Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

کورونا وائرس : پاکستان کی نوجوان آبادی کورونا کے بدترین اثرات سے بچاؤ کی اہم وجہ ہے؟

ایک کمزور صحتِ عامہ کا نظام، ایک بڑی آبادی، اور غربت کی وجہ سے کئی خاندانوں کا گنجان آباد علاقوں میں رہنا، ان ساری وجوہات کی بنا پر پاکستان میں شروع سے ہی کورونا وائرس کی وبا کے تباہ کن ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ اور جون کے مہینے میں ایسا لگ رہا تھا کہ حالات بہت بگڑ جائیں گے جب ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کے ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ بھرے ہوئے تھے اور لوگ اپنے پیاروں کو ہسپتال کے بستر کی تلاش میں لے کر در بدر پھر رہے تھے۔ مگر چند ہی ہفتوں میں ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں زبردست کمی دیکھی گئی۔ کچھ ڈاکٹر ابتدائی طور پر اس حوالے سے شکوک میں مبتلا ہو گئے تھے کہ کہیں مریضوں کو ’زہر دیے‘ جانے کی غلط اطلاعات کی وجہ سے کہیں لوگ اپنے گھروں پر خود ہی علاج تو نہیں کرنے لگ گئے۔ مگر یہ کمی متواتر رہی ہے۔ اب پاکستان میں زندگی عام حالات کو لوٹ رہی ہے اور جزوی طور پر لاک ڈاؤن کی آخری پابندیاں بھی اٹھائی جا رہی ہیں۔

تئیس کروڑ میں سے تقریباً 6000 افراد کی ہلاکت کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر پاکستان اس سلسلے میں کئی مغربی ممالک سے بہتر رہا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں 6 کروڑ 70 لاکھ افراد میں 41000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ملک انڈیا میں دلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بھی صوتحال انتہائی بری رہی ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لاک ڈاؤن اقدامات کی بارہا مخالفت کے باوجود سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم کہتے رہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بھوک و افلاس پھیل جائے گا۔ مگر پھر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے اعداد و شمار پر مکمل یقین کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان میں ٹیسٹنگ کی شرح قدرے کم رہی ہے۔ اور اس میں مزید کمی آ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکاری طور تصدیق شدہ تقریباً 290000 سے کہیں زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثرہ ہیں۔

مگر مریضوں کی تعداد میں کمی اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جتنے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، ان میں مثبت آنے والوں کی شرح بھی کم ہو رہی ہے اور ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے معروف ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر رانا جواد اصغر کے لیے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے۔ پاکستان میں اوسط عمر 22 ہے، برطانیہ میں یہ تقریباً 41 ہے۔ دنیا میں ہلاکتوں میں اکثریت بڑی عمر کے لوگوں کی ہے۔ ڈاکٹر اصغر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چار فیصد سے بھی کم آبادی 65 سال کی عمر سے زیادہ کی ہے جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح تقریباً 20 سے 25 فیصد ہے۔ ’اسی لیے پاکستان میں اتنی اموات نہیں ہوئیں۔‘مگر اب تک گرم تر موسم اور دیگر بیماریوں کی پہلے سے موجودگی کے بارے میں وضاحتیں ابھی تک ثابت نہیں کی جا سکی ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس میں کمی اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا لائحہِ عمل اپنایا جب ان علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا گیا جہاں وبا کے پھیلنے کے امکانات تھے۔

وبائی امراض کے سماجی تناظر کی ماہر لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر مشال خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اس حوالے سے بہتر علامات ہیں مگر یہ مکمل وضاحت نہیں ہے۔ اگرچہ آبادی کی عمر اور سماجی رویوں سے یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی صورتحال مغربی ممالک سے کیوں مختلف ہے مگر اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ ہمسایہ ملک انڈیا جیسی کیوں نہیں ہے۔ انڈیا میں اموات فی دس لاکھ افراد پاکستان کی شرح سے ملتی جلتی ہے مگر وہاں ہسپتالوں پر دباؤ زیادہ پڑا ہے اور کیسز میں ابھی بھی تیزی آ رہی ہے۔
ڈاکٹر اصغر کا یہ بھی کہنا ہے ترقی پزیر ممالک میں مغربی ممالک کے مقابلے میں لوگوں کے سماجی تعلقات کا دائرہ قدرے چھوٹا ہوتا ہے۔ ’ایک دفعہ جب وائرس ان سماجی تعلقات کے دائرے سے گزر جاتا ہے پھر یہ مر ہی جاتا ہے۔‘ مگر اب تک گرم تر موسم اور دیگر بیماریوں کی پہلے سے موجودگی کے بارے میں وضاحتیں ابھی تک ثابت نہیں کی جا سکی ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس میں کمی اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا لائحہِ عمل اپنایا جب ان علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا گیا جہاں وبا کے پھیلنے کے امکانات تھے۔ وبائی امراض کے سماجی تناظر کی ماہر لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر مشال خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اس حوالے سے بہتر علامات ہیں مگر یہ مکمل وضاحت نہیں ہے۔ اگرچہ آبادی کی عمر اور سماجی رویوں سے یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی صورتحال مغربی ممالک سے کیوں مختلف ہے مگر اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ ہمسایہ ملک انڈیا جیسی کیوں نہیں ہے۔ انڈیا میں اموات فی دس لاکھ افراد پاکستان کی شرح سے ملتی جلتی ہے مگر وہاں ہسپتالوں پر دباؤ زیادہ پڑا ہے اور کیسز میں ابھی بھی تیزی آ رہی ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ انڈیا میں شہر زیادہ گنجان آباد ہیں۔ پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈئا کے پروفیسر کے شریناتھ نے اس بات کی نشادہی کی ہے کہ دلی اور ممبئی دونوں میں کسیز میں تیزی اب نہیں آ رہی اور ملک کے دیگر حصوں میں سے کیسز آ رہے ہیں۔ مگر ڈاکٹر اصغر کا کہنا ہے کہ ابھی ایسے موازنے کرنا قبل از وقت ہے۔

پاکستان میں ابھی بھی دوسری لہر کا خطرہ موجود ہے۔ جولائی میں ادویات بنانے والی ایک کمپنی گیٹز فارما کے کراچی میں ایک جائزے کے مطابق ملک کی 17.5 فیصد آبادی کا اس وائرس سے سامنا ہوا ہے۔ یعنی ابھی بہت سے لوگوں کو اس وائرس کی علامات ہو سکتی ہیں۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب جب پاکستان میں مقامی سیاحوں کی ایک بڑئ تعداد شہروں سے اٹھ کر دیہاتوں میں جا رہی ہے، تو یہ خصوصی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وائرس ترقی پزیر علاقوں میں پھیل سکتا ہے جہاں صحتِ عامہ کے وسائل کی کمی ہے۔ ڈاکٹر اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹریکنگ کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں صورتحال قدرے بہتر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اب خطرے سے باہر آ گئے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Post a Comment

0 Comments