Header Ads

Breaking News
recent

سورج سے متعلق دلچسپ حقائق

سورج کے گرد نواں میں اہم سیارے گردش کرتے ہیں : عطارد ، زہرہ ، زمین ،
مریخ ، مشتری ، زحل ،Uranus ، نیپچون ، اور پلوٹو (جدید تحقیق کی بنا پر پلوٹو کو 2006 میں ہمارے نظامِ شمسی سے خارج قرار دیا گیا ہے)۔ 
2:سورج نظام شمسی کی 99،85 ÷ کمیت پر مشتمل ہے۔ 
3:سائز، حرارت اور کیمیائی ساخت کی بناء پر dwarf G2 کے طور پر ایک درجہ بندی کیا گیا سورج، ایک درمیانے سائز کا ستارہ ہے۔ ایک G star تھوڑا ٹھنڈا ہوتا ہے (تقریباً 5000،6000کیلِون کے درمیان درجہ حرارت) اور پیچیدہ کیمیسٹری کا حامل ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے یہ ہیلیم سے بھاری کیمیکلز پر مشتمل ہے۔ 
4: ایک star G2 کی اوسط زندگی کی بنیاد پر ، سورج کی موجودہ عمر اندازے کے مطابق 4.6 ارب سال ہے. 
5: ہر سیکنڈ میں سورج چار ملین ٹن ہائیڈروجن خرچ کرتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ سورج 75 فیصد ہائیڈروجن، 23 فیصد ہیلئم اور 2 فیصد بھاری عناصر پر مشتمل ہے۔ 
6: سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ سورج اپنی کور میں جمع شدہ ہائیڈروجن کو اگلے پانچ ارب سال تک جلانا جاری رکھے گا اور اس کے بعد ہیلئم سورج کا پرائمری ایندھن بن جائے گا۔
7: تقریباً 109 زمین جیسے سیارے سورج کی سطح پر فٹ آسکتے ہیں جبکہ زمین جیسے دس لاکھ سے زیادہ سیارے سورج کے اندر فٹ آ سکتے ہیں۔ 
8: تقریبا ہر 11 سال بعد سورج مجموعی طور پر اپنی مقناطیسی polarity اْلٹتا ہے اس کا شمالی مقناطیسی قطب جنوبی قطب بن جاتا ہے جبکہ جنوبی قطب شمالی قطب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ 
9: سورج زمین سے ستارہ قریب ترین ستارہ ہے تقریباً 149.60 ملین کلومیٹر اور 92.96 ملین میل دورہے. 
10: اس کی کور پر، سورج کا درجہ حرارت تقریباً 15 ملین ڈگری سیلسئس ہوتا ہے(تقریباً 27 ملین ڈگری فارن ہائٹ)۔ 
11: سورج اپنے محور پر ہر 25.38 (زمین کے) دنوں یا 609،12 گھنٹوں میں ایک چکر لگاتا ہے۔ 
12: 100.000.000.000  ٹن بارود سے ہر سیکنڈ میں دھماکہ کیا جائے تو سورج سے پیدا کی گئی توانائی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ 
13: زمین پر کسی 150 پونڈ وزنی شخص کا وزن سورج پر 4.200 پاؤنڈ ہو گا کیونکہ سورج کی کشش ثقل زمین سے28 گْنا زیادہ ہے۔ 
14: سورج حرارت اور چارج ذرّات کی ایک اسٹریم خارج کرتا ہے جسے شمسی ہوا کے طور پر جانا جاتا ہے، جو کہ 280 میل ( 450 کلومیٹر) فی سیکنڈ کی رفتار سے نظامِ شمسی میں سفر کرتی ہیں۔ 
15: flares Solar (جیٹ کی صورت میں) شمسی ذرّات ہوتے ہیں جو کہ دھماکے سے سورج سے خارج ہوتے ہیں یہ مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ 16: تمام سیارے اپنے اپنے مدار سورج کے گرد گھومتے ہیں اور ایک ہی سمت میں۔۔۔اینٹی کلاک وائز، اور ایک ہی plane پر جسے ecliptic کہا جاتا ہے۔ 17: مصر ، بھارت اور یورپی ، اورMeso امریکی ثقافت، ان تمام خطوں میں جو مذاہب پائے جاتے تھے ان سب سورج کی عبادت کی جاتی تھی۔ 
18: قدیم مصر میں ، سورج خدا ’’را‘‘ اعلی معبودوں میں سے اہم شخصیت تھا۔ اس نے اعلیٰ درجہ حاصل کیا کیونکہ یہ مانا جاتا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اور آٹھ دوسرے خداؤں کو پیدا کیا ہے۔ 
19: ztec مذہب میں ، سورج دیوتاؤں Tezcatlipoca اور Huitzilopochtli کی طرف سے وسیع پیمانے پر انسانی قربانی کا مطالبہ تھا۔ 
20: جاپان میں ، سورج دیوی Amaterasu ، کو کافی اہمیت دی جاتی تھی اور اسے دنیا کی عظیم حکمران سمجھا جاتا تھا۔ 
21: حروف جن سے مل کر جاپان کا نام بنتا ہے، کا مطلب ہے سورج کو اصل اور اس کے پرچم میں چڑھتے سورج کو دکھایا گیا ہے۔ 
22: لیبیا میں ، دونوں نر اور مادہ mummies پر ٹیٹوز دریافت ہوئے ہیں جن سے سورج کی عبادت ظاہر ہوتی ہے۔ 
23: سولہویں صدی میں ، نیکولس کوپرنیکس کا کہنا تھا کہ یہ زمین ہے جو کہ سورج کے اردگرد گھومتی ہے۔ تاہم نظامِ شمسی کے بارے میں کوپرنیکس کے نظرئیے کو کئی سال تک قبول نہیں کیا گیا ، یہاں تک کہ نیوٹن نے حرکت کے قوانین پیش کیے جس سے کوپرنیکس کے نظرئے کو تقویت ملی۔ 
24: یونانی فلسفی ارسترکھس وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین سورج کے گِرد گھومتی ہے۔ 
25: موجودہ ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ شمسی سرگرمیوں میں اتار چڑھاو زمین پر آب و ہوا میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے ، آب و ہوا کے سائنسدانوں اور astrophysicists کی اکثریت پر اس بات پر متفق ہے کہ قدیم اور موجودہ دور میں عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کے لئے سورج ذمہ دار نہیں ہے بلکہ انسانی نسل اس کے لیے زیادہ قصور وار ہے۔ 
26: ایک دہائی کے دوران سورج کی کرنوں کی پیداوار میں بہت معمولی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ایک فیصد کے دسویں حصّے کے برابر ہو گئی، جو کہ اتنی بڑی تبدیلی بھی نہیں ہے کہ زمین پر درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ناپے جانے کے قابل سگنل فراہم کر سکے۔

حماد انصاری

No comments:

Powered by Blogger.