Header Ads

Breaking News
recent

جو بڑھ کر خود اُٹھا لے....محمد بلال غوری

مغربی یورپ کی حکومتوں نے عیسائیت کے مقامات مقدسہ کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کیلئے 1096ء سے 1291ء تک جو تگ و تاز کی اسے ہم صلیبی جنگوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان جنگوں سے متعلق جو بیشمار کتابیں لکھی گئیں ان میں سے ایک اہم کتاب Memoirs of the crusader ہے جو شاہ فرانس لوئی نہم کے ہمراہ یورش کرنے والے ایک صلیبی جانباز ژے آن دوژوان ویل نے لکھی اور آج بھی اس کا حقیقی نسخہ ایوری مینس لائبریری میں موجود ہے۔ لوئی نہم تیونس میں اپنی فوج کے ہمراہ مارا گیا اور پوپ نے اسے سینٹ یا ولی کا خطاب دیا۔ ژوان ویل نے اپنی ان یادادشتوں میں نہ صرف صلیبی جنگوں کے دوران پیش آنے والے واقعات بیان کئے ہیں بلکہ اس وقت یورپ کے فکری انحطاط کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب لندن اور پیرس کیچڑ میں لتھڑے رہتے تھے مگر مسلمان طلیطلہ اور اشبیلیہ جیسے شہر آباد کر رہے تھے۔ یورپی باشندے مجنونانہ جوش و جذبے کے علمبردار تھے جبکہ مسلمان عقل و خرد اور علم و فن کے ہتھیاروں سے برسرپیکار تھے۔ بے تیغ یورپ دعائوں کے سہارے لڑ رہا تھا تو مسلمان دعا سے پہلے دوا کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے اور یورپ معجزوں کا منتظر تھا مگر مادی وسائل سے لیس مسلمان خود تقدیر یزداں کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ اپنی اس سرگزشت میں ژواین ویل ایک معرکے کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایک رات جب ہم دریا پر بنائے گئے رسوں اور لکڑی کے پلوں پر پہرہ دے رہے تھے تو اچانک مسلمانوں نے منجینق نما ایک مشین لا کر کھڑی کردی اور اس سے ہم پر آگ برسانے لگے۔ ہمارا لارڈ والٹر جو ایک بہادر نائٹ تھا ،اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’یہ ہماری زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ ہے۔

اگر ہم نے اپنی جگہ نہ چھوڑی تو جل کر خاک ہوجائیں گے۔ چونکہ ہم اس جگہ کی حفاظت پر مامور کئے گئے ہیں اس لئے یہاں سے پیچھے ہٹنا بھی رسوائی ہو گی۔اس وقت ہمیں خدا ہی بچا سکتا ہے۔لہٰذا میری آپ سب کو نصیحت ہے کہ جو نہی مسلمان اس مشین سے آگ کے گولے پھینکیں،ہم سب گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے خدا کو نجات دہندہ سمجھ کر مدد کے لئے پکاریں۔ 

فرانسیسی مصنف جو خود اس فوج میں شامل تھا ،وہ لکھتا ہے کہ ہم سب نے ایسے ہی کیا۔ جب آگ کا گولہ پھینکا جاتا تو اس کی لمبی دُم کسی نیزے کی مانند محافظوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ہر بار جب حملہ ہوتا تو ہم آنکھیں بند کرلیتے اور گڑ گڑا کر خدا کو یاد کرنے لگتے۔ لیکن جب بہت سے فوجی مارے گئے تو باقی سب نے جان بچانے کے لئے دوڑ لگا دی۔

حالات نے چند سو سال بعد ہی ایسی کروٹ بدلی کہ ہمارے اوصاف حمیدہ تو یورپ نے مستعار لے لئے مگر ہم یورپ کی پرانی ڈگر پر آ گئے۔ وہ جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے قائل تھے ،فلسفہ قضاء کی جانب مائل ہو گئے۔ جنہوں نے تدبیر سے پوری دنیا فتح کی ،وہ تقدیر کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو گئے ۔شمشیر پر بھروسہ کرنے والے محض نعرہ تکبیر پر اکتفا کرنے لگے تو فاتحین نے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ شیخ عبدالرحمٰن الجبرتی معروف تاریخ دان ہیں جو اٹھارویں صدی کے دوران قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’عجائب الاثار فی التراجم والاخبار‘‘میں چشم دید گواہ کی حیثیت سے ایسے بہت سے واقعات درج ہیں جو اس دور میں مسلمانوں کے فکری انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں جب نپولین بونا پارٹ نے مصر پر دھاوا بول دیا تو مسلم حکمراں مُراد بک نے جامعہ الازہر کے علماء کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ اس حملے سے بچنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔

