Header Ads

Breaking News
recent

مسلمان حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت

اس وقت پوری دنیا میں افرا تفری کا عالم ہے۔ ہر جانب مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا جہاں نام آئے، اسے اسلام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ ابھی دنیا کے ایک مہذب ملک کینیڈا کی ایک مسجد میں گزشتہ شب نماز عشا کے دوران تین دہشت گردوں نے بلااشتعال و بے سبب فائرنگ کرکے چھ بے گناہ نمازیوں کو شہید کر دیا اور آٹھ عبادت گزار شدید زخمی ہو گئے۔ اسے دہشت گردی نہیں، حادثاتی واقعہ یا چند افراد کا ذاتی فعل قرار دیا جائے گا۔ اگر حملہ آوروں میں بدقسمتی سے کوئی مسلمان ہوتا تو یہ اتفاقی واقعہ نہ شمار ہوتا۔ بلکہ اسلام پر الزام لگتا۔ یہ دوہرے معیار اور دوغلی پالیسی انسانیت کی تذلیل ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں عالمی قوتوں کے دباؤ پر جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ بھی مغربی دباؤ کا نتیجہ ہے اور یہاں بھی ان قوتوں کی دوعملی اور منافقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ جماعۃ الدعوہ ہو یا فلاح انسانیت، اگر انھوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو قانون کے مطابق عدالتوں کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ کیا اندھیر نگری ہے کہ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستانی حکمرانوں نے ایسی تنظیم پر پابندی لگائی ہے، جو مظلوم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لئے سرگرم عمل ہے، ہر آفت کے وقت اس کا پورا نیٹ ورک متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں سرگرم نظر آتا ہے۔ ان کا موقف بالکل واضح ہے کہ پرامن معاشرے میں دھماکے کرنا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ ایسے حالات میں مودی جیسے بدترین اور متعصب اسلام دشمن بنیے سے زیادہ اس فیصلے پر کسی اور کو خوشی نہیں ہوئی ہو گی۔
اقوام متحدہ میں اگر ہمارے دشمنوں نے پاکستان میں کام کرنے والی فلاحی اور سماجی تنظیموں کے خلاف فضا تیار کی ہے تو اس کا توڑ کرنا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت میں آنے والی پارٹیاں کسی خاندان یا طبقے کی نمایندہ نہیں ہوتیں۔ وہ پوری قوم کی نمایندگی کرتی ہیں، خواہ ملک کے اندر آپس میں بعض امور پر اختلافات بھی ہوں۔ جہاں تک جماعۃ الدعوہ کا تعلق ہے، وہ کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں اور نہ ہی اس نے حکومتِ وقت کے خلاف کبھی کوئی تحریک چلائی ہے۔

حافظ محمد سعید کی شخصیت پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں متعارف ہے۔ انھوں نے قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیا، نہ ہی سالمیتِ وطن کے خلاف کبھی کوئی بات کہی ہے۔ وہ محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہر طبقۂ فکر میں یکساں معروف و مقبول ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی دباؤ کے تحت ان کو دیگر چار ساتھیوں سمیت نظر بند کر دیا ہے۔ یہ سارا عمل محل نظر ہی نہیں قابل تشویش ہے۔ جن دشمنوں کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، وہ تو پاکستان کے وجود کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھیں پاک فوج کی قوت اور نئے اسلحے کے کامیاب تجربات بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ وہ پاکستان کو ایٹمی قوت کے طور پر بھی گوارا کرنے کے روادار نہیں۔ کل کو اگر وہ اپنے مزید مطالبات منوانے کے لئے اور دباؤ بڑھائیں گے تو کیا ہمارے بزدل حکمران ان کے سامنے بھی جھکتے چلے جائیں گے؟

دنیا میں وہی قومیں سربلند و سرخرو ہوتی ہیں، جو اپنے فیصلے، اپنے نظریات اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسروں کے کاسہ لیس بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں، کبھی عزت اور وقار کا مقام نہیں پا سکتے۔ حافظ محمد سعید صاحب نے درست کہا ہے کہ وہ اس حکم نامے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ عدالتیں پورا کیس سن کر انصاف کے ساتھ فیصلے کریں تو عوام کو اعتماد ملتا ہے۔ امن پسند شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے، بلکہ قانون کے مطابق اپنی شکایات کے ازالے کے لئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ جب عدالتیں عوام کو انصاف فراہم کر رہی ہوں تو ملک کے اندر مایوسی اور شر نہیں پھیلتا۔ خدانخواستہ عدالتیں اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں تو پھر معاشرے انتشار اور تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہم نے اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے اندر زندگی بھر حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف جہاں جمہوری اور پرامن احتجاج کیا ہے ، وہیں ہم نے عدالتوں کے ذریعے بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ ہم نے بدترین مظالم کا سامنا بھی کیا ہے مگر کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ ماضی میں جماعت اسلامی پر بھی پابندیاں لگی تھیں۔ مولانا مودودیؒ نے ان پابندیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا تھا۔ متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد جماعت اسلامی پر ایوبی مارشل لاء کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں غیر دستوری قرار دی گئیں اور جماعت اسلامی بحال کر دی گئی۔ جبکہ اس کے برعکس مغربی پاکستان ہائیکورٹ نے حکومتی فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے دیا۔ حکومت اور جماعت دونوں سپریم کورٹ میں چلی گئیں۔ ملک کی عدالت عظمیٰ نے اپنے تاریخی فیصلے میں ایوب خان حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو بنیادی انسانی حقوق اور دستور کی خلاف قرار دیتے ہوئے جماعت پر لگائی گئی پابندی کو غیر مشروط طور پر ختم کر دیا۔

اب بھی ملک میں عدلیہ موجود ہے اور دستور میں بنیادی انسانی حقوق بھی محفوظ ہیں۔ ہمیں امید یہی ہے کہ عدالتیں اپنے ملک کے شہریوں اور تنظیموں کو وہ تحفظ ضرور فراہم کریں گی، جس کا اللہ اور اس کے رسولؐ اور دستور پاکستان نے انھیں حق دیا ہے۔ حکومت کی اس نئی کارروائی کو بزدلانہ عمل ہی شمار کیا جائے گا اور تاریخ میں ان کا یہ کارنامہ سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ اس سے قبل خود حکومت کئی بار کہہ چکی ہے کہ حافظ محمد سعید نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اب بتایا جائے کہ اب ان کا کون سا عمل غیر قانونی ہے؟

حافظ محمد ادریس

No comments:

Powered by Blogger.