Header Ads

Breaking News
recent

انفارمیشن اور میڈیا وار : آخر روس چاہتا کیا ہے؟

روس پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ سال ڈیمو کریٹ پارٹی کی ای میلز افشا کر کے اور سوشل میڈیا کے ذریعے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی۔ حالیہ برس یورپ کے کئی ملکوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ ایسے میں فرانس، جرمنی اور دوسرے ملکوں کے رہنماؤں کو تشویش ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ جیسا حال نہ ہو۔ یورپ بھر کو فکر ہے کہ روس ریاستی اداروں پر سائبر حملوں، 'جعلی خبریں' پھیلانے اور مخالف دھڑوں کی فنڈنگ سے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ کس قدر حقیقی ہے اور یہ کیا شکل اختیار کر سکتا ہے؟ کیا اس سوال کا جواب روس کے چیف آف جنرل سٹاف والیری گیراسیموف کے اس بیان میں مل سکتا ہے جو انھوں نے 2013 میں دیا تھا؟ 'غیرفوجی ذرائع کی مدد سے سیاسی اور دفاعی اہداف کا حصول بڑھ رہا ہے، اور بسا اوقات اس کا اثر ہتھیاروں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔'

انفارمیشن کی جنگ میں نیا کیا ہے؟
انفارمیشن یا معلومات کی جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن تنازعات پر تحقیق کے ادارے کے کیر جائلز کہتے ہیں کہ روس کی جانب سے اس جنگ میں نئے ہتھکنڈے اختیار کیے گئے ہیں۔ 'پہلی اور دوسری چیچن جنگ میں اور جارجیا کے خلاف 2008 کی جنگ میں روس کو معلوم ہوا کہ وہ آپریشنل یا سٹریٹیجک لحاظ سے عالمی رائے عامہ اور اپنے دشمنوں کے نقطۂ نظر کو تبدیل نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے انفارمیشن کی جنگ میں بڑی پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ 'جارجیا کی جنگ میں اسے معلوم ہوا کہ عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے اور انٹرنیٹ سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر بھرتیوں کی ضرورت ہے تاکہ ماہرینِ لسانیات، صحافیوں، اور کسی بھی ایسے شخص کو بھرتی کیا جائے جو باہر کے ملکوں کے شہریوں سے براہِ راست بات کر سکے۔'
یورپ میں کئی سائبر حملوں کا الزام روس سے تعلق رکھنے والے گروہوں پر لگایا گیا ہے۔ 2015 میں فرانس کے ٹی وی 5 موند پر سائبر حملہ ہوا اور اس کے سسٹم تقریباً تباہ کر دیے گئے۔ اسی سال روس کے APT 28 نامی ہیکنگ گروپ نے جرمنی کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کا بڑے پیمانے پر ڈیٹا چوری کر کے افشا کر دیا۔ جرمنی میں داخلی انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا ہے کہ ستمبر 2017 کے جرمن انتخابات کو روسی سائبر حملے کا خطرہ ہے۔ ان انتخابات میں انگیلا میرکل چوتھی بار کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اکتوبر 2016 میں بلغاریہ میں ایک سائبر حملہ ہوا جس کو اس کے صدر نے جنوب مشرقی یورپ کا شدید ترین حملہ قرار دیا۔ اس سے قبل ایسٹونیا پر ڈی ڈی ایس حملہ ہوا جسے وزارتِ دفاع کے ترجمان نے نائن الیون کے مترادف قرار دیا۔

مخالف دھڑوں کی پشت پناہی
روس کی سینیئر سیاسی شخصیات طویل مدت سے یورپ میں یورپی یونین مخالف دھڑوں سے تعلقات رکھتی چلی آئی ہیں۔ 2014 میں فرانس میں مرین لی پین کے کٹر دائیں بازو کے دھڑے نیشنل فرنٹ کو ایک روسی بینک نے 90 لاکھ یورو کا قرض دیا۔ اب جب کہ فرانس میں صدارتی انتخابات صرف ایک ماہ دور ہیں، گذشتہ ہفتے لی پین نے روسی صدر پوتن سے ملاقات کی۔ ادھر فروری میں جرمنی کے کٹر دائیں بازو کی جماعت 'جرمنی کے لیے متبادل' (اے ایف ڈی) کے سربراہ نے ماسکو میں صدر پوتن کے قریبی سمجھے جانے والے ارکانِ پارلیمان سے ملاقاتیں کی۔ معاملہ صرف دائیں بازو تک محدود نہیں ہے۔ فرانس اور جرمنی دونوں میں کٹر بائیں بازو والے دھڑوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے روس سے روابط ہیں۔

