Header Ads

Breaking News
recent

بنگلہ دیش: ماضی اور حال....


میں جب بھی بنگلہ دیش جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی ادارہ پستی کا شکار ہوا ہے۔ پچھلی بار پارلیمنٹ تھی۔ اس بار ایک معروف وکیل کے الفاظ میں عدلیہ کمزور ہوئی ہے۔

پھر بھی جو بات پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ دور بیٹھی استحصالی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت سے وجوہ میں آنے والا ملک سابقہ حالت والا ملک بن گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش فوج کے سائے میں جی رہا ہے۔ روز مرہ معاملات میں اسکا کوئی دخل نہیں ہے۔ بلکہ بقول ایک ممتاز فوجی افسر، ’’ہم نے ایک بار حکومت کی لیکن ہم نے دیکھا کہ معاشرہ منضبط فوجی اقتدار پر الجھن میں گرفتار عوام کی حکومت کو ترجیح دیتا ہے۔‘‘

آج بھی مسئلہ ذرا مختلف شکل میں وہی ہے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ اقتدار کو اپنے آپ میں مرتکز کر رہی ہیں اور کلیدی منصوبوں پر ایسے افراد کو فائز کر رہی ہیں جو انکے وفادار ہوں۔ انہوں نے بذات خود قانون کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ یہ بات عوام کے مزاج کے خلاف ہے جو اپنی سرکشی خود مختاری کے لیے معروف ہیں۔ وزیر اعظم حسینہ کے ہاتھوں میں پارلیمنٹ کی باگ دوڑ ہے۔ بغیر سوچے سمجھے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے عوامی لیگ کے لیے جسکی قائد حسینہ ہیں۔ میدان کھلا چھوڑ دیا۔ ایک ووٹ بھی پڑنے سے پہلے انہوں نے ساٹھ فیصد سے زیادہ تشستیں جیت لیں۔ سمجھا گیا کہ ا سملک میں انتخابات کے ناٹک کے ازالے کے لیے ازسرنو انتخابات کرائے جائیں گے۔ اسکے بجائے انہیں ایسا ایوان ملا جس میں انکی پسند کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ بے چہرہ ممبران پارلیمنٹ بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انکی مقبولیت کی وجہ سے انکا انتخاب ممبران کی حیثیت سے ہوا ہے۔

یہ بہت خراب بات ہے اور اس سے خراب تر بات برسراقتدار پارٹی میں اس سوچ کا پنپنا ہے کہ انتخاب بے کیف ، باعث زحمت اور غیر یقینی ہیں۔ عوام کی رائے کے تعین کے لیے کوئی اور طریوہ کار وضح کیا جانا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ بے تحاشہ اختیارات حاصل ہوجانے کے بعد مخالفت بیزار حسینہ انتخابات کو ختم کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔ عوام سڑکوں پر اتر کر اسکی مزاحمت شاید کریں لیکن ضدی، جابرانہ انتظامیہ ایسی صورت حال پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا ہے۔

ان حالات میں عدلیہ کی خود مختاری لازمی ہے۔ تاہم تقریبا بیس سال تک عدالتوں سے متعلق خبروں کا احاطہ کرنے والے ایک بنگلہ دیشی صحافی نے مجھے بتایا کہ بدعنوانی کی دیمک عدلیہ کے ہر گوشے کو چاٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ فیصلے بکتے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ججوں کے بیٹے انہی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں جہاں انکا باپ یا چچا بخچ پر ہوتے ہیں۔ اس سے صورتحال سنگین تر ہی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نے ججوں کی تقرری کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کا آئین کہتا ہے کہ صدر جمہوریہ وزیر اعظم کے مشورے سے ججوں کا تقرر کرے گا۔ انہوں نے لفظ مشورہ کو وسعت در کر اسے اتفاق رائے کے ہم معنی قرار دے دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برسراقتدار عوامی لیگ کی وفاداری کا دم بھرنے والے ان وکیلوں کو بھی جج بنا دیا گیا ہے جن کے پاس مقدمے نہیں ہیں۔

