Sunday, November 23, 2014

ہاتھی دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور.....


دنیا کے بیشتر ممالک میں حکومت کے زیر انتظام کارپوریشنوں اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں کلیدی عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے آزاد اورخود مختار کمیشن تشکیل دیئے گئے ہیں تاکہ شفاف طریقہ ٔ کار اختیار کر کے موزوں ترین افراد کا انتخاب کیا جاسکے ۔ برطانیہ،آسٹریلیا اورکینیڈاسمیت ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ رجحان ہے ہی مگر ہمسایہ ملک بھارت میں بھی اسی نوعیت کا کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی سفارشات کی روشنی میں اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتیاں کی جاتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں جب بھی ریوڑیاں بانٹتے ہیں تو تقسیم کا عمل اپنوں سے شروع ہو کر اپنوں پر ہی ختم ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے ایک دوست عدنان خواجہ کو او جی ڈی سی ایل کا چیئرمین لگا دیا جس پر بہت شور ہوا تو سپریم کورٹ نے اس تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے میرٹ کے برعکس تقرریوں پر اعتراض کیا جا رہا تھا تو مسلم لیگ (ن) کے رہنماء خواجہ آصف آگے بڑھےاور انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک در خواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ بیشتر ممالک میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے افراد کا انتخاب آزاد اور خود مختار کمیشن کرتا ہے لہٰذا حکومت کو پابند کیا جائے کہ سرکاری اداروں کے سربراہوں کا تقرر کرنے کیلئے یہی طریقہ اختیار کرے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں ایک تین رُکنی بنچ نے اس موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے حکم جاری کردیا کہ تمام سرکاری کارپوریشنوں اور خود مختار اداروں کے سربراہوں کے تقرر کیلئے ایک بااختیار کمیشن بنایا جائے۔

اس دوران اسمبلیوں کی مدت ختم ہو گئی ،عام انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار آ گئی۔ نواز شریف نے آغاز میں ہی جو تقرریاں کیں ،انہیں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کی طرح واویلا کرنےاور اعلیٰ عدالتوں کی صریحاً حکم عدولی کے بجائے وہ پالیسی اختیار کی جس سے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں چار ماہ کی تاخیر کے بعد ایک تین رُکنی کمیشن تشکیل دیا گیا اور پوری کوشش کی گئی کہ یہ کمیشن ان اہم عہدوں کیلئے موزوں افراد کاانتخاب کرنے میں ناکام رہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب چوہدری عبد الرئوف کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے اس کمیشن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین شمس قاسم لاکھا اور ڈاکٹر اعجاز نبی شامل تھے۔ حکومت کی بدنیتی کا پہلا واضح ثبوت تو یہ ہے کہ ان افراد کو ایک اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی جنہیں سر کھ جانے کی فرصت نہیں ہوتی۔ اگر نیت صاف ہوتی تو جز وقتی افراد کے بجائے کل وقتی افراد کا انتخاب کیا جاتا۔طے یہ پایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن کی جانب سے اس کمیشن کو سیکریٹریٹ سمیت تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی لیکن سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ندیم آصف نے اس کمیشن کو درخور اعتناء نہ سمجھا۔ کمیشن کا دائرہ کار بہت محدود اور اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے۔ انہیں کسی عہدے کیلئے اشتہار جاری کرنے کا اختیار تھا نہ درخواستیں طلب کرنے کی اجازت۔ متعلقہ محکمے وزارتوں کے توسط سے اشتہارات جاری کرتے اور موصول ہونے والی تمام درخواستیں ہیومین ریسورس کنسلٹنٹ فرم کے حوالے کر دی جاتیں۔ طرفہ تماشہ یہ کہ کمیشن کی تشکیل بعد میں ہوئی مگر کنسلٹنٹ کی خدمات پہلے حاصل کر لی گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ جن 58اہم عہدوں پر تعیناتیاں کرنی تھیں ان میں سے بیشتر کے اشتہارات پہلے ہی شائع ہوچکے تھے۔ اشتہارات میں قابلیت و اہلیت اور تجربے سے متعلق دی گئی شرائط نہایت بے معنی تھیں، مثال کے طور پر مینیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین کے لئے ایک ہی معیار رکھا گیا۔ پھر من پسند افراد کو نوازنے کے لئے اہلیت و قابلیت کے پیمانے تبدیل بھی ہوتے رہے مثال کے طور پر 9,10اکتوبر 2013ء کو چیئرمین/ایم ڈی پی ٹی وی کے لئے اشتہار جاری ہوا تو ماس کمیونیکیشن یا جرنلزم کی ڈگری کے حامل افراد سے درخواستیں طلب کی گئیں مگر چند دن بعد ایک ترمیمی اشتہار کے ذریعے ایم ایس سی انجینئرنگ ،ایم بی اے اور ایم پی اے والوں کو بھی اہل قرار دے دیا گیا۔ چوہدری عبد الرئوف کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے کمیشن کے پاس صرف یہ اختیار تھا کہ وہ شارٹ لسٹ کئے گئے امیدواروں کا انٹرویو کرے اور اپنی سفارشات وزیراعظم کو بھجوائے۔ اس پیچیدہ طریقہ کار کے باوجود ابتدائی تین اجلاسوں میں کمیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی کے چیئرمین،ممبر ٹیکنیکل اور ممبر فنانس،ایم ڈی پی ٹی وی اور چیئرمین پاکستان اسٹیل مل کا انتخاب کر لیا۔ مگر اس کے بعد حکومت کی مداخلت اور سفارشات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب اس کمیشن نے چہیتوں کو نوازنے کے عمل میں شریک ہونے سے انکار کردیا تو سوچے سمجھے طریقے کے تحت اس کمیشن کے پر کاٹ کر اسے عضو معطل بنا دیا گیا۔
جب سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور حکومت سے پوچھا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ان پبلک سیکٹر آرگنائزیشنوں کے سربراہوں کا تقرر کیوں نہیں کیا گیا تو اٹارنی جنرل کے ذریعے بتایا گیا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں کمیشن تو بنادیا گیا ہے لیکن اگر اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو آئندہ کئی برس ان اداروں کے سربراہان کا تقرر نہیں کیا جا سکے گا۔ 

