Header Ads

Breaking News
recent

کیا مکہ عالمی معیار کا شہر بن سکتا ہے؟....

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے مکہ معظمہ کو دنیا کا خوبصورت ترین شہر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ''مکہ، مکہ اور بس مکہ ہی میری اعلی ترین ترجیح ہے۔'' شہزادہ خالد الفیصل کی طرف سے اس پختہ عزم کے اعلان پر عمل ہو جائے تو یہ ایک بڑا مثبت وعدہ ہے، یقینا نہ صرف مکہ کے حوالے سے اس وعدے پر عمل ہوگا بلکہ اس سے ملحق پوراعلاقہ بھی عالمی سطح کی سہولیات کے ساتھ جدید شہری آبادیوں میں تبدیل ہو جائے گا۔

لیکن اس طرح کے عظیم الشان منصوبے پر پورے عزم کے ساتھ عمل درآمد کے لیے ایک ہمہ گیر ماسٹرپلان کی ضرورت ہو گی۔ اسی طرح طے شدہ ٹائم فریم کے اندر اس منصوبے کی تکمیل بھی انتہائی اہم ہو گی۔ شہزادہ خالد الفیصل ایسی مثال پہلے قائم کر بھی چکے ہیں۔ لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت کے شہزادہ خالد کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔

البتہ اپنے حکومتی تجربے اور ویژن کی بنیاد پر وہ دنیا کے بہترین شہروں میں انتہائی ترقی اور جدیدیت سے خوب آگاہ ہیں۔ اس ناطے وہ میونسپلیٹی کی سطح پر درکار مستعدی اور دیگر متعلقہ خدمات سے بھی خوب باخبر ہیں کہ کس ملک میں اس حوالے سے کیا صورت حال ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہم اس وقت تک یہ توقع نہیں باندھ سکتے جب تک حکومتی اداروں اور ٹھیکیداروں کی طرف سے بہترین تعاون اور مستعد عمل درآمد ممکن نہیں بنایا جاتا۔
مکہ کے لیے جدت اور تبدیلی کا عمل

مکہ معظمہ کو دنیا کے جدید ترین اور خوبصورت ترین شہر میں بدلنے کے لیے ہر مرد اور عورت کی مدد چاہیے ہو گی۔ اس مقصد کے لیے لاپرواہی اور نااہلی کی گنجائش نہ ہو گی کیونکہ یہ منصوبہ ایک سہل کام نہیں ہے۔ یہ آسان نہیں ہو گا کہ سالہا سال کی نظر اندازی، بدعنوانی اور لاپرواہی کی مجموعی صورت حال کو تبدیل کیا جا سکے۔ شہزادہ خالد نے اپنے پہلے دور امارت میں مکہ کو جدیدت دینے کا بیڑا اٹھایا تھا اب وہ اسے پایہ تکمیل کو پہنچانے کا موقع پا رہے ہیں۔ عوام اس مقصد کے لیے انہیں حمایت فراہم کرنے کے لیے بےتاب ہے۔ بڑی امید ہے کہ ان کی ٹیم انہیں مایوس نہیں کرے گی۔

سخت محنت اور وقت کا کچھ بھی بدل نہیں ہے۔ ماضی میں خطیر رقم اور بہت ساری محنت ضائع ہو چکی ہے۔ ہم اپنے آپ کواختیارات کے غلط استعمال سے مزید شرمندہ نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ نہ ہی بدانتظامی، کمزور کارگزاری اور غیر معیاری یا درمیانے درجے کے منصوبوں سے شرمندگی سمیٹنا چاہتے ہیں۔
شہزادہ خالد الفیصل نے اپنے ویژن کا خاکہ تیار کر لیا ہے اور اپنے اہداف کو پیشگی اعلان کر دیا ہے۔ 

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری حکام زبانی جمع خرچ سے اس تحرک کو تباہ نہ کریں۔ گڈ گورنینس اور مضبوط انتظامیہ لازما جاری رہنی چاہیے۔ گورنر مکہ کو باصلاحیت رفقاء کی ضرورت ہے۔ ایسے رفقاء کو نئے تصورات پیش کر سکتے ہوں، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل اور مخلص ہوں۔ اس سلسلے میں مکہ کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ بہترین شہری صفات کا مظاہرہ کریں اور مکہ کو دنیا خوب صورت ترین شہر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

خالد المعینا

No comments:

Powered by Blogger.