مسلمان اپنی

غفلتوں کے سبب ترقی کی منازل سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں

 گنوادی ہم نے اصلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا 

 کچھ چشم کشا ء حقائق قارئین کے گوش گزار کروں گا۔

دنیا میں یہودیوں کی کل آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب ہے۔ یہ تعداد امریکہ میں 70 لاکھ ،ایشیائی ممالک میں 50 لاکھ ،افریقہ میں ایک لاکھ اور یورپ میں 20 لاکھ کے قریب ہے۔ جبکہ دنیا میں مسلمانوں کی کل آبادی ایک ارب 50 کروڑ سے زیادہ ہے۔ جن کی امریکہ میں تعداد 60 لاکھ، ایشیاء اور مشرق وسطی کے ملکوں اور ریاستوں میں تقریبا ایک ارب،افریقی ملکوں میں 40 کروڑ اور یورپ میں 4 کروڑ 40 لاکھ ہے۔اس وقت دنیا کی 20 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا میں اس وقت ایک ہندو کے مقابلے میں دو مسلمان ہیں۔ جبکہ بدھ مت میں بھی یہی تناسب ہے مگر ایک یہودی شخص کے مقابلے میں ایک سو سات مسلمان ہیں مگر اس کے باوجود صرف ایک کروڑ 40 لاکھ یہودی ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں سے زیادہ طاقتور کیوں ہیں؟حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ کوئی عجوبہ یا معجزہ نہیں ہے بلکہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں ۔اگر دنیا کی تاریخ کے کچھ روشن ناموں پر سے پردہ اٹھایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی اکثریت ان میں شامل ہے ۔

البرٹ آئن اسٹائن، کارل مارکس،ملٹن فریڈمین،پال سموئیلسن اور سیگمنڈ فرائڈ یہودی تھے۔ اگر طب کے شعبے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پولیو کے علاج کا موجد جوناس سالک،خون کے کینسر کے علاج کا موجدجیر ٹرودایلون،ٹیکہ لگانے والی سرنج کا موجدبنجمن روبن،یرقان کے علاج کا موجدباروخ سموئیل،جنسی امراض کے علاج کا موجد پال اہر لیخ ،اس کے علاوہ اینڈریو شالی،ایرون بک،جورج والڈ،اسٹینلی کوہین سمیت متعدد یہودی اس فہرست میں شامل ہیں۔ کچھ ایسی ایجادات جنہوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ان میں بھی یہودی سرفہرست دکھائی دیتے ہیں۔کمپیوٹر کے سی پی یو کا موجداسٹینلی میزر،ایٹمی ری ایکٹر کا موجدلیو زیلنڈ،فائبر آپٹیکل شعاؤں کا موجد پیٹر شلز،ٹریفک سگنل لائٹس کا موجد چارلس ایڈلر،اسٹینلیس اسٹیل کا موجد بینوسٹراس، فلموں میں آواز کا موجد ایسادورکیسی سمیت وی سی آر کا موجد چارلس جینسبرگ بھی یہودی تھا۔ 

اگر دنیا کے مشہور برانڈز کی بات کی جائے تو وہاں پر بھی یہودی چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پولو جس کا مالک رالف لورین، اسٹاربکس کا مالک ہوارڈ شولتز،گوگل کا مالک سرجی برین،ڈیل کمپنی کا مالک مایکل ڈیل اس کے علاوہ متعدد نام موجود ہیں۔ سیاست میں دیکھیں تو عالمی سیاست پر بھی یہودی چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر،رچارڈلیوین،ایلان جرینزپان، سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرایٹ ، امریکہ کا مشہور سیاستدان جوزف لیبرمین ،آیزک آیزک آسٹریلیا کا صدر، دیویڈ مارشل سنگاپور کا وزیراعظم ،پییفیگنی بریماکوف سابق روسی وزیراعظم،بیری گولڈ واٹرامریکی سیاستدان، جورج سمبایو پرتگال کا صدر ،ہرب گرے کینیڈین نائب صدر، پییر مینڈس فرانس کا وزیراعظم، مائیکل ہوارد برطانوی وزیرمملکت،آسڑیلوی چانسلر برونوکریسکی، امریکہ وزیرخزانہ روبرٹ روبین،میکسم لیٹوینوف سمیت متعدد یہودی سیاستدان عالمی سیاست پر جگمگاتے رہے ہیں۔ 

