Sunday, April 26, 2015

امام کعبہ شیخ خالد الغامدی حفظہ اللہ منصورہ کی جامع مسجد میں





Pakistan sends relief goods for quake victims in Nepal


 Pakistan sends relief goods for quake victims in Nepal




ماؤنٹ ایورسٹ کی تاریخ میں سب سے بڑی تباہی....

نیپال میں آنے والے زلزلے سے وہاں موجود دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی اپنی تاریخ کے سب سے بڑے حادثے کا شکار ہوئی ہے۔
نیپال کے محکمہ کوہ پیمائی کے مطابق کوہ پیماؤں سمیت17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاپتہ یا زخمی ہونے والے کوہ پیماؤں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

میں نے بہت اونچی آواز سنی تھی، اور دوسری بات جو میں جانتا ہوں وہ یہ کہ میں برف کے ریلے تلے دب گیا۔زخمی گائیڈ

سنیچر کے زلزلے کے بعد اتوار کو چھ اعشاریہ سات کی شدت سے آنے والے سب سے شدید آفٹر شاکس سے مزید برفانی تودے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ان غیر ملکیوں کی شہریت واضح نہیں ہو سکی اور زخمیوں کو امداد دی جا رہی ہے۔ زلزلے کے بعد تودے گرنے اور آفٹرشاکس کے خدشے کی وجہ سے ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔

امداد کے لیے علاقے میں ہیلی کاپٹرز پہنچائے گئے جو زخمیوں کوقریبی گاؤں لے جاکر انھیں طبّی امداد فراہم کر رہے ہیں۔تاہم موسم کی شدت کے باعث امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیش آرہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے نیپال کی وزارتِ سیاحت کے حوالے سے لکھا ہے کہ جس وقت زلزلہ آیا تو اس وقت کم ازکم 1000 کوہ پیما جن میں 400 غیر ملکی بھی شامل ہیں یا تو بیس کیمپ میں موجود تھے یا پھر اپنی مہم جوئی کا آغاز کر چکے تھے۔

حکام کے مطابق ایورسٹ کے بیس کیمپ سے اوپر کیمپ نمبر ایک اور دو میں 100 کوہ پیما اور گائیڈ موجود تھے لیکن وہ زلزلے کے باعث راستہ خراب ہو جانے کی وجہ سے نیچے آنے میں ناکام ہیں۔
ادھر چینی میڈیا نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے دو گائیڈز سمیت چینی کوہ پیما بھی شامل ہیں۔

گوگل کا کہنا ہے کہ ان کے ایک انتظامی اہلکار ڈین فریڈنبرگ جو ماؤنٹ ایورسٹ جانے والے مہم جوؤوں میں شامل تھے ہلاک ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ میں برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں بیس کیمپ میں موجود کوہ پیماؤوں اور دیگر اراکین کا پہلے گروہ کو اتوار کو کٹھمنڈو پہنچایا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

جس وقت زلزلہ آیا اس وقت درجنوں کوہ پیماؤں کو چٹانوں میں گھرے ایک گاؤں میں تربیت دی جا رہی تھی کیونکہ انھوں نے چند ہی ہفتوں بعد چوٹی کو سر کرنے کے لیے جانا تھا۔

نیپال میں موجود آنگ شرنگ نامی کوہ پیما ایسوسی ایشن کے مطابق زلزلے کے بعد برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے 22 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی گاؤں منتقل کر دیا گیا تھا۔
تاہم خراب موسم اور مواصلاتی نظام کے درہم برہم ہونے کے باعث ہیلی کاپٹر سروس میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اے پی کے مطابق اتوار کو 15 زخمیوں کو ماؤنٹ ایورسٹ کے قریبی ائیر پورٹ سے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔تاہم حکام نے کسی بھی قسم کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے اور صرف یہی کہا کہ بظاہر زخمیوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور انھیں آنے والے زخم قابلِ علاج ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں میں 12 نیپالی شرپا اور ایک ایک چینی، جاپانی اور جنوبی کوریا کا شہری شامل تھا۔

