Monday, December 22, 2014

ریکوڈک کا منصوبہ ، بے بس وزیراعلیٰ.....


بلوچستان شاید ہمیشہ سے ہی بدقسمت رہا ہے کیونکہ یہاں کوئی بھی حکومت ایسی نہیں رہی جس نے عوام کا مفاد پہلے سوچاہو ۔ اب جبکہ ایک بڑا منصوبہ جس کا سودا سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں ہوگیا تھا اب اس کے حوالے سے مزید نئے انکشافات اور سودے بازیاں سامنے آرہی ہیں ۔

بلوچستان میں ڈاکٹر مالک بلوچ کی منمناتی حکومت کیلئے ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے کیونکہ وزیراعلیٰ پر ریکوڈک جو دنیا میں کاپر (Copper)کے دس بڑے ذخائر میں شامل ہے کی فروخت اور سودے بازی میں کک بیکس (خفیہ معاہدے کے تحت رقم لینا) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جس کی وضاحت کیلئے انہوں نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں پریس کانفرنس کی۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے عالمی ثالثی عدالت برائے بین الاقوامی سرمایہ کاری میں کیس کی پیش رفت سے پیرس سے واپس آنے کے بعد فوری کیوں آگاہ نہ کیا گیا ۔ اور اب الزامات کے بعد اس کے بارے میں بتارہے ہیں۔ بقول ان کے یہ انتہائی اہم اور عوام کے مفاد کا منصوبہ ہے، لیکن پھر بھی انہوں نے اس کی اہمیت اور کیس کے حوالے سے عوام کو اُس وقت تک بتانا ضروری نہیں سمجھا جب تک اُن پر الزام نہ لگ گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ٹی تھیان کاپرکمپنی  بلوچستان منرلز رولز کی خلاف ورزی کی اور6کلو میٹر پر مشتمل ذخائر کی فزیبلٹی رپورٹ تاخیر سے جمع کرکے مائننگ کیلئے 90کلو میٹر کا لائسنس طلب کیا ۔گویا یہ بلوچستان ہے، جو بھی آتا ہے شاید حکومت یا بیوروکریسی کو دیکھ کر وہ فریب دھوکہ دہی اور ناجائز منافع کمانے پر جت جاتا ہے ۔دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق جس کا تذکرہ ایک نیوز چینل کے اینکر نے بھی کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر بڑے ناموں نے بھی منصوبے پر کک بیکس سے فائدہ اٹھایاجو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔

جبکہ ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جیسا ارسلان افتخار نے وعدہ کیا تھا بالکل اسی طرح ان کے استعفے سے قبل کان کنی اور مالیاتی شعبہ میں سرگرم ایک آسٹریلوی ،کینڈین اور امریکی کمپنیوں کی مشترکہ کمپنی (کنسورشیم ) ریکوڈک کے سونے کی کان کیلئے نیلامی میں اپنی بولی میں تبدیلی لاکر اسے 100ارب ڈالرز تک پہنچاکر دوبارہ پیش کرنے پر غور کررہی ہے اور یہ رقم آئندہ 30سال میں ادا کی جائیگی ۔امریکی کپنی پہلے ہی ریکوڈک کے مقام سے قریب ہی ایک اورمقام پر سرگرم عمل ہے جبکہ آسٹریلوی بینک پانچ برس میں چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے تاکہ ریکوڈک سے سونااور تانبا نکالا جاسکے ۔

کینڈین اور چلی کی جس مشترکہ کمپنی کو سپریم کورٹ نے ریکوڈ کے پروجیکٹ سے باہر کردیا تھا اس نے پیش قیمت قدرتی ذخائر نکلنے کے بعد پچاس برسوں میں صرف 56ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا تھا یہ مشترکہ کمپنی ریفائننگ کیلئے خام مال پاکستان سے باہر لیجانا چاہتی تھی۔ اس پروجیکٹ سے باہر نکالی جانے والی ان کمپنیوں نے پاکستان کیخلاف عالمی عدالت میں ثالثی کا مقدمہ بھی دائر کررکھا تھا تاہم یہ دونوں کمپنیاں مقدمہ ہار چکی ہیں ۔

اس شو میں مزید نئے رنگ سامنے آرہے ہیں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کو بچانے کے دعویدار صوبے کے وسائل بیچنے کیلئے سب کو راضی کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے ریکوڈک کا سودا طے کرلیا ہے میڈیا کو خاموش کرانے کیلئے بھی 17کروڑ مختص کیے ہیں۔ لندن میں غیر ملکی کمپنی کے دفتر میں اعلیٰ شخصیت کے بیٹے نے تمام تر معاملات طے کرلیے ہیں ۔جن کا وقت آنے پر پردہ چاک کرونگا ۔