عالمی میڈیا پر نظر دوڑائیں تو سی این این میں وولف بلیٹزر، واشنگٹن پوسٹ میں یوجین مئیر،نیویارک ٹائمز میں جوزف لیلیفیڈ،اے بی سی نیوزکے بربارا والٹرز،واشنگٹن پوسٹ کی کیتھرین گراہم ،نیو یارک ٹائمز کی میکس فرینکل سمیت متعدد بڑے نام یہودی ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے قارئین کےلئے اس اہم موضوع پر لکھنے کے لئے مواد اکٹھا کررہا ہوں۔ بہت سے معلومات کا آئندہ کالم میں تذکرہ کروں گا۔بلکہ یہودی دانا اور شاطر کیوں ہیں؟اس حوالے سے آئندہ کسی کالم میں ڈاکٹراسٹیفن کارلی یون کی جامع تحقیق قارئین کے گوش گزار کروں گا۔ مسئلہ یہاں یہ نہیں کہ یہودی دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے کہ مسلمان پیچھے کیوں ہیں؟

ایک وقت ہوا کرتا تھا کہ جب اہل مغرب مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمے کراکر ان سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔ طب پر مسلمان سائنسدانوں کی کتابیں اہل مغرب کی لائبریریوں کی زینت ہوا کرتی تھیں لیکن پھر سب کچھ آہستہ آہستہ اٹھتا چلا گیا۔مرض بڑھتا گیا جو ں جوں دوا کی۔ گزشتہ 105 سالوں میں مٹھی بھر یہودیوں نے180 جبکہ مسلمانوں نے صرف4نوبل انعام حاصل کئے ہیں۔ ہم توجیح تو دے دیتے ہیں کہ نوبل انعام کی جیوری پر یہودیوں کا غلبہ ہے مگر کیا ہم نے ایسا کوئی اقدام کیا ہے جس سے مثبت نتائج کی توقع ہو۔ ان سب ناکامیوں کے اگر اسباب پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ علم سے دوری نے مسلمانوں سے اقتدار کی عظمتیں چھین لی ہیں۔ تعلیمی درسگاہوں سے دوری اس تنزلی کی اصل وجہ۔ قارئین حیران ہوں گے کہ تمام اسلامی ممالک میں 500 جبکہ صرف امریکہ میں 5758 اور بھارت میں 8407 یونیورسٹیاں ہیں۔ جبکہ ایک چھوٹے سے اسرائیل میں جامعات اور کالجوں کی تعداد 1134 ہے۔

کسی بھی اسلامی ملک کی یونیورسٹی کا نام دنیا کی پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔جبکہ صرف اسرائیل کی 6 یونیورسٹیاں دنیا کی 500 بہترین جامعات میں شامل ہیں۔اگر پڑھے لکھے لوگوں کی شرح تناسب کو دیکھا جائے تو مغربی ملکوں میں 90 فیصد پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ جبکہ مسلمان ممالک میں یہی تناسب صرف 40 فیصد ہے۔ اسرائیل میں پڑھے لکھے لوگوں کی شرح تناسب 95 فیصد سے زیادہ ہے۔ مغربی ملکوں میں 15ممالک ایسے ہیں جہاں پڑھے لکھے لوگوں کا شرح تناسب 100 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے۔ مغربی ممالک میں پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کا تناسب 98 فیصد ہے جبکہ مسلمان ممالک میں یہی تناسب 50 فیصد ہے۔ مغرب میں یونیورسٹیوں میں داخلے کا شرح تناسب 40 فیصد ہے جبکہ مسلمان ممالک میں یہی تناسب صرف 2 فیصد ہے۔ جب حالات ایسے ہونگے تو تنائج تو پھر خود سب کے سامنے ہیں۔ مظلومیت اور سینہ کوبی کو اپنا ہرچم بنانے کے بجائے جدوجہد کو شعار بنانا ہوگا۔جو بڑھ کر خود اٹھالے جام اسی کا ہے ساقی۔

حذیفہ رحمان
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.