میں نے کیا دیکھا

برس ہا برس سے نیپال میں ٹورگائیڈز کی خدمات سرانجام دینے والے شرپا نامی گروہ میں سے ایک پیمبا شرپا جن کی عمر 43 برس ہے اپنے زندہ بچ جانے پر بہت حیران تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’میں نے بہت اونچی آواز سنی تھی، اور دوسری بات جو میں جانتا ہوں وہ یہ کہ میں برف کے ریلے تلے دب گیا۔
’میری آنکھ کھلی تو میں ایک ٹینٹ میں تھا اور میرے اردگرد بہت سے غیر ملکی کھڑے تھے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا ہوا اور میں کہا ہوں۔
اس سے قبل گذشتہ سال 18 اپریل کو برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں 16 شرپا گائیڈز ہلاک ہو گئے تھے۔

کوڈنی شرپا نے زخمی حالت میں ائیر پورٹ پہنچنے کے بعد اپنے مختصر بیان میں بتایا کہ ’میں کھانا بنا رہا تھا، ہم سب زلزلے کے بعد کھلی جگہ پر دوڑ کر پہنچے اور اگلے ہی لمحے برف کی ایک دیوار میرے اوپر آگری، میں نے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کی جو میری قبر بن سکتی تھی، میرا دم گھٹ رہا تھا، میں سانس نہیں لے پا رہا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ مجھے جینا ہوگا۔‘
لیکن جب وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تو ہر طرف تباہی ہی تباہی تھی اور بیس کیمپ کا حصہ ختم ہوچکا تھا۔ وہ خود تو بچ گئے لیکن انھوں نے بہت سے دوستوں کو کھو دیا۔

خیال رہے کہ 1953 سے اب تک ماؤنٹ ایورسٹ کو 4000 سے زائد کوہ پیما سر کر چکے ہیں۔ تاہم حالیہ سالوں میں اسے سر کرنے والے مہم جوؤوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 29029 فٹ یا 8848 میٹر ہے اور ہر سال یہاں کوہ پیمائی کی 30 مہمات جاتی ہیں۔
ان مشنز سے حاصل ہونے والی فیس نیپال میں سیاحت سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا اہم حصہ ہے۔
اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی پر کم از کم ایک لاکھ ڈالر مجموعی خرچ آتا ہے۔

بشکریہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

زندگی کی لمبائی بس ایک بالشت.....


ابھی یہ طےنہیں کہ سبین محمود کو کس نے اور کیوں مارا، مگر پاکستان کے اکثر ٹی وی چینلز اور سب سے کثیرالاشاعت تین اردو اخبارات نے اس قدر احتیاط برتی کہ یہ تو بتایا کہ سبین ’ایک سیمینار‘ کے انعقاد کے بعد ہلاک کردی گئیں مگر کون سا سیمینار؟ یہ نہیں بتایا۔

البتہ سوائے ایک کے تمام انگریزی اخبارات نے بتایا کہ سیمینار کا موضوع تھا ’بلوچستان پر خاموشی توڑئیے۔‘ ذرا سوچیے بلوچستان کا نام اگر کردستان ، کشمیر ، شنجیانگ، چیچنیا یا مشرقی تیمور ہوتا تو اردو میڈیائی خوانین کی جراتِ رندانہ کن بلندیوں پر ہوتی ؟

کوئی نام لے نہ لے مگر بلوچستان توجہ کی متلاشی بنیادی انسانی جبلت کا دوسرا نام ہے۔ میرا دو سالہ بیٹا واسع نہ ماں کی طرف سے بلوچ ہے نہ باپ کی طرف سے ۔پھر بھی آج صبح اس نے میرے سر پر اپنا کھلونا دے مارا کیونکہ میں اس کی بات نہیں سن رہا تھا۔

حالانکہ کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ رہا کہ اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن ٹی وی چینلز کی ٹاک شاپس کے شرکا سے یہ بات طریقے طریقے سے کہلوانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ اس واردات میں ذاتی بغض ، خاندانی کینے ، خفیہ غیر ملکی ہاتھ یا انتہا پسند و دہشت گرد تنظیموں کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

