Friday, October 31, 2014

Edhi Foundation robbery - The Crime That Has Shocked Pakistan



People in Pakistan are in utter shock and struck with grief after the recent robbery at the Edhi Foundation, the country’s leading charity organisation. According to police, eight robbers stormed the trust’s office in the Mithadar area of Karachi, held its staff hostage at gunpoint and woke up Abdul Sattar Edhi, 86, to get keys of lockers in which gold ornaments, other valuables and cash had been kept. The robbers took away about Rs30mn worth of gold and cash, according to a report.

Police say that most of the cash and gold ornaments had been deposited by people for safe-keeping because they trusted Edhi. It is one of the many free services offered for the poor and sick that are run from the small building in Mithadar, one of Karachi’s oldest neighbourhoods. Edhi is one of Pakistan’s most revered figures and has spent a lifetime building up its charity. The Edhi Foundation provides a broad range of free social services, including ambulances, orphanages and support for the elderly and disabled.

He has been nominated for the Nobel Prize award in the past in recognition of his charity work. Edhi started his charity work many years ago from a tent outside his small house. It has now become one of the largest charity networks of South Asia. The monthly budget of Edhi Foundation exceeds $10mn. According to the Guinness World Records, Edhi has the largest network of ambulance service in Asia.

Despite the charity service having a large budget, Edhi continues to lead a simple life. Despite his his old age he still works 18 hours a day and is never absent from his duty. Edhi’s “My Home” project provides relief to thousands of orphans, street children and old people. Several foreign governments have recognised his efforts and he has received a number of prestigious awards. But the merciless gang of robbers still targeted him, showing utter disregard for his work. What has the world come to!

Khawaja Umer Farooq

گلو بٹ جیل میں برتن دھوئیں گے.....


انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جاری حکم کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے والے گلو بٹ جیل میں برتن دھوئیں گے۔
شاہد عزیز عرف گلو بٹ پر الزام ہے کہ 17 جون کو پیش آنے والے ماڈل ٹاؤن سانحے میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر جب پولیس پاکستانی عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے گھر کے باہر سے رکاوٹیں ہٹا رہی تھی اس وقت انہوں نے متعدد پرائیویٹ گاڑیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی اور انہیں بھاری نقصان پہنچایا۔
اس موقع پر پولیس اہلکاروں نے نہ تو گلو بٹ کو روکا بلکہ وہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیے اور اس موقع پر کیمرے کی آنکھ نے یہ سب مناظر قید کر لیے۔
گلو بٹ کے خلاف فیصل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گلو کو گیارہ برس قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ گلو کو جیل میں برتن دھونے کے ساتھ ساتھ تمام تر صفائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

ناموں کا افشا اہم ہے یا کارروائی.....Corruption in India


بیرونی ممالک میں غیر قانونی بینک اکاؤنٹ رکھنے والوں کے بارے میں اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی کہ جن کو چند روز قبل معافی دیدی گئی ہے لیکن ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ ان کا تعلق دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں‘ کانگریس اور بی جے پی سے ہے۔ بصورت دیگر اسمبلی میں جو شور و غوغا ہو رہا تھا وہ اتنی جلدی بند نہ ہو جاتا۔ ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈروں کے بارے میں ذرا سا اشارہ بھی نہیں دیا گیا کہ آخر انھوں نے اتنی بڑی رقوم کس طرح نہ صرف اکٹھی کیں بلکہ بیرون ملک بھی منتقل کر دیں اور ایسی باتوں کو روکنے کے لیے کسی اقدام کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔

بیرون ملک دولت جمع کرنا ایک جرم ہے۔ لہٰذا وہ سب لوگ مجرم ہیں جنہوں نے بیرونی ممالک میں دولت چھپا رکھی ہے تاہم یہ بات ناقابل فہم ہے کہ آخر حکومت ان کے نام ظاہر کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی قصور وار ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتیں کہ ان کی ساکھ خراب ہو لہٰذا دونوں پارٹیاں بہت کچھ چھپا رہی ہیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سیاسی پارٹیاں انتخابات کے دوران کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں لہذا ان کے لیے اپنی غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے بیرونی ممالک محفوظ جنت کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح سے وہ نہ صرف لوگوں کی توجہ سے بچ جاتی ہیں بلکہ بہت بھاری مقدار میں ٹیکس بھی بچا لیتی ہیں۔

