Header Ads

Breaking News
recent

کلبھوشن یادو، ہم کب سیکھیں گے؟

عبداللہ شیخ میرے بُرے وقتوں کے دوست ہیں، میرے اِس بندے سے خواہ کتنے ہی نظریاتی، علمی اور سیاسی اختلاف ہوجائیں لیکن میرا اور اِس کا تعلق خراب نہیں ہوتا۔ اِس میں عبداللہ کا بڑا پن بھی ہے اور درگزر کرنے کی عادت بھی۔ میں جب دبئی میں تھا اور مجھے حالات کی سمجھ نہیں آرہی تھی تو اُس وقت عبداللہ بھائی بھی دبئی میں تھے۔ اُن کو جب یہ پتہ چلا کہ میں دبئی ہوں تو پہلے ناراض ہوئے کہ بتایا کیوں نہیں اور پھر ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ میرے ساتھ اُس وقت تک رہے جب تک میں پاکستان نہیں آگیا۔

وہاں میں نے اُن میں ایک عجیب بات نوٹ کی، اور وہ یہ کہ عبداللہ بھائی خطرناک حد تک جذباتی ہیں۔ یہ پاکستان کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتے تھے۔ انگریزی میں اتنے ماہر نہیں ہیں لیکن دماغ میں فوری ترجمہ کرتے ہوئے مخالف کو مناسب ’شٹ اپ کال‘ ضرور دے دیتے ہیں۔ جس فلیٹ میں وہ اور میں ساتھ رہ رہے تھے، وہاں اکثریت بھارتیوں کی تھی جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صرف ہم دو ہی تھے۔ لیکن آپ یقین کیجئے کہ اِس قلیل تعداد کے باوجود بھی ہمارا اُن پر ایک عجیب رعب تھا۔
اِس رعب میں عبداللہ بھائی کا کردار بھی اہم تھا کہ اُنہوں نے فلیٹ میں شفٹ ہوتے ساتھ ہی اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ ایک دو کو اپنے طریقے سے دبایا تو باقیوں کی بولتی بند ہو گئی تھی۔ سب سے زیادہ اثر اُس وقت ہوا جب چند لڑکے بالکونی میں بیٹھ کر شراب نوشی کر رہے تھے، عبداللہ نے اُن کو دو دفعہ وارننگ دی اور جب وہ نہیں مانے تو تیسری وارننگ ہاتھ میں چھڑی پکڑ کر دی اور یہ وارننگ اتنی زبردست تھی کہ سب لڑکے چپ چاپ تتر بتر ہو گئے، میں نے اُن سے حیرانی سے کہا کہ یار انسان بنیں، کیوں پردیس میں اپنے لئے مصیبت مول لے رہے ہیں؟ عبداللہ بھائی نے کِھلکھِلا کر جواب دیا کہ اگر میں اِن کو چاقو مار دیتا تب بھی اِن میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی سے میری شکایت لگاتے، یہ بزدل لوگ ہیں اور ایک دھمکی میں دبک جاتے ہیں۔ میں جتنے ماہ وہاں رہا میں نے عبداللہ بھائی کی باتوں میں سچائی محسوس کی۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، کلبھوشن یادو کو پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار کیا، یہ گرفتاری بلوچستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جس نے بعد ازاں بلوچستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس بھارتی ایجنٹ نے آن ریکارڈ ہنستے مسکراتے اپنے تمام گناہ تسلیم بھی کئے، اب جب پاکستان میں فوجی عدالت نے اُس کو سزائے موت سنا دی تو اچانک بھارت میں ایک بھونچال اُٹھ گیا۔ وہ بندہ جس نے زندگی میں کبھی مچھر بھی نہیں مارا تھا وہ بھی کلبھوشن کے لئے پاکستان سے ٹکر لینے کی بات کرنے لگا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔ یہ وہی سشما سوراج ہیں جنہوں نے 2016ء میں ہمیں سفارت کاری سکھائی تھی اور میں نے اِن کا طرزِ عمل قریب سے دیکھا تھا کہ راقم اُس وقت ایک بھارتی چینل کا نمائندہ خصوصی تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم شروع دن سے چیخ رہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار ہے، وہ وہاں صوبائیت کا زہر پھیلا رہا ہے، وہ وہاں فرقہ واریت کو زہریلی ہوا دے رہا ہے اور وہ بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش بُن رہا ہے لیکن دنیا نہ تو ہمیں سنجیدہ لے رہی ہے اور نہ ہی ہماری بات کو سنجیدگی سے سُن رہی ہے۔ دنیا ہماری بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، لیکن دوسری طرف بھارت ہے جسے دنیا سنجیدہ بھی لیتی ہے اور اُس کی بات کو اہمیت بھی دیتی ہے۔ کیوں؟ کلبھوشن کے معاملے میں دیکھ لیں، ہمارے پاس بندہ بھی ہے اور ثبوت بھی ہیں، یہاں تک کہ اُس کے جعلی دستاویزات اور اُس کا سروس نمبر بھی ہے لیکن اِس کے باوجود ہم کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں کرسکے۔

ہم نے اِس کو کہیں موثر انداز میں نہیں اٹھایا، حتیٰ کہ سشما سوراج بھی یہ نہیں بتا سکتی ہیں کہ 41885z کے سروس کوڈ کا حامل بندہ پاکستان میں کس سے ملنے آیا تھا، اور اُس کا اعترافی بیان کس تاریخ کا اپریل فول تھا؟ ہم نے اُس کو انٹرنیشنل فورمز میں بھی نہیں اُٹھایا لیکن دوسری طرف بھارت کو دیکھیں کہ اُس نے کلبھوشن کو معصوم کہہ دیا، اُس کو دھرتی کا بیٹا قرار دے دیا اور راجیا سبھا کے پلیٹ فارم سے ہمیں دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر عبدالباسط کو بُلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا تو اُنہوں نے بہت اچھا جواب دیا کہ دہشت گردی بھی آپ کرتے ہیں اور معصوم بھی آپ بنتے ہیں، یہ کیا تماشا ہے؟

ہم آپ کا احتجاج مسترد کرتے ہیں لیکن اُس کے باوجود میڈیا میں کلبھوشن گونج رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہوش مندی ہے، یہ پراپیگنڈہ ٹول کا زبردست استعمال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں کرسکے، آج بھی ہم دنیا کی بیڈ بُکس میں ہیں اور بھارت صرف سفارت کاری اور پراپیگنڈہ ٹولز کا درست استعمال کرکے دنیا بھر کی نظروں میں گڈ بکس میں ہے۔ آپ عبداللہ شیخ کی طرح ایک مرتبہ جرات کر کے بھارت کو جواب تو دیں، یہ چوں چراں بھی نہیں کر سکے گا۔ بھارت کو بغیر کسی اگر مگر کے، قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر شیٹ اپ کالز دیں یہ دوبارہ اونچی آواز میں بات نہیں کرے گا۔ دنیا آج بھی 2016ء میں سب سے زیادہ دھماکوں اور ریپ کے واقعات کے بعد بھی بھارت پر اعتماد کرتی ہے اور ہم کامیاب فوجی آپریشنز اور 85 فیصد دہشت گردی میں کمی کے باوجود بھی بد اعتماد ٹھہرتے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے؟

سالار سلیمان
 

No comments:

Powered by Blogger.