Header Ads

Breaking News
recent

ایمیزون : دنیا کا سب سے بڑا جنگل

آج سے لاکھوں سال پہلے دنیا پر سمندروں اور جنگلوں کی حکمرانی تھی اور انسان انہی جنگلوں کا حصہ تھے، جنگل انسان کو خوراک ،پھل اور گوشت مہیا کرتا تھا، انسان سوتا بھی جنگل اور غاروں میں تھا اور جب بیمار ہوتا تھا تو اپنا علاج بھی جنگلی جڑی بوٹیوں سے کرتا تھا، پھر جب آگ دریافت ہوئی تو انسان نے جنگل کی لکڑی سے ایندھن کا کام لیا اور خوراک کو پکا کر کھانا سیکھا اس کے علاوہ یہ آگ اسے نہ صرف شدید سردی سے بچاتی تھی بلکہ درندوں سے بھی تحفظ فراہم کرتی تھی۔ جوں جوں تہذیب و تمدن کا ارتقاء ہوتا گیا تو انسانوں نے تحفظ کی خاطر مل جل کر رہنا شروع کر دیا اور جنگل کے کسی حصے کو درختوں کو کاٹ کے بستیا ں بسانی شروع کر دیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق ارتقا کا یہ عمل لاکھوں سالوں پر محیط ہے، ان لاکھوں سالوں میں انسانی آبادی بڑھتی گئی اور جنگلات سکڑتے گئے۔ دورِجدید میں اگرچہ جنگلات دنیا سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں لیکن بڑے اور گھنے جنگلات موجود ہیں جہاں پر سورج کی کرنیں کبھی زمین تک نہیں پہنچیں،ان میں سرِ فہرست ایمزون ہے۔ ایمزون برِاعظم جنوبی امریکہ میں واقع دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے،اس کا رقبہ ۵۵ لاکھ مربع کلومیٹر ہے جوکہ پورے برِاعظم کا ۴۰ فیصد رقبہ بنتا ہے پاکستان کا رقبہ ۷ لاکھ ۹۴ ہزار مربع کلومیٹر ہے، پاکستان جیسے سات ممالک اس جنگل میں سما جائیں۔ براعظم کے نو ممالک کا رقبہ اس جنگل میں شامل ہے جن میں سب سے بڑا حصہ برازیل کا ہے جو کہ ۶۰ فیصد ہے،لاکھوں میل پر پھیلا ہوا یہ جنگل مسحور کن قدرتی حسن سے مالامال ہے.
 دنیا میں اب تک دریافت ہونے والی جانوروں، حشرات اور پرندوں کی آدھی اقسام کا تعلق ایمزون سے ہے،اسی طرح پھلوں اور نباتات کی لاتعداد اقسام صرف ایمزون میں پائی جاتی ہیں ،دنیا بھر سے جنگلی حیات اور نباتات سے دلچسپی رکھنے والے ماہرین اور سیاح ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایمزون کا رُخ کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں میڈیا پر ایک خبر دیکھی گئی جس میں بتایا گیا کہ کینڈا کا ایک سیاح جو ۲۰۱۳ میں ایمزون میں گُم ہوگیا تھا چار سال بعد واپس اپنے گھر پہنچ گیا ہے ،اس عرصے میں اس نے ہزاروں کلومیٹر کا سفر جنگل میں پیدل طے کیا۔ ہالی وڈ کی سینکڑوں فلمیں ایمزون میں فلمائی گئی ہیں اس کے علاوہ جنگلی جانوروں اورجنگلی حیات پر ان گنت ڈاکو منٹریز ہر سال بنائی جاتی ہیں۔ اس جنگل کے بیچوں بیچ دریائے ایمزون بہتا ہے جو بہائو اور حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور لمبائی کے لحاظ سے دریائے نیل کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا دریا ہے۔ 

