Monday, September 15, 2014

باغیوں کی ضرورت ہے.....



پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے وزیر اعظم نواز شریف کو خبردار کیا، کہ انہیں شک ہے کہ جیسے ہی بحران ختم ہوگا، ان کے وزراء واپس خودپسند اور متکبر ہوجائیں گے۔

میں بھی گیلری میں بیٹھا ہوا ان کے خیالات سن رہا تھا، اور سوچ رہا تھا، کہ حکمران جماعت قومی اسمبلی میں ایک فیصلہ کن اکثریت رکھنے کے باوجود اس بحران میں کیوں آ پھنسی ہے۔ مجھے جواب تب ملا، جب میں نے سیشن کے اختتام پر دیکھا، کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ممبران قومی اسمبلی اعتزاز احسن کو مبارکباد پیش کر رہے تھے، کہ انہوں نے اپنی تقریر میں ان کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔

یہ لاتعلقی کا وہ مظاہرہ ہے، جو نواز شریف اپنے ممبران سے برتتے ہیں، سوائے ان چند کے، جن کے ساتھ ان کے یا تو خاندانی تعلقات ہیں، یا ان کی ذاتی ترجیحات میں شامل ہیں۔

حالیہ سیاسی بحران جلد یا بدیر حل ہو ہی جائے گا۔ لیکن جو لوگ اقتدار میں موجود ہیں، ان کا رویہ دیر کے بجائے جلد ہی ایک اور بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ پاکستان میں گورننس کے اسٹائل کو سیاسی اور انتظامی طور پر تبدیل ہونا چاہیے۔ عمران خان اور طاہر القادری جیسے پارلیمینٹیرین اور مظاہرین سیاسی سائیڈ کو درست کر سکتے ہیں، لیکن میں حیرت میں مبتلا ہوں، کہ آخر انتظامی امور کو کون درست کرے گا۔

شریف برادران کے شاہانہ رویے نے زیادہ تر بیوروکریسی کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اور اس کا اثر ہم پورے ملک میں محسوس کر سکتے ہیں، کیونکہ پنجاب اور مرکز کی حکومت ہی پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ایسی اجنبیت پارلیمنٹ پر قبضہ کرنے کے خواہشمند غنڈوں کے سامنے چھوٹی لگ سکتی ہے، لیکن یہ ایک بہتر گورننس والے پاکستان کے کاز کو زیادہ نقصان پہنچائے گی، کیوںکہ اس کی وجہ سے سسٹم میں خامیاں جنم لیتی ہیں۔

سول سروس میں انتظامی تبدیلیوں کی بات ایک اسی سالہ سابق سول سرونٹ، اور رائیونڈ میں موجود کچھ لوگوں کو نہیں کرنی چاہیے۔ مشیر ضرور ہونے چاہیں، پر ایسے، جو تمام نکات پر گہری سوچ رکھتے ہوں، اور کسی یا کچھ افراد کی طرفداری نا کرتے ہوں۔ ورنہ باقی کی بیوروکریسی اجنبیت کا شکار ہو جاتی ہے۔

سیکریٹیریٹ کے گروپ افسر سے پوچھیں، گورنمنٹ سروس میں موجود استاد، ڈاکٹر، اور انجینیئر سے پوچھیں کہ آیا وہ سول سروس کے معاملات سے خوش ہے۔ رواں سال کے آغاز میں پنجاب پولیس سروس میں تقریباً بغاوت ہو چکی تھی، کیوںکہ اینٹی ٹیررازم اسکواڈ آئی جی پولیس کے بجائے صوبائی وزارت داخلہ کے ماتحت بنایا گیا تھا۔ 18 مارچ 2011 کو 76 پی سی ایس افسران کو صرف اس لیے گرفتار کر کے ان کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر طرفداری پر مبنی تقرریوں اور ترقیوں کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا تھا۔

جب یہی حکومت مظاہرہ کرنے والے افسران کے خلاف کیس درج کرا سکتی ہے، تو پھر اس کے وزیر اعلیٰ کے خلاف ماڈل ٹاؤن واقعے کی ایف آئی آر درج نا کرانے پر مقدمہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ پنجاب پولیس کی جانب سے مطالبوں کے لیے مظاہرہ کرتے ڈاکٹروں پر تشدد کی تصاویر بھی ابھی تازہ ہیں۔