فیصلوں کو مبینہ طور پر توڑا مروڑا جاتا ہے۔ ان تقرریوں پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ہے کیونکہ ایسا کرنے والے کو دشمن کا حامی ٹھہرایا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی این پی عوام کے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ پارٹی لیڈران کی بات سسنے کے لیے آنے والے لوگ اکے معتقد بھی ہوں۔ حکمرانوں کی تنقید عوام کے نزدیک خوشگوار امر ہے۔ وہ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روز افزوں افراط زر کا بوجھ اٹھائے ہوئے دن کاٹ رہے ہیں۔

درحقیقت واحد وفادار حامی جماعت اسلامی کے حلقہ بگوش افراد ہیں۔ انکی بنیاد پرستی کی اب بھی قیمت ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں کچھ پاکستان نواز ہیں۔ ایک معتبر خبر کے مطابق ان کی تعداد تقریبا بیس فیصد ہے۔ اس پر کسی کو تردد نہیں ہو گا کہ عوام لیکب کے ٹھوس حامی اس سے بھی زیادہ یعنی 30 سے 35 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔

  افسوس کہ مجھے ان دنوں جیسی اصول پرستی اور آدرش کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا جب بنگلہ دیشی عوام آزادی کی لڑائی میں مصروف تھے۔ لوگ اسے اپنے لیے بہترین ساعت تصور کرتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش میں بدترین مظالم ڈھانے پر پاکستان کے خلاف کوئی تلخی کا 
احساس نہیں پا جاتا ہے۔  

یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن جو فعالیت مجھے اپنے گزشتہ ادوار میں نظر آئی اس بار اس کا فقدان رہا۔ گویا کہ لوگ تھک گئے ہیں۔ یہ ایک بات ہے کہ انہوں نے حکمرانوں کے جبر سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے، حسینہ نے شاید اسے بھانپ لیا ہے۔ اسی لیے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اسی طرح خاندانی حکومت دوبارہ قائم کرنے کا فیصؒہ کر لیا ہے جیسا کہ یہ شک ہے کہ بابائے قوم شیخ مجیب الرحمٰن اپنی بیٹی کے معاملے میں کر رہے تھے۔

آج انکے فرزند طاقتور ترین شخص ہیں اگرچہ وہ برائے نام امریکہ میں رہتے ہیں۔ موصوفہ نے انہیں تکنیکی میدان میں سرکاری عہدہ بھی دے رکھا ہے اور انہیں اسکی تنخواہ ملتی ہے۔ اس سے بلاشبہ خاندانی اقتدار کی بو آتی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ آنجہانی اندرا گاندھہ، راہل گاندھی خاندانی حکومت کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

فوج جو ملک کا طاقتور طبقہ ہے فائدہ اٹھا رہی ہے کیونکہ یہ کسی سیاسی جماعت سے زیادہ مقبول ہے۔ حسینہ نے فوجی افسران کو خوش کرنے اور اپنا فرفدار بنائے رکھنے کے لیے انہیں بہترین مراعات اور تنخواہیں دی ہیں۔
میں نے ایک معروف ایڈیٹر سے پوچھا کہ عوام بغاوت کر کے مسلح افواج کو ہٹا کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان تصادم ہو جانے کی صورت میں اسکا کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال ایسی ہی ہو گی کہ کڑھائی میں سے نکلے تو آگ میں گرے۔ ہو سکتا ہے کہ جماعت کے منضبط بنیاد پرست فتح مند ہو جائیں۔ یہی خیال اعتدال پسندوں کو بھی روکتا ہے جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اس سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ بنگلہ دیش کو سابقہ صورت حال کو کیوں نہیں چھیڑنا چاہیے۔

کلدیپ نائر
بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریا سحارا 

Bangladesh Past and Future

No comments:

Powered by Blogger.