Header Ads

Breaking News
recent

بش کی صلیبی جنگوں کے بعد ٹرمپ کا اسلامی دہشت گردی کاطعنہ

بش نے نائن الیون کے بعد نئی صلیبی جنگوں کا بگل بجایا تھا، اب ٹرمپ نے
اسلامی دہشت گردی کے انسداد کا اعلان کیا ہے، ذرا پیچھے جائیں تو ریگن نے نئے ورلڈ آرڈر کو مسلط کیا تھا۔ وہ دن اورا ٓج کا دن امریکہ اور اہل مغرب عالم اسلام کے درپے ہیں اور ایک کے بعد ایک اسلامی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ دنیا بیوقوف ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں مگر کیا مجال کسی ایک جلوس میں ٹرمپ کی اسلام دشمنی کے خلاف نعرہ بلند کیا گیا ہو۔ یا اس کی مذمت میں کسی نے لب کشائی کی ہو۔
عالم ا سلام کو اچھی طرح احساس ہے کہ امریکہ نام بدل بدل کر ، ایک ہی پالیسی پر گامزن ہے اور اور وہ ہے مسلم ہولو کاسٹ۔ تاریخ جانتی ہو گی کہ ہٹلر نے کتنے یہودیوں کو ہولوکاسٹ کی بھینٹ چڑھایا تھا مگر آج لوگ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم دنیا میں ہر روز ایک نیا ہولو کاسٹ برپا کیا جارہا ہے۔ اور دنیا یہ بھی دیکھ چکی ہے کہ صرف اسرائیل نے کتنے لاکھ فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام سے ہاتھ رنگے ہیں۔

لیبیا میں کرنل قذافی کو نیٹو طیارے سے چلائے جانے والے میزائل سے ڈھیر کیا گیا، عراق میں صدام حسین کوپھانسی پر لہرا دیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں عراقی مسلمانوں کو کروز اور ڈرٹی بموں سے تہہ تیغ کر دیا گیا، افغانستان تو ہمارے ہمسائے میں ہے، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس ملک میں کتنے لاکھ مسلمانوں کو کارپٹ بموں سے شہید کیا جا چکا ہے اور تورا بورا کا کس طرح فلوجہ بنا دیا گیا۔ شام کے مسلمانوں کے قتل عام کو دیکھ کر چشم عالم بھی نمناک ہے ۔ پاکستان میں ایک لاکھ کے قریب بے گناہوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی جن میں صرف ڈیڑھ سو مصوم بچے تو پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے تھے۔ اور ہمارے ہی ہمسائے میں کشمیریوں کی زندگی کس طرح جہنم بنا دی گئی ہے۔

یہ سب کس کی دہشت گردی ہے، کیا یہ مسلم دہشت گردی ہے۔ یا امریکی بی باون کی دہشت گردی۔ امریکی کروز میزائلوں کی دہشت گردی، امریکی ڈرون طیاروں کی دہشت گردی اور مسلمانوں کے بھیس میں دہشت گردوں کی نان اسٹیٹ ایکٹرز کی شکل میں جو نئی فوج ظفر موج کھڑی کر دی گئی ہے، اس کی دہشت گردی۔
ٹرمپ کیا نیا کام کیا کرے گا، کچھ بھی نہیں ، وہی قتل و غارت کا پرانا، آزمودہ کھیل جو امریکہ ایک زمانے میں ویت نام میں کھیل چکا ہے ، اس سے پہلے اس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے دو جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا کر ہلاکو خانی کا مظاہرہ کیا تھا، ٹرمپ یہی کرتا رہے گا، امریکہ کو یہی ایک فن آتا ہے، ہر امریکی صدر یہی کچھ کرتا چلا آیا ہے، سینئر بش، جونیئر بش، اوبامہ اور اب ٹرمپ کی باری ہے۔