گویا سابقہ دور حکومت میں خواجہ آصف کی پٹیشن پر سپریم کورٹ کے جس فیصلے کو مسلم لیگ (ن) نے اپنی فتح قرار دیا تھا ،اپنی حکومت آنے پر اسی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ایک تین رکنی بنچ نے نظر ثانی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے محولہ فیصلے کو چند روز قبل کالعدم قرار دے دیا اور حکومت کو پرانے طریقہ ء کار کے مطابق تقرریاں کرنے کی اجازت دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس گلزار جنہوں نے حالیہ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں کمیشن بنانے کے فیصلے کو کالعدم قراردیا، انہی جج صاحبان نے ہی خواجہ آصف کی پٹیشن پر 2013ء میں فیصلہ دیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ تب افتخار چوہدری چیف جسٹس کی حیثیت سے بنچ کے سربراہ تھے اور اب جسٹس ناصر الملک۔ بہر حال مجھے امید ہے کہ حکومت کے زیر انتظام وہ 55ادارے جو گزشتہ ڈیڑھ برس سے سربراہان کے بغیر چل رہے تھے، ان میں من پسند تعیناتیوں کی سمریاں پہلے سے ہی تیار ہوں گی اور وزیر اعظم بلا خوف و خطر ان پر دستخط کرسکیں گے۔تاہم یہ صورتحال عمران خان سمیت ان تمام اپوزیشن رہنمائوں کیلئے نوشتہء دیوار ہے جو آج بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کل جب وہ برسراقتدار آئیں،آٹے دال کا بھائو معلوم ہو تو ان کی ترجیحات بدل جائیں اور وہ اپنے ہی فیصلوں پرنظر ثانی کراتے پھریں۔ سچ کہا ہے کسی نے، سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی یا پھریوں کہہ لیں کہ سچ مچ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں دکھانے کے اور۔

محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ جنگ