ہماری قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کا نیو یارک کے مہنگے ترین علاقے میں واقع روز ویلٹ ہوٹل جیسا اثاثہ، جسے 70 کی دہائی میں خریدا گیا تھا، بھی بدانتظامی کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصہ سے خسارے میں تھا۔ اب اِس تاریخی ہوٹل کو 94 سال بعد بالآخر بند کر دیا گیا ہے۔ اِس بندش کی وجہ کورونا کے باعث ہوٹل کا خسارے میں ہونا بتائی گئی ہے۔ روزویلٹ ہوٹل انتظامیہ نے نیویارک کے حکام کو ہوٹل کی بندش سے آگاہ کر دیا ہے۔ ہوٹل بند ہونے سے چار سو اکتیس افراد نوکریوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہوٹل کو غیرمعینہ مدت کے لئے بند کرنے کا اعلان رواں سال مارچ میں ہوا تھا۔ ہوٹل کو مستقل طور پر بند کرنے کے فیصلے پر سیاسی رہنمائوں نے شدید تنقید کی ہے۔ بلاشبہ کورونا نے ہوٹل کی صنعت کو نقصان پہنچایا مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہوٹل فروخت کر دیا جائے جو پچھلے کئی برس سے ہر سال منافع کما رہا تھا۔
نیو یارک کے مہنگے ترین علاقے میں واقع ہوٹل انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ’’موجودہ معاشی اثرات کے باعث نیو یارک کا گرینڈ ڈیم روز ویلٹ ہوٹل تقریباً 100 برس تک مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے بعد اب مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے‘‘۔ یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ قرض لے کر یا اپنے اثاثے فروخت کرنے سے معیشت کو کبھی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔ پی آئی اے کی ملکیت تاریخی روز ویلٹ ہوٹل کو فروخت کرنے کی بات اگرچہ ن لیگ کے دور میں ہوئی تھی لیکن اُس پر عمل نہ ہو سکا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوٹل فروخت کر کے پی آئی اے کو تقویت دی جائے، اُس کیلئے نئے جہاز خریدے جائیں اور موقف اب بھی یہی ہے۔ حکومت اِس معاملے کا ازسر نو جائزہ لے اور ملک کے بہترین مفاد کے پیش نظر ہی کوئی فیصلہ کرے، حکومت بلاشبہ معاشی مسائل سے دوچار ہے لیکن اُن کا حل اپنے وسائل سے استفادہ کرنے اور معیشت کو مقامی بنیادیں فراہم کرنے میں ہے۔
0 Comments