بھارت کے لوگوں کو البتہ جرمنی کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ناموں کا افشا کر دیا ہے۔ جرمنی کے ایک بینک نے ناموں کی فہرست تیار کر کے بھارتی حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ ہمارے ملک کی کوئی خفیہ ایجنسی اس فہرست کی فراہمی کا سہرا اپنے سر نہیں باندھ سکتی۔ لیکن جرمنی نے ان کے نام کیوں بھارت کو دیے ہیں اس کی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ اگر اس حوالے سے بھارتی حکومت کا کوئی دباؤ تھا تو وہ یقیناً رنگ لے آیا ہے۔ جب یہ بات ظاہر ہوئی کہ بھارت کے کم از کم 800 افراد کی دولت بیرون ملک بینکوں میں پڑی ہے تو عوام مشتعل ہو گئے۔ یقیناً اور بھی بہت سے نام ہوں گے جو ابھی تک ظاہر نہیں ہو سکے۔ بیرون ملک رکھی گئی دولت کی مقدار چھ لاکھ کروڑ روپے سے متجاوز بیان کی گئی ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا تو سرکاری خزانے کی پتلی حالت نے نئی دہلی حکومت کو بیرون ملک سفارتی نمایندوں کو خط لکھنے پر مجبور کیا کہ وہ کہ وہاں مقیم بھارتی شہریوں سے ملک کے لیے امداد طلب کریں۔ میں نے بھی بھارتی نژاد لوگوں سے بڑی درد مندانہ اپیل کی لیکن اس وقت مجھے بہت حیرت ہوئی جب جرمن سفیر نے مجھے بتایا کہ بھارتی نژاد لوگوں کے سوئس بینکوں میں اتنی بھاری رقوم موجود ہیں کہ وہ کئی پانچ سالہ منصوبوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں۔

بحر حال اب حکومت کے پاس بیرون ملک دولت جمع کرنے والوں کے نام آ گئے ہیں بلکہ یہ نام تو کئی مہینے پہلے ہی موصول ہو گئے تھے جب ڈاکٹر من موہن سنگھ کی سربراہی میں کانگریس کی حکومت قائم تھی لیکن اس نے سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی حکومت کے پہلے سو دنوں کے اندر اندر ایسے تمام لوگوں کے خلاف ایکشن لیں گے لیکن اب جب کہ انھیں اقتدار میں آئے سات مہینے گزر چکے ہیں تو بمشکل ہی کوئی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ من موہن سنگھ کی حکومت نے وہ نام آگے پہنچا دیے ہیں جو انھیں اپنی حکومت کے دوران موصول ہوئے تھے لیکن کانگریس کی حکومت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی تھی کانگریس کے ترجمان نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ تکلیف دہ سوالوں کے کبھی جواب نہیں دیے جاتے۔ ناموں کا افشاء کرنا بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔

مودی کی حکومت نے بھی مقدس گائیں موجود ہیں۔ اس حکومت نے کارپوریٹ سیکٹر کی بعض کمپنیوں کے نام لیے ہیں۔ جن تین کمپنیوں کے نام مودی حکومت نے ظاہر کیے ہیں غالباً یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کو یہ حکومت نرغے میں نہیں لا سکی۔ مزید برآں صرف کارپوریٹ سیکٹر پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس طرح عوام کی توجہ سیاسی دنیا سے ہٹائی جا سکے۔ اس کوشش کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ غیر قانونی دولت میں صرف کارپوریٹ سیکٹر ہی ملوث تھا۔ یہ بات درست بھی ہے کیونکہ انتخابات کے دوران جو ہزاروں کروڑ روپے کی رقم استعمال ہوتی ہے وہ کارپوریٹ سیکٹر سے ہی آتی ہے لیکن یہ ساری رقم کالے دھن میں ہی شمار ہوتی ہے جو ناجائز طریقے سے کمائی جاتی ہے اور یہ سارا سیاست دانوں کا کھیل ہے خواہ وہ اقتدار کے اندر ہوں یا اقتدار سے باہر ہوں۔ جب دولت بدعنوانی سے اکٹھی کی جا رہی ہوتی ہے تو وہ اپنا دھیان دوسری طرف کر لیتے ہیں۔

اور یہ بات کہ مودی ان مخصوص مفادات رکھنے والوں کے خلاف لڑائی کریں گے جنہوں نے سیاست کو آلودہ کر دیا ہے کیونکہ وہ اپنی ہر تقریر میں شفافیت پر بہت زور دیتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ سوائے اس کے کہ انھوں نے کاروباری افراد اور بیوروکریٹس کو اپنی بدعنوان کارروائیوں میں پہلے سے زیادہ محتاط کر دیا ہے لیکن کرپشن کسی طور پر بھی کم نہیں ہوئی۔ اب بھی وقت ہے کہ مودی موصولہ ناموں کو نیٹ پر ڈال کر اپنی ساکھ بحال کر سکتے ہیں اور ان میں سے کن کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے اس کا فیصلہ ثبوت ملنے پر کیا جا سکتا ہے۔

ناموں کا افشاء کم از کم انھیں اس ذمے داری سے بچا سکتا ہے کہ وہ کرپشن کو عوام سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کرپشن کی کوئی اکلوتی مثال نہیں ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق دیوالی کی آتشبازی پر 3000 کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم خرچ کی گئی۔ دسہرے پر بھی کروڑوں کے حساب سے اخراجات ہوئے اور یہ سب علیحدہ علیحدہ اخراجات تھے۔

ایک ایسا ملک جس کی ایک تہائی آبادی رات کا کھانا کھائے بغیر سونے پر مجبور ہے اس میں بے حسی کی ایسی مثالیں قابل صد مذمت ہیں۔ میں نے سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں کو اس ضمن میں سڑکوں پر کبھی احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔ معاشرہ اس حوالے سے لاتعلق ہے کیونکہ جو آواز بلند کرنے والے اور رائے عامہ کو تشکیل دینے والے ہیں وہ خود اس کرپشن کا حصہ ہیں۔ وہ بھلا کوئی حل کیوں دینے لگے۔

کلدیپ نائر
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی ضرورت......