دوسری جانب بلوچستان کے اپوزیشن لیڈر اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ ریکوڈک کا سودانہیں کرنا چاہتے تو 13دسمبر کو کو لندن کچھ غیر ضروری لوگوں کیساتھ کس مقصد کیلئے جارہے ہیں وہ اس خوش فہمی میں نہ رہیں اگر ریکوڈک کا سودا کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر میں ریکوڈک بچاؤ تحریک شروع کی جائے گی ۔

اِن تمام تر خدشات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریکوڈک نے کوئٹہ میں آفس کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا اور تمام چیزیں اسلام آباد منتقل کرکے صوبے سے بھرتی ہونیوالے ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے جنہیں کہا گیا کہ ریکوڈک کو فروخت کردیا گیا ہے ۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرون خانہ بہت کچھ چل رہا ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکومتی عہدیداروں کیلئے کڑا متحان ہے۔

کہا یہ جاتا تھا کہ جس دن اِس صوبے سے سرداروں اور وڈیروں سے اقتدار ، قوم پرستوں کو منتقل ہوجائے گا تو صوبے کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہوجائیں گے مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔ کیونکہ صوبے میں قوم پرست حکومت کے آنے کے باوجود امن وامان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی بم دھماکے ،مسخ شدہ لاشوں کا ملنا بدستور جاری ہے ۔ ۔۔۔ مستقبل میں کیا ہوتا ہے ؟ اِس کا اندازہ تو ہرگز نہیں مگر اُمید اچھی رکھنی چاہیے۔ لیکن یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ریکوڈک ہمارا قومی اثاثہ ہے ۔۔۔۔ ایک ایسا اثاثہ جس مستفید ہوکر ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے ۔۔۔۔ اِس لیے حکمرانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اِس قومی اثاثہ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے اگرایسا ہوا تو نتائج خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔

میر ہزار خان بلوچ

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے.....

یہ کوئی نئی بات نہیں ۔۔۔۔ اِ س مملکت خداداد میں ایسا تو ہوتا ہی ہے ۔۔۔۔ جیسے ایک مشہور فلم کا ڈائیلاگ ہے کہ ’بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں‘۔

یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ جب اقتدار پر قبضہ ہو توانسان سب کچھ بھول جاتا ہے ۔۔۔۔ اور جیسے ہی اقتدار ہاتھوں سے پھسلا ۔۔۔۔ یادداشت ایسے بحال ہوتی ہے جیسے گھر میں ڈیڑھ گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ کے بعد بجلی بحال ہوتی ۔

بات کو طویل کرنے کے بجائے نقطہ پر آتے ہیں ۔۔۔۔ نقطہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے سابق صدر محترم جناب پرویز مشرف کی یادشات بھی گزشتہ دنوں اِسی طرح بحال ہوئی ہے ۔ پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہکوئی پاکستانی بھی امریکہ کو قابل اعتبار اتحادی نہیں سمجھتا ۔مشرف صاحب کی جانب سے کیا جانے والا یہ انکشاف ، ایک ایسا انکشاف ہے جس پر شاید کوئی ایک بھی پاکستانی حیران نہیں ہوگا ۔۔۔۔ کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے یہ قوم روز اول سے نہ صرف اچھی طرح آگاہ ہے بلکہ قرب میں بھی مبتلا ہے کہ قوم میں اِس قدر تحفظات اور نفرت کے باوجود کیونکر ہمارے حکمرانوں نے اپنا قبلہ امریکہ کی جانب کیا ہوا ہے ۔
تو اب قوم کو بتلانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے دو چہرے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ایک چہرہ وہ جب وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ دوسرا چہرہ وہ جب اُن سے زیادہ عوامی لیڈر کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ جب ہمارے حکمراں اقتدار میں ہوتے ہیں تو پھر ہر حقیقت اُن کو جھوٹ اور ہر جھوٹ اُن کو حقیقت لگتی ہے اور جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اُن کو سب ویسا ہی دکھائی دے رہا ہوتا ہے جیسا حقیقت میں ہوتا ہے۔

چلیں آپ کو مثال بھی دیے دیتے ہیں ۔۔۔۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے نوازشریف اور اُن کی ٹیم اُس وقت کی حکومت پر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے دباو بھی ڈالتی تھی، پھر ہر غلطی پر تنقید بھی کرتی تھی، مہنگائی اور بیروزگاری پر بُرا بھلا بھی کہتی تھی ۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر امریکہ کا ساتھ دینے پر تنقید بھی کی جاتی تھی ۔۔۔۔ مگر اب سب کچھ اُلٹ گیا ہے ۔۔۔۔ جو تنقید نواز شریف ، پیپلزپارٹی کی حکومت پر کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ آج وہی تنقید خود اُن کی حکومت پر ہورہی ہے ۔۔۔۔ اورتنقید کرنے والے بیشمار افراد اور گروہ میں سے ایک پیپلزپارٹی بھی ہے جس پر خود یہ الزام اُس کے دورِ حکومت پر لگتے آئے ۔۔۔۔

