Header Ads

Breaking News
recent

مسلم لیگ نواز کدھر ہے.......


پچھلے ہفتے کے بعد سے حیران کن واقعات جن میں چند ایک بالخصوص حیرت انگیز ہیں۔ احتجاجی دھرنوں اور ان کے ساتھ منسلک مقاصد کے حصول کے لیے اپنایا جانے والا لائحہ عمل ان میں سے ایک ہے۔ تشدد کے پیٹ سے جمہوریت کا دھیما بچہ کیسے جنم لے گا۔ تاریخ اور دنیا بھر میں موجود تحقیق اور دانش مندی اس پر جو رائے رکھتی ہے تحریک انصاف اور حضرت قادری خود کو اس پر بھاری سمجھتے ہیں۔

تحریک انصاف دس لاکھ کے بجائے چند ہزار لوگوں کے ساتھ اسلام آباد کیوں پہنچی۔ ڈاکٹر قادری کو کینیڈا سے کس چیز نے دوسری مرتبہ پاکستان کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ ان دونوں واقعات کا آپس میں تعلق نہ بھی ہو تب بھی جس تیزی سے انھوں نے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا وہ بھی حیرانی کا باعث ہے۔
عمران خان ایک ہزار سے زیادہ نشستوں پر مبنی انتخابات میں سے دو شریفوں کو گریبان سے پکڑ کر کس قاعدے کے تحت نکالیں گے کہ وزیر اعظم کی کرسی بھی خالی ہو جائے اور نظام مکمل درہم برہم اور تباہ بھی نہ ہو۔ یہ حیرت کا پہلو بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ عین ممکن ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں کچھ اور اوسان خطا کر نے والے واقعات رونما ہو چکے ہوں۔ عمران خان ریڈ زون کو پار کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد بھی کر سکتے ہیں۔ مگر حالات جس طرف جا رہے ہیں اس میں سے فساد کے بغیر کوئی خاص نتیجہ برآمد ہونے کی امید کم ہے مگر سب سے بڑی حیرانی مسلم لیگ نواز کی سیاسی نااہلی ہے۔
یہ بات میں کئی کالمز میں بیان کر چکا ہوں کہ جو حکومتیں بہترین کارکردگی پر بجا طور پر فخر کرتی ہیں وہ سیاسی چیلنجز کو احسن طریقے سے نمٹا لیتی ہیں۔ نواز لیگ نے 2013 کے انتخابات کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کی کھدائی کے بجائے عوامی فلاح کے حقیقی منصوبے بنائے ہوتے تو آج ان کے قدم گڑھے کے کنارے پر نہ تھرتھراتے۔ لیکن سیاسی طور پر ناقص کارکردگی سے بڑھکر حماقت مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت غیر فعال کرنا ہے۔

یہ جانتے بوجھتے ہوئے یا اس انداز کا نتیجہ ہے جو نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد اپنایا۔ شاید یہ دونوں عناصر نے اس میں اپنا کردار ادا کیا ہو مگر حاصل ایک ہی ہے۔ نواز لیگ اس مشکل وقت میں بطور سیاسی جماعت آپ کو کہیں نظر نہیں آتی۔ یہ ایک غیر معمولی پہلو ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو جب بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا انھوں نے اپنی جماعتوں کو بطور فصیل استعمال کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات اور بدعنوانی کے الزامات پر پیپلز پارٹی جماعتی قوت کو بروئے کار لا کر ان کے لیے تحفظ کا باعث بنی۔

وہ ایک طاقت ور صدر تھے مگر جب حالات خراب ہوئے تو جماعت آگے اور وہ پیچھے تھے۔ ایم کیو ایم الطاف حسین پر حالیہ مشکل وقت میں ان کے لیے سب سے موثر سیاسی ہتھیار ثابت ہوئی۔ پاکستان میں احتجاج ہو یا اپنے قائد کے نقطہ نظر بیان کر نے کا معاملہ ہر جماعت کے ممبران وہ چپو فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے کشتی مشکل پانیوں میں سے نکالی جا سکتی ہے۔ وہ عسکری آمر جو طاقت کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں سیاسی منجدھار میں پھنسنے کے بعد جماعتوں کو ڈھال بناتے ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو ایک جماعت بنانی پڑی۔