۱۱۰۰ دوسرے معاون دریا اس میں سے نکلتے ہیں جن میں سے سترہ کی لمبائی ایک ہزار میل سے زائد ہے۔ بارشوں کے موسم میں دریائے ایمزون ۳۰۰ کلومیٹر تک پھیل جاتا ہے اور ہر روز ۵۰۰ ارب کیوبک فٹ پانی بحیرہ اٹلانٹک میں پھینکتا ہے، بحیرہ اٹلانٹک میں ۱۲۵ کلومیٹر تک ایمزون کا تازہ اور میٹھا پانی ملتا ہے پھر کہیں جا کر سمندر کا نمکین پانی شروع ہوتا ہے، پورے امریکہ کی پانی کی ضروریات اکیلا دریائے ایمزون پوری کر سکتا ہے۔ خطہ ایمزون کی تاریخ تقریباً ۱۵کروڑ سال پُرانی ہے، شروع میں برِاعظم افریقہ اور جنوبی امریکہ ایک ہی براعظم کا حصہ تھے پھر کسی بہت بڑے زلزلے کے سبب براعظم کا ایک بڑا حصہ الگ ہو گیا اور بیچ میں سمندر آ گیا ۔ یہ حصہ آج برِاعظم افریقہ کہلاتا ہے، ارضی ماہرین نے وہ تمام علامات ڈھونڈ نکالی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ براعظم افریقہ براعظم امریکہ کا حصہ تھا، ڈسکوری اور جیوگرافیکل چینل پر ایسی ڈاکومینٹری موجود ہے جس میں یہ سارا عمل دکھایا گیا ہے۔

خطہ ایمزون میں انسانی آبادکاری کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں انسانی آبادی میں تیزرفتار اضافے کی وجہ سے یہ شرح کافی بڑھ چکی ہے۔ اس دورِ جدید میں جبکہ سائینس اور تیکنالوجی کی بے پناہ ترقی کی بدولت انسان ایک نہایت پُرآسائش زندگی گُذار رہا ہے ایمزون کے جنگلوں میں آج بھی سینکڑوں قبائل صدیوں پرانے رسم و رواج کے مطابق زندگی گذار رہے ہیں جن کا جدید دنیا سے کوئی رابطہ نہیں۔ مشینی زراعت کے شروع ہونے سے دنیا کے اس سب سے بڑے اور متنوع جنگل کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے،۱۹۷۰ سے لیکر اب تک اس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ ایکڑ کم ہو چکا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی جنگلات کی تباہی کی ایک بڑی اور اہم وجہ ہے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے خطہ میں بارشیں کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے جنگل میں سوکھا پڑجاتا ہے اور جنگل میں آگ لگنا شروع ہو جاتی ہے۔برازیلین حکومت نے دنیا کے سب سے بڑے محفوظ علاقوں کا نیٹ ورک بنایا ہے جن کی سیٹیلائٹ کے ذریعے نگرانی کر کے وہاں پر قانون کی عملداری کو یقینی بنایا گیا ہے.

ماحولیاتی تحفظ کے قوانین بنائے گئے ہیں تا کہ جنگل اور جنگلی حیات کا تحفظ اور قدرتی حسن برقرار رہ سکے۔ برِاعظم جنوبی امریکہ کی معیشت کا زیادہ دار و مدار ایمزون کے جنگلات پر ہے،آج خطہ ایمزون پورے براعظم کے جی ڈی پی کا ۷۰ فیصد حصہ مہیا کرتا ہے ۔ ایمزون سے بہت سی اشیا دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہیں جن میں سرِفہرست مویشیوں کا گوشت اور کھالیں ہیں، اس کے علاوہ لکڑی ، سویا، تیل و گیس اور معدنیات و نمکیات اس لمبی فہرست میں شامل چند اشیا ہیں جو دنیا بھر میں درآمد کی جاتی ہیں جس سے خطے کی معیشت اور فی کس آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

اعظم احمد

 

No comments:

Powered by Blogger.