پنجاب میں ایک جونیئر افسر کو ایک سینئر پوزیشن پر تعینات کرنا معمول کی بات ہے، کیونکہ ایک ایسا شخص جو کسی کی "مہربانی" کی وجہ سے اپنی قابلیت سے ہٹ کر کسی پوسٹ پر موجود ہے، وہ احکامات کی تعمیل بہتر طور پر بجا لا سکتا ہے۔ کوئی حیرت کی بات نہیں، کہ پنجاب کے ڈی پی او اور ڈی سی او ہمہ وقت احکامات کے لیے چیف منسٹر ہاؤس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

صاف الفاظ میں کہیں تو یہ ایک کھلا راز ہے، کہ موجودہ حکومت ان انتہائی قابل سول سرونٹس کو بھی صرف اس لیے ناپسند کرتی ہے، کیونکہ وہ درباریوں کی طرح نیازمندی نہیں دکھاتے۔

وزیر اعظم نواز شریف کا اپنے مشیروں کے مشورے سننا ضروری نہیں کہ اچھی بات ہو، کیوںکہ ان کا مشیروں کا انتخاب بھی بہت کچھ بہت زیادہ اچھا نہیں ہے۔ سول سروس کے معاملات کو سیاسی وفاداریاں رکھنے والے مشیروں کی مدد سے طے نہیں کرنا چاہیے، کیوںکہ ان کی رائے صرف سیاسی رجحانات کی بنیاد پر ہوتی ہے، اور فوکس ادارہ سازی سے ہٹ جاتا ہے۔ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ڈسٹرکٹ مینیجمینٹ گروپ (ن)، یا پولیس سروس آف پاکستان (ن) بنانے کی کوششیں نا رکیں، تو پاکستان ایک بحران سے دوسرے کے درمیان جھولتا رہے گا۔ 
ایک گروپ کے طور پر سول سرونٹس کو سیاسی طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ لیکن اسی وقت ریاست سے ان کی وابستگی بھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومت سول سرونٹس کو حکومتی معاملات میں مالکیت کا احساس (sense of ownership) دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

آخر میں، میں وزیر اعظم نواز شریف سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ جب جاوید ہاشمی پارلیمنٹ میں داخل ہوئے، تو آپ نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیوں کیا؟ اس لیے کہ وہ مخصوص اصول کے لیے کھڑے ہوئے، یا اس لیے، کہ وہ اس اصول کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے لیے فائدہ مند تھا۔

اس ملک کو جاوید ہاشمی جیسے مزید باغیوں کی ضرورت ہے، نا صرف سیاست میں، بلکہ بیوروکریسی میں بھی۔

سید سعادت

Imran Khan and Tahirul Qadri Long March and Dharna


جب خاموشی بہتر سمجھی جائے.......


یہ برطانیہ کی وہ گلیاں ہیں، جہاں مغربی دنیا کے انتظام و انصرام اور قوانین کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔

یہاں لوگ قوانین کے ساتھ کھیلتے ہیں، گلیوں میں کچرا پھینک دیتے ہیں، ٹیڑھی میڑھی پارکنگ کرتے ہیں، اپنے شیر خوار بچوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں، اور گاڑیوں کے سامنے اچانک آجاتے ہیں۔

پاکستان اور پاکستانی ان اقلیت محلوں میں رہتے ہیں، یہاں سالن اور باتیں بالکل اسی طرح بنائی جاتی ہیں، جیسی پاکستان میں تب بنتی تھیں جب ان کے والد، دادا، یا پڑدادا ابھی برطانیہ منتقل نہیں ہوئے تھے۔

یہ خوش قسمت لوگ تھے، جن کو پاؤنڈز میں کمانے کا موقع ملا، بھلے ہی اس کی قیمت ان کے تصور سے کہیں زیادہ تھی۔ ثقافت سے دوری، اپنے دیس میں حاصل فضیلت کا چھن جانا، اور ان لوگوں کی خدمت کرنا، جن سے کبھی آزادی حاصل کی تھی۔