جنرل مشرف کے لیے ق لیگ کارآمد ثابت ہوئی۔ ضیاء الحق کے لیے جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی مخالف جماعتیں کارآمد سیاسی اثاثہ بنی۔ پاکستان تحریک انصاف کا لائحہ عمل اس دیرینہ حقیقت کی ایک اور بڑی مثال ہے۔ اپنی تمام تر مقناطیسی شخصیت اور قد کاٹھ کے باوجود عمران خان کو اپنی سیاسی قوت بڑھانے کے لیے تحریک انصاف کو بنانے اور بعد میں نشو و نما دے کر ایک ایسے قلعہ میں تبدیل کرنا پڑا جس میں وہ اب بیٹھ کر اپنے مخالفین پر حملے بھی کر سکتے ہیں اور وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش کو پورے کرنے کے لیے منصوبہ بندی بھی کر سکتے ہیں۔ افراد یا گروہ چاہے کتنے ہی طاقت ور ہوں سیاسی پلیٹ فارم ان کی بنیادی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔
میاں نواز شریف نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ مرکزی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلائے کئی سال ہو گئے ہیں۔ وہ پچاس ممبران جو اصولی طور پر اس جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں پاکستان کے ہر حصے میں ہر کسی سے مل کر شکایتیں کرنے اور خاموشی سے منہ بسورے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر کسی کی زبان پر ایک ہی شکایت ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو جماعت سے اتنا دور کر دیا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی وہ ان سے اتنے دور لگتے ہیں کہ وہ پاکستان سے دور ہوں۔

وہ مشاورت جو کسی زمانے میں جماعت کے اندر مختلف معاملات پر سامنے لانے کا بندوبست کرتی تھی اب کور کمیٹی کے ہاتھ میں ہے۔ کور کمیٹی کے اراکین اسحاق ڈار، پرویز رشید، شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق اور کبھی کبھار چوہدری نثار وہ لوگ ہیں جو وزیر اعظم سے ویسے ہی ہر وقت ملتے رہتے ہیں۔ مگر وہ مشورے جو قریبی پیاروں سے ہٹ کر بطور سیاسی لیڈر نواز شریف صاحب کو سننے چاہئیں اب صرف نجی محفلوں میں گپ شپ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت نواز شریف اور شہباز شریف سیاسی میدان میں ہونے کے باوجود نہتے کھڑے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے ہر دوسرے لمحے ان کو گھروں سے نکال کر ملک سے بھگا نے کی بات ہوئی ہے اور اس کا جواب صرف ٹی وی ٹاک شوز پر سننے میں آتا ہے۔ سیاسی کارکن اور درمیانی قیا دت گوجرانوالہ میں مخالفین پر پتھر مار کر اپنا غصہ نکالنے پر مجبور ہیں۔ حقیقت میں وہ اپنے لیڈر سے دور پرے پہاڑ پر کھڑے ہو کر اس کی درگت بنتا ہوا دیکھ رہی ہے۔

یہ ناممکن ہے کہ میاں نواز شریف کو پارٹی سے حاصل کردہ تحفظ کی اہمیت کا احسا س نہ ہو مگر اپنی جماعت کو اس کے باوجود سرد خانے میں ڈال کر بے جان کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یا تو میاں نواز شریف، عمران خان کی طرف سے پھینکے جانے والے پتوں کی کاٹ اور اثرات کو بھانپ نہیں رہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ فوج کے ساتھ ظاہرا ان کے اچھے تعلقات کے بعد ان کی کرسی کو کوئی خطرہ نہیں۔ یا پھر عمران خان کی دھمکیوں کو محض بڑھکیں سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں۔ یا پھر وہ اس مرتبہ اپنے اقتدار کو سیاسی کیریئر کی آخری قسط سمجھ کر طاقت میں رہنے یا نہ رہنے کی فکر سے آزاد ہو چکے ہیں۔

وجہ جو بھی ہو مسلم لیگ نواز غیر متحرک، غیر فعال اور سیاسی طور پر منجمد ہو چکی ہے۔ قیادت کور کمیٹی کو اپنا بہترین اور واحد اثاثہ سمجھ کر فیصلہ سازی اور مشاورت 8۔10 ہاتھوں تک محدود کر بیٹھی ہے۔ عمران خان کی طرف سے بنائے ہوئے گھیرے کا حلقہ اگر تنگ ہوتا جا رہا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ مسلم لیگ کی بطور سیاسی جماعت موجودہ کیفیت ہے۔ ان حالات میں اگر نواز شریف اور شہباز شریف کو بڑا دھچکا لگا تو بطور سیاسی جماعت مسلم لیگ ان کی مدد کو نہیں آ پائے گی کہنے کو عمران خان کی مہم جوئی نواز شریف کی حکومت کے خلاف ہے مگر اس تمام معاملے میں مسلم لیگ نواز نامی جماعت کی غیر موجودگی نے اسکو دو افراد پر مرکوز کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف سے اپنے لیے اپنی جماعت کو ’’کھڈے لائن‘‘ لگا کر کھڑا کیا ہے۔

Talat Hussain

No comments:

Powered by Blogger.