ضروری نہیں کہ اس قتل کا تعلق بلوچستان کے موضوع پر سیمینار یا اس کے انعقاد سے ہو کیونکہ سبین کو ایک عرصے سے طرح طرح کی کثیر سمتی دھمکیوں کا سامنا تھا۔

اس لیے ممکن ہے کہ کسی عیار قاتل نے ان کی ہلاکت کے لیے ایسا وقت چنا کہ انگلیاں خود بخود بلوچستان کے بارے میں حساس اداروں کی جانب اٹھ جائیں۔تاہم فوج کے محکمہِ تعلقاتِ عامہ کی طرف سے افسوسناک واقعے کی بروقت مذمت اور سبین کے قاتلوں کی گرفتاری میں مدد کے لیے انٹیلی جینس اداروں کے تعاون کی یقین دہانی کے بعد چے مے گوئیاں ختم ہوجانی چاہیے۔

یہ بھی خطرہ ہے کہ پاکستان میں بھاری چینی سرمایہ کاری اور گوادر تا کاشغر کاریڈور منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ملک دشمن طاقتیں مزید وار کریں لہذا ایک دوسرے پر خامخواہ انگشت نمائی کے بجائے اتحاد و یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے اور اس پس منظر میں بری فوج کے سربراہ کے حالیہ انتباہ کو بغور سمجھنا چاہئیے کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کاری اور اس کے مددگاروں کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔

مجھے واقعی اندازہ نہیں کہ سبین محمود کے قتل کے بعد الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے یہ وضاحت بازی ازخود ہے یا کسی کے مشورے پر ہے ۔اور انھی ٹاک شاپس میں بیٹھا کوئی ٹیلی افلاطون کیوں کہنے کو تیار نہیں کہ صرف سبین کا قتل ہی نہیں بلکہ اس طرح کے دیگر ہائی پروفائیل کیسوں بشمول بے نظیر بھٹو کیس اور عام شہریوں کی ماورائے عدالت جبری گمشدگی اور قتل میں ملوث مجرموں کو تلاش کرکے کٹہرے میں لایا جائے اور اب تک اس بابت جو بھی تحقیقاتی سفارشات مرتب ہوئیں ان پر عمل درآمد کو اولیت دی جائے تاکہ ریاستی رٹ پر اعتماد چاروں طرف سے ڈسے شہریوں پر بحال ہونا شروع ہو۔

کوئی بھی جلیبیانہ گفتگو کا ماہر کیوں سیدھے سیدھے نہیں کہتا کہ واقعات کی فوری رسمی رپورٹیں طلب کرنے ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں یا پھر عدالتی کمیشن بٹھا کران کی نتیجہ خیزسفارشات کو تہہ خانے میں رکھنے کی عادتی ورزش سے آگے بھی اب بڑھا جائے اور ’ہمارے اور ان کےحرام زادے‘ کی تمیز ختم کرکے ہر حرم زدگی کا بلا امتیاز پیچھا کیا جائے تاکہ واقعی یقین ہو سکے کہ ریاست نامی کوئی محافظ بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے ۔( یہ سب میں کہہ تو رہا ہوں لیکن کس سے 

امید تو یہ بندھائی جارہی تھی کہ تنگ نظری اور دہشت گردوں کے گرد جوں جوں گھیرا تنگ ہوتا جائےگا توں توں خوف کی فضا چھٹتی چلی جائے گی اور ہر طرح کے قومی مسائل پر مدلل مکالمے کی روائیت اور رواداری بحال ہوتی چلی جائے گی ۔

مگر یہاں تو حالات بقول اسد اللہ خان غالب یوں ہیں کہ ’ کون بھڑ۔۔رہا ہوا ہے ؟ گورے کی قید سے چھوٹا تو کالے کی قید میں آگیا‘
ایک بلوچی لوک گیت کے بول ہیں، میں نے زندگی ناپ کے دیکھی ، یہ بالشت بھر ہی ہے۔  بہ شکریہ شاہ محمد مری 

وسعت اللہ خان

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...