Header Ads

Breaking News
recent

جب ہیکرز نے امریکی میزائل سسٹم کا کنٹرول سنبھال لیا

ہیکرز کی اپنی الگ دنیا ہے۔ سب کی نظروں سے چھپے ہوئے کمپیوٹر کے راز
چرانے والے یہ لوگ آسمان سے نہیں اترتے۔ اسی زمین پر پرورش پاتے ہیں۔ انہی درسگاہوں میں پڑھتے ہیں اور اسی معاشرے میں عام انسانوں کی طرح رہتے ہیں۔ بہت سوں کو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ہیکنگ کے بغیرمیں آئی ٹی کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی۔ سو یہ ہیکرز مغربی دنیا کی یونیورسٹیوں میں ہی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب تک دوسرے ممالک کے لئے عذاب بنے رہیں، اس حد تک تو سب ٹھیک ہوتا ہے۔ مگر جونہی یہ اپنی قوم کے کمپیوٹروں میں گھس جائیں اور راز چرانا شروع کردیں تو پھر سب حرکت میں آجاتے ہیں۔

ہیکرز امریکہ کے بڑے بڑے ہوٹلوں ، یونیورسٹیوں اور کئی سرکاری دفاتر کا ڈیٹا بھی چوری کر چکے ہیں۔ 2015ء میں انہوں نے یو ایس آفس آف پرسنل مینجمنٹ دو بڑی انشورنس کمپنیوں، موبائل فون کمپنیوں اور ہوٹلز کا ڈیٹا بھی چوری کر لیا۔ یوں موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کے ہوٹل کی ویب سائٹ پر بھی ہیکرز ایک مرتبہ دھاوا بول چکے ہیں۔ 2015ء میں امریکی انتظامیہ نے کئی خطرناک سائبر گینگز کا سراغ لگایا۔ جو انٹرنیٹ پر جاری بزنس کی معلومات چوری کر کے لوگوں سے پیسے بٹور رہے ہیں۔ سائبر کرائمز کا یہ نیٹ ورک برطانیہ سمیت بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا ہے جس پر قابو پانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ جن تعلیمی ماہرین نے سائبر کرائم کو روکنے کے طریقے ڈھونڈنے ہیں انہی ماہرین کی یونیورسٹیوں میں علم حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگ کریمنل بن گئے۔ 
اب یہ قانون کی دسترس سے باہر نکل چکے ہیں۔ ہیکنگ کی تاریخ کا پہلابڑا حملہ اکتوبر 1989ء میں میری لینڈ میں واقع ناسا کے کمپیوٹر سسٹم پر ہوا۔ جب ہیکرز نے سیارہ مشتری کے گرد بھیجے جانے والے مصنوعی سیارے کو منسوخ کرنے کے بینرز ویب سائٹ پر لگا دئیے۔ ہیکرز شاید مصنوعی سیارے میں پولٹونیم کے بطور اندھن استعمال کے مخالف تھے ۔ سسٹم کو صاف اور دوبارہ چالو کرنے میں ناسا کے ایک ارب روپے اور بہت سا وقت ضائع ہوا۔ امریکی حکام آسٹریلیا کے شہر میلبورن تک تو پہنچے لیکن کسی کو پکڑ نہ سکے۔

ہیکنگ کا ایک اور خوفناک واقعہ امریکی محکمہ دفاع کے سسٹم پر فروری 1999ء میں پیش آیا۔ جب ہیکرز وزارت دفاع کے ماتحت ایک فوجی سیٹلائٹ کے سسٹم تک پہنچ گئے۔ امریکی افسروں نے اسے امریکہ کیخلاف مواصلاتی جنگ کا اعلان قرار دیا۔ لیکن کوششوں کے باوجود وہ ہیکرز تک نہ پہنچ سکے۔ شاید ہیکرز کو کمپیوٹر آپریٹرز پر ترس آ گیا، انہوں نے خود ہی اپنا کنٹرول ختم کر کے سسٹم کو’’ری پروگرام‘‘ کر دیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمپیوٹر کرائم نیٹ ورک اور امریکی ائیر فورس ہیکرز کی تلاش میں برطانیہ تک پہنچے مگر کی ہیکرز کو نہ پکڑ سکے۔ 2000ء میں ہیکرز پھر امریکی ادارے کیخلاف سرگرم ہو گئے۔ مگر اس دفعہ ان کا نشانہ عوام بھی بنے انہوں نے 3 لاکھ کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا چوری کر کے ایک ویب سائٹ پر متعلقہ کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر مانگ لیے۔ یہ ہیکرز بھی آج تک پکڑے نہیں گئے۔ 

تفتیش مشرقی یورپ تک جا کر رک گئی۔ دسمبر 2000ء میں امریکی نیول ریسرچ لیب اور اس کے ماتحت امریکی میزائل سسٹم ہیکرو ں کا نشانہ بنے۔ انہوں نے وزارت دفاع کے مابین ایکسی جینٹ نامی ادارے کے سافٹ وئیر میں ’’او ایس ۔کومیٹ‘‘ کے دو تہائی ڈیٹا تک پہنچ گئے۔ اسی نظام کے ذریعے امریکی میزائل سسٹم اور سیٹلائٹس کو رہنمائی ملتی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے تفتیش کار جرمنی کی یونیورسٹی تک پہنچ گئے لیکن اس سے آگے ہیکرز کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ اکتوبر 2003ء میں ہیکرز امریکی صدارتی انتخابی مہم پر اثر انداز ہو نے لگے۔ ایک امیدوار کی مہم کچھ کمزور تھی۔ جس پر ہیکرونے ایک ٹی وی نیوز نیٹ ورک کے ہوم پیج کو انتخابی مہم کے لوگو سے بدل دیا۔ بعد میں اسی پیج پر خود بخود تیس منٹ کی ایک ویڈیو چلنے لگی۔ 

امیدوار نے کسی قسم کی اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ امریکی حکام اس کیس میں بھی ہیکرز تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ 2008ء کے موسم سرما میں ایک ویب سائٹ لاکھوں طلباء اور افراد کے زیر استعمال تھی۔ اس بار یہ ہیکرز کا نشانہ بھی۔ انہوں نے اپنے کورڈ کے ذریعے سرور کو کنٹرول کر لیا۔ اور ہزاروں افراد کا ڈیٹا چوری کر لیا۔ اسی طرح فروری 2005ء میں ہیکرز نے فلوریڈا اور بعض دوسری امریکی ریاستوں میں واقع سپر مارکیٹ کی دو بڑی چینز کا ڈیٹا چوری کرکے 42 لاکھ کریڈٹ کارڈز تک رسائی حاصل کر لی۔

صہیب مرغوب

No comments:

Powered by Blogger.