مگر امریکی عوام کا ایک حصہ ٹرمپ کے گناہوں کی پردہ پوشی کے لئے اس کےخلاف نعرے لگاتا رہے گا، سی آئی اے کا چیف جو کئی اسلامی ملکوں پر ڈرون طیارے مارتا رہا ہے، وہ ٹرمپ کے خلاف بول کر کلمہ حق کہنے کا کریڈیٹ لینا   چاہتا ہے، صرف اس لئے کہ ا سے علم ہے کہ ایک تو وہ ٹرمپ کے مسلم کشی کے احکامات کی سر جھکا کر تابع داری کرتا رہے گا، دوسری طرف وہ مطمئن ہے کہ اس کی آئینی ٹرم کے دوران ٹرمپ اس کو تبدیل کرنے کی مجال نہیں رکھتا، اس لئے مسلمانوں کو احمق اور الو بنانے کے لئے اس طرح کے کلمہ حق کہنے والے بہت سے امریکی سا منے آئیں گے۔ مگر ٹرمپ کے دست قاتل کو روکنے کے لئے کوئی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

عالم اسلام کی بدقسمتی ہے کہ ا سی طرح مار کھاتا رہے گا،ا س لئے کہ اس میں انتشار ہے، عدم اتحاد ہے، نفاق ہے، کہاں ایک مسلم خلافت ہوتی تھی، کہاں اغیار نے سازشوں سے ہمیں چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا، پھر صوبائیت، علا قائیت، فرقہ واریت، لسانیت کے فتنے جگائے، ایک زمانے میں ترک خلافت کے حصے بخرے کرنے کو بالکنائزیشن کا نام دیا گیا، پھر مزید ٹکڑے کرنے کے لئے ہالبر و کنائزیشن کا عمل شروع ہوا، ہال بروک اس دنیا سے چلا گیا مگر اس کی بد روح ہمارا پیچھا کرر ہی ہے۔ ہمیں عرب و عجم کی تفریق سے نہیں نکلنے دیا جاتا۔ سعودی عرب اگر کوئی فوجی اتحاد بناتا ہے ہے تو ہمارے بکاﺅ دانشور اسے سنی اتحاد کی گالی دیتے ہیں اور مغرب اسے اسلامی نیٹو کی گالی دیتا ہے، مگر یورپی نیٹو پر کسی کو اعتراض کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔

جنرل راحیل نے ا س اتحاد کو جوائن کیا یا نہیں مگر انہیں ہمارے ہی میڈیا نے مغلظات سے نوازا، انہیں راحیل صلاح الدین ایوبی شریف کہا گیا، کسی نے انہیں ریال شریف کا نام دیا اور یہ جو ترکی کی فوج نیٹو کا مال کھا رہی ہے اور ہم بھی نیٹو کے سامنے کھسیانی بلی بنے بیٹھے ہیں، اور نان نیٹو اسٹیٹس پر ناز کرتے ہیں ، ہمیں بھی تو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے، نان نیٹو اسٹیٹس سے ہمارے برا ٓمد کنندگان نے کتنے یورو کمائے، ان کو بھی تو کسی لقب سے نوازا جانا چاہیئے۔، اکیلے راحیل شریف فائر کی زد میں کیوں ہیں۔

ہماری کوئی ایک بدقسمتی ہو تو اس کا رونا روئیں۔ ایک اسلامی کانفرنس بنی تھی جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ عرب لیگ غیر فعال ہے، خلیجی تعاون کونسل بھی عضو معطل ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا کہیں اتہ پتہ نہیں ملتا۔ سارک کو بھارت نے ڈس لیا ہے ۔ کیا بتائیں کہ کس حال میں ہیں یاران وطن۔ امریکہ اور اہل مغرب ،عالم اسلام کی ان کمزوریوں کا فائدہ کیوں نہ اٹھائیں گے، پاکستان سے توقعات وابستہ تھیں ، یہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے مگرا سے داخلی سر پھٹول کا شکار بنا دیا گیا ہے،اس صورت حال میں ٹرمپ تو کھل کھیلے گا ہی، اس کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ عالم اسلام کی پٹائی کے لئے اغیار متحد ہیں۔ ادھر ہمارا شیرازہ بکھر چکا ہے ۔ ٹرمپ کا دور مسلمانوں کے لئے بد تریں ثابت ہو گا۔ اللہ پناہ میں رکھے مگر خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔

  اسد اللہ غالب 


No comments:

Powered by Blogger.