جعلی خبریں
دشمن کو گمراہ کرنے کے لیے جان بوجھ کر غلط اطلاعات فراہم کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن جو چیز نئی ہے وہ 'جعلی' خبریں ہیں۔ یہ غلط اور گمراہ کن خبریں چھوٹی ویب سائٹوں یا اخباروں کی جانب سے نشر کی جاتی ہیں جن کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ 'جُھوٹے' مین سٹریم میڈیا کے متبادل کے طور پر درست خبریں فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی انتخابات کے دوران ایسی خبریں خاص طور پر پھیلائی گئیں، لیکن یورپی ملکوں میں بھی یہ عام ہیں۔ جب روسی فوجوں نے 2014 میں کرائمیا پر حملہ کیا تو یوکرین کے رہنماؤں کو فاشسٹ قرار دے کر مداخلت کی توجیہ فراہم کی گئی۔ اٹلی میں ریفرینڈم سے چند ہفتے قبل روس کے سرکاری ٹی وی رشیا ٹوڈے نے روم کے ایک چوک پر ہونے والا جلسہ فیس بک لائیو کے ذریعے نشر کیا۔ اس ریفرینڈم کے نتیجے میں وزیرِ اعظم میتیو رینزی کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔

رشیا ٹوڈے نے کہا: 'اطالوی وزیرِ اعظم کے خلاف روم میں زبردست احتجاج۔' حالانکہ یہ جلسہ رینزی کے حق میں تھا۔ جرمنی میں ایک 13 سالہ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ اسے کچھ لوگوں نے ریپ کیا ہے۔ روسی سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ خبر اٹھا لی اور اسے بار بار نشر کرتا رہا۔ جرمنی میں چانسلر میرکل کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ خبر جھوٹی تھی۔ یورپی یونین کو اس بات پر اتنی تشویش ہے کہ اس نے ماہرین کا ایک یونٹ تشکیل دیا ہے جسے یہ ٹاسک سونپا گیا ہے کہ وہ 'روس کی مسلسل ڈس انفارمیشن کی مہم' کا توڑ نکالے۔

کیا واقعی یہ سب کچھ روس کر رہا ہے؟
روس اس کی تردید کرتا ہے۔ صدر ولادی میر پوتن کہتے ہیں کہ امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے روسی مداخلت کے الزامات مضحکہ خیز اور غیرذمہ دارانہ ہیں۔ وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے تو یہ تک کہا ہے کہ یہ سب کچھ سی آئی اے کروا کر اس کا الزام روسی ہیکروں پر دھر دیتی ہے۔ لیکن کیر جائلز کہتے ہیں: 'روس اب اپنے نقشِ قدم چھپانے میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہا۔' وہ کہتے ہیں کہ روس کی امریکی انتخابات میں مداخلت کسی حد تک کھلم کھلا تھی اور اس نے کئی درجن مغربی صحافیوں کو سینٹ پیٹرزبرگ کے مشہورِ زمانہ ٹرول فارم کا دورہ بھی کروایا تھا۔

یورپی یونین کے ایک عہدہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ 'لازمی نہیں ہے کہ ہر چیز کریملن ہی سے آتی ہو۔ لیکن ایک ایسا نظام بنا دیا گیا ہے جہاں مختلف حصے تقریباً خود مختارانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔' اس کے علاوہ ایسے عناصر بھی ہیں جو مالی فائدے کی خاطر ہیکنگ کرتے ہیں۔ تاہم یہ بات معنی خیز ہے کہ پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں کو نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کی خبریں نشر کرنے والے 300 صحافیوں کو تمغے دیے گئے تھے۔

روس آخر چاہتا کیا ہے؟
بعض ماہرین کے نزدیک اس کا جواب آسان ہے، مزید طاقت۔ کارنیگی ماسکو سینٹر کے آندرے کولیسنیکوف کہتے ہیں کہ صدر پوتن اور ان کے حامیوں نے 'مغرب کا تاثر بطور دشمن بنا رکھا ہے۔ ان کا مقصد عالمی رہنما بننا ہے، اپنی شرائط پر۔' دوسری جانب ماریا لپ مین کہتی ہیں کہ ویسے تو روس میں مغرب مخالف تاثر حکومت نے قائم کر رکھا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی روس کے بطور 'محصور قلعے' کا تاثر بالکل بے بنیاد بھی نہیں ہے۔ وہ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ ان کا مقصد 'روسی معیشت کو سزا دینا ہے۔'

سٹاک ہوم یونیورسٹی کے گونزالو پوزو مارٹن کہتے ہیں کہ روس میں پابندیوں کی کاٹ محسوس ہونے لگی ہے اور ساتھ ہی تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں نے روسی معیشت کو مزید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس یورپ کے دائیں بازو کے لیے نرم گوشہ اس لیے پیدا کر رہا ہے کہ اسے پابندیوں کے خلاف لیورج کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ روس چاہتا ہے کہ یورپی یونین زیادہ نرم ہو اور اس کا جھکاؤ مغرب کی جانب کم ہو۔ اس سے نہ صرف روس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا بلکہ 'اس سے روس کو اپنے سابق سوویت پڑوسیوں کے ساتھ معاملات میں نسبتاً کھلی چھٹی مل جائے گی۔'

بیکی برینفرڈ
بی بی سی نیوز

No comments:

Powered by Blogger.