اِس ساری بات کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سب مفادات کا کھیل ہے ۔۔۔۔ مشرف صاحب نے 11 پاکستان پر حکومت کی ۔۔۔۔ اور یہی وہ دور تھا جب دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا اور پاکستان اِس کھیل میں امریکا کا صفِ اول کا اتحادی تھا ۔۔۔۔ اور اِس اتحاد پر مشرف اور اُن کی حکومت فخر محسوس کیا کرتے تھے۔

لیکن چونکہ وہ حکومت کے مزے ختم ، وہ یادگار دور ختم ۔۔۔۔ تو اب سچ بولنے میں بھلا کونسا نقصان ہے ۔۔۔۔ بلکہ اِس موقع پر سچ بولنے سے تو عوام کی حمایت حاصل کی جاسکتی ہے اور جب ہو عوام آپ کے ساتھ تو پھر آسانی سے مل سکتا ہے اقتدار۔۔۔۔

لیکن پھر بھی ۔۔۔۔ یہاں یہ سوال تو بنتا ہے کہ سرکار ، آپ اِس حقیقت سے کب آگاہ ہوئے کہ ہم یعنی پاکستانی امریکہ کو بااعتماد اتحادی نہیں سمجھتے ؟ اگر تو اِس حقیقت کا انکشاف حال ہی میں کسی خواب کے ذریعے ہوا ہے تو ہمیں آپ کی طرف سے سچ بولے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔۔۔۔ مگر آ پ جیسے بڑی شخصیت کے بارے میں یہ تصور بھی محال ہے کہ آپ اِتنی بڑی حقیقت سے ناآشنا ہوں ۔۔۔۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے کہ چونکہ آپ نے بھی ہم پر حکومت کی ہے اِسی لیے آپ کے بھی دو چہرے تھے ۔۔۔۔ ایک چہرہ وہ تھا جب آپ ہم پر حکومت کررہے تھے اور ظاہر ہے اُس دور میں آپ کے لیے سچ کو جھوٹ بولنا بنتا تھا ۔۔۔۔ اور اب آپ عوامی لیڈر بننے کی خواہش دل میں لیے بیٹھیں ہیں تو ظاہر ہے عوامی باتیں تو کرنی ہی ہونگی ۔۔۔

اِس ساری بات کے بعد خواہش تو یہی ہے کہ کاش ہمارے حکمران دو چہروں سے جان چھڑاکر ایک ہی چہرے پر گزارا کرلیں ۔۔۔۔ جس حقیقت کو وہ اقتدار کے بغیر حقیقت سمجھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر اُسی حقیقت کو اقتدار میں بھی حقیقت سمجھ لیں تو ہمارے مسائل کا حل کچھ ہی مہینوں کے بجائے شاید کچھ ہی دنوں میں حل ہوجائیں وگرنہ ہم اِسی طرح دیر کرتے رہیں گے اور مسائل کے انبار میں دبتے رہینگے۔

فہیم پٹیل

Gaza Docter Mads Gilbert named Norway's person of year



Mads Gilbert, 67,whose day job is head physician and anaesthesiologist as the University Hospital of North Norway, spent more than fifty days treating many of the 11,000 injured in this summer’s conflict. Gilbert was vocal in his criticism of Israel during the war, describing the country’s actions as “state terrorism at the highest levels.” Israel later banned the doctor from Gaza. The ban was officially for security reasons, but Gilbert himself claimed the ban was due to his comments about the war. Israel denied reports that the ban was for life.

He gave graphic accounts to international media of the situation in Gaza’s hospitals, describing how civilians were “maimed and torne apart”. In an open letter to the Lancet medical journal, he and a number of other doctors said they were “appalled by the military onslaught on civilians in Gaza under the guise of punishing terrorists.”Gilbert’s is a controversial figure in Norway, where he is considered to be on the far-left fringe of politics. Following the 9/11 attacks in 2001 he said he supported terror attacks against the US, saying western foreign policy justified them.

The award was the result of a vote among VG’s readers. Explaining the award, VG’s editor Torry Pedersen described Gilbert as a “self-sacrificing, engaged Norwegian doctor who again and again has risked his life, has stood in the middle of a bloodbath in Gaza, and who has just one goal: to save the lives of as many children as he can.”Accepting the prize, Gilbert said he interpreted the award as support, “not primarily for me, but for the long-suffering Palestinian people. I think that people are longing for plain speaking, to know what’s really happening in Gaza. I’m trying to fill that role as best I can.”

Who is doctor Mads Gilbert?
Born in Oslo, 1947.
Head physician specializing in anesthesiology at University Hospital of North Norway.
Over 30 years working in international conflict areas, especially Gaza.
Awards include Fritt Ords Honorary Prize (2009).
Appointed Commander to the Order of St Olaf (2013).
Received PhD at University of Iowa.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...