Thursday, May 21, 2015

Axact جعلی ڈگری سکینڈل

Ancient oasis city of Palmyra


Palmyra is located 215 km (134 mi) to the northeast of the Syrian capital Damascus, in an oasis,surrounded by palms of which twenty varieties were reported. A small Wadinamed al-Qubur, crosses the area, it flows from the hills in the west and passes the city, before disappearing in the eastern gardens of the oasis. To the south of the Wadi, a spring named Efqa is located. Pliny the Elder described the town in the 70s AD,[note 1] as famous for its location, the richness of its soil, and the water springs that surrounded it, making the agricultural and herding activities possible.

"Tadmor" is the Semitic and earliest attested native name of the city, it appeared in the first half of the second millennium BC. The etymology of "Tadmor" is vague, Albert Schultens considered it to be derived from the Semitic word for dates ("Tamar"), in reference to the Palm trees that surround the city. The name "Palmyra" appeared during the early first century AD, in the works of Pliny the Elder, and was used throughout the Greco-Roman world. The general view holds that "Palmyra" is derived from "Tadmor" either as an alteration, which was supported by Schultens,[note  or as a translation using the Greek word for palm ("Palame"), which is supported by Jean Starcky.

Michael Patrick O'Connor argued for a Hurrian origin of both "Palmyra" and "Tadmor", citing the incapability of explaining the alterations to the theorized roots of both names, which are represented in the adding of a -d- to "Tamar" and a -ra- to "palame". According to this theory, "Tadmor" is derived from the Hurrian word "Tad", meaning "to love", + a typical Hurrian mid vowel rising (mVr) formant "Mar". "Palmyra" is derived from the word "Pal", meaning "to know", + the same mVr formant "Mar".











Scenes from Kashmir






پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی


یہ کہانی سمندر میں لاپتہ ہونے والی تارکین وطن کی بہت سی کشتیوں میں سے ایک کی ہے۔
برما سے آنے والے ناامید تارکین وطن سے بھری یہ کشتی انڈونیشیا کے ایک گاؤں پہنچی ہے۔ اس سفر کے دوران تھائی لینڈ کے قریب بی بی سی کی ایک ٹیم کی اس کے مسافروں سے ملاقات ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق 13 مئی کو یہ کشتی جس پر 350 تارکین وطن سوار تھے اور جن میں سے زیادہ تر روہنجیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے سمندر میں تنہا رہ گئی تھی۔
انھیں کشتی کا عملہ بنا پانی اور کھانے پینے کی اشیا کے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

اگلے ہی روز جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگکاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی۔
بی بی سی کے جانتھن ہیڈ کو کشتی پر سوار تارکین وطن نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان میں بعض طبی امداد کے منتظر دکھائی دے رہے تھے اور وہ مدد کے لیے رو رہے تھے۔

ان میں سے بہت سے لوگوں نے پانی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ بعد میں ایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں۔
ملائشیا اور تھائی لینڈ نے اس کشتی کو اپنی اپنی بحری حدود میں لے جانے سے انکار کیا جسے مبصرین نے ’ پنگ پانگ‘ میچ کہہ کر ان کے اس عمل کی مذمت کی۔

سنیچر کو ایک تھائی صحافی تیپ ہانی ایسترکائی کو اس وقت کشتی پر جا کر جائزہ لینے کی اجازت ملی جب فوج نے اس پر سوار ہو کر انجن کو مرمت کیا اور کشتی پر موجود چند افراد کو اسے چلانے کا طریقہ بتایا۔

بہت سے عینی شاہدین کے مطابق اس رات کشتی کو کھینچ کر بین الاقوامی پانیوں میں لے جایا گیا۔
تھائی لینڈ کا اس بات پر اصرار تھا کہ اس کشتی پر سوار افراد یہاں نہیں رہنا چاہتے جبکہ ایسترکائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ تارکین وطن کو مدد کی ضرورت تھی اور انھیں کہاں جانا چاہیے اس کا انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔

جب انھیں کھینچ کر لے جایا رہا تھا تو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ملائشیا کی جانب نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ مزید انڈونیشیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے لوگوں نے کھانے کے لیے کچھ مانگا
پیر کو موسمیاتی رپورٹ میں مون سون کی وجہ سے سمندر میں تلاطم کے امکان کی تنبیہ کی گئی تھی لیکن بی بی سی ٹیم کی اس خطے میں کشتی تلاش کرنے کی کوشش بے سود ثابت ہوئی۔
تاہم بدھ کے روز انڈونیشیا میں وسطی آچے کے ساحل پر اسے دیکھا گیا۔

یہ کشتی آخر کار میانمر سے نکلنے کے دس ہفتے اور پہلی بار تھائی لینڈ میں ملنے کے چھ دن بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں

تارکین وطن نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بتایا کہ ملائشیا کے حکام انڈونیشیا تک تقریباً تمام راستے ان کے ساتھ رہے۔
  تارکین وطن کئی ہفتوں تک شدید ہولناک حالات میں رہ رہے تھے۔
پروڈیوسر ژن یان یو نے بتایا کہ جب وہ بعد میں کشتی پر گئے تو وہاں شدید بد بو تھی اور ہر طرف کپڑے، پلاسٹک کی بوتلیں اور پلیٹیں بکھری پڑی تھیں۔
آچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