اس دور کے جید علماء نے یہ نسخہ تجویز کیا کہ جامعہ الازہر میں بخاری شریف کاختم شروع کرا دیتے ہیں۔چنانچہ اس مشورے پر عملدرآمد کا حکم صادر کر دیا گیا۔ابھی یہ عمل ختم بھی نہ ہوا تھا کہ نپولین کی افواج نے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب روسیوں نے لشکر کشی کرتے ہوئے بخارا کا محاصرہ کر لیا تو امیر بخارا نے اپنے جنگی کمانڈروں سے مل کر لڑنے کی حکمت عملی طے کرنے کے بجائے حکم جاری کر دیا کہ تمام مساجد و مدارس میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ایک طرف روسی افواج توپوں سے گولہ باری کرتے ہوئے شہر کی فصیل میں شگاف ڈال رہی تھیں تو دوسری طرف بخارا کے لوگ مسجدوں میں بیٹھے ذکر و اذکار کر رہے تھےتو اب بے عمل مسلمانوں کے لئے تائید و نصرت کیسے اترتی۔

اسی نوعیت کا ایک واقعہ محمد ہیکل نے اپنی کتاب ’’آیت اللہ کی واپسی ‘‘ میں نقل کیا ہے ۔پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی افواج عراق میں داخل ہو گئیں تو ہر قسم کے مظاہروں ،جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ایک دن برطانوی جنرل آفیسر کمانڈنگ کو رپورٹ ملی کہ مسلمان ایک مسجد میں جمع ہیں اور اس کے میناروں سے شور بلند ہو رہا ہے۔اس جے او سی نے کمال بے نیازی سے کہا’’اگر وہ مسجدوں میں ہی رہتے ہیں اور اس کے میناروں سے آہ و بکا کرتے ہیں تو بیشک قیامت تک کرتے رہیں ،مجھے اس کی پرواء نہیں‘‘سچ تو یہ ہے کہ دعائیں بھی ان کی قبول ہوتی ہیں جو سب حجتیں ،سب اسباب فراہم کرنے کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اُٹھاتے ہیں۔ہمارے ہاں جب بھی بڑے بڑے مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں تو جھولیاں پھیلا کر رقت آمیز انداز میں دعائیں کی جاتی ہیں ،اے اللہ! کفار کی توپوں میں کیڑے ڈال دے،اسلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے،انکی سازشیں ناکام بنا دے۔

اس سے ملتی جلتی دعائیں نماز جمعہ کے اجتماعات میں بھی کی جاتی ہیں۔ جب میں مسلمانوں کو مسیحیوں کی مانند اللہ کا انتظار کرتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا عروج تھا،کیا پستی ہے۔آج ہمارے ہاں تساہل اور کم ہمتی کا یہ عالم ہے کہ آپ کسی عام آدمی سے بات کر کے دیکھ لیں ،وہ ہاتھ اوپر اٹھا کر کہے گا،اس ملک اور معاشرے کو تو اب اللہ ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔کسی قوم کے ذہنی و فکری انحطاط کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ وہ خود اپنی حالت بدلنے کے بجائے کسی مسیحا یا کسی نجات دہندہ کا انتظار کرتی رہے۔مگر میرے رب کے قوانین اٹل اور غیر متبدل ہیں۔وہ اسے نوازتا ہے جس میں پانے کی جستجو ہو،وہ اسے عطاء کرتا ہے جو متلاشی ہوتا ہے،وہ اس کی مدد کو آتا ہے جو تقدیر سے پہلے تدبیر اور دعا سے قبل دو ا کا اہتمام کرتا ہے۔شاد عظیم آبادی نے کیا خوب کہا ہے 

یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

محمد بلال غوری

No comments:

Powered by Blogger.