پاکستانیوں کو برطانیہ میں نسلی تعصب کا سامنا اکثر کرنا پڑتا ہے۔ دہائیوں پہلے برطانیہ ہجرت کرنے والے بچوں کی نسلیں اسی ماحول میں پروان چڑھتی ہیں۔ ان پر یہ جملہ صادق آتا ہے، کہ یہ نا پاکستان کے ہیں، نا برطانیہ کے، نا ماضی کے نا مستقبل کے۔

انتہا پسند ان بچوں کی برین واشنگ کرنے کے لیے ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں، وہ کلچر کے بارے میں ان کی پریشانیوں، اور حقیقی اسلام اور پاکستان کے بارے میں ان کی خواہشات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مین اسٹریم برٹش کلچر میں ان گندمی رنگت والوں اور مسجدوں میں جانے والوں کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، اسی لیے پہلے سے سائیڈ لائن پاکستانی کمیونٹی کے یہ بچے مزید سائیڈ لائن ہو جاتے ہیں۔

یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، سب سے خطرناک ترین اخلاقی مجرم ان مشکوک علاقوں میں رہتے ہیں۔

پچھلے ہفتے ریلیز ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق روٹرہیم قصبے میں، جہاں برطانوی پاکستانیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، 1997 سے 2013 کے دوران بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے 1400 کیسز کے ملزمان رہتے ہیں۔

رپورٹ چونکا دینے والی تھی، صرف اپنے اعداد و شمار کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے بھی، کہ استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی امداد کے لیے کوئی سماجی کارکن، یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سامنے نہیں آئے۔ رپورٹ کے ریلیز ہونے کے بعد کئی کونسل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، جنہوں نے وقت پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی، نے اپنے استعفے پیش کر دیے۔

نتیجتاً، پاکستانی اور مسلمان گروپوں نے ملزمان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نسلی تعصب کا الزام لگنے کے خطرے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

یہ قابل تعریف اقدام ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ ان کی اپنی کمیونٹی کے 1400 بچوں کا ایک عشرے سے زیادہ کے عرصے میں استحصال کیا گیا، پر اس پر آواز نہیں اٹھائی گئی؟

سب سے پہلے تو اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس اپنے گھروں اور کمیونیٹیز میں جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

شرم و حیا کے ماری ہوئی کمیونٹی میں یہ مسئلہ بالکل دب کر رہ جاتا ہے، یا دبا دیا جاتا ہے۔

ایک شخص اگر کسی بچے کا جنسی استحصال کرتا ہے، تو پوری کمیونٹی کو چاہیے کہ اس عمل کی مذمت اور اس شخص پر ملامت کرے۔ لیکن اگر متاثرہ بچے کی مدد نا کی جائے، یا اس گھناؤنے جرم کی مذمت نا کی جائے، تو جرم ختم نہیں ہوتا، بس چھپ جاتا ہے۔

اس جرم کے اب تک جاری رہنے کی صرف یہی وجہ نہیں کہ ایک تارک وطن کلچر اس معاملے میں خاموشی کو بہتر سمجھتا ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے، کہ پولیس کو خطرہ ہے، کہ اگر وہ ان Marginalized طبقوں پر ہاتھ ڈالے گی، تو اسے نسل پرست یا متعصب کے لیبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے وہ اکثر اس طرح کے مجرموں کو پکڑنے سے کتراتی بھی ہے۔

یہ دوسری طرح کی خاموشی ہی اس بات کی بنیادی وجہ ہے، کہ متاثرین کی تعداد زیادہ ہے، جبکہ ملزمان کتنے عرصے تک قانون کی گرفت سے آزاد رہے۔


Stop Child Abuse

Thousands of Orange Order supporters marched in a pro-Union rally in Edinburgh

Thousands of Orange Order members, bandsmen and supporters - many of them from Northern Ireland - marched in a pro-Union rally in Edinburgh.

Kashmiri men evacuate women and the elderly from a flooded neighborhood in Srinagar

Kashmiri men evacuate women and the elderly from a flooded neighborhood in Srinagar.