Header Ads

Breaking News
recent

امریکا میں 2 مسلم نوجوان مذہبی تعصب کا شکار

 امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نائن الیون کے بعد مذہبی تعصب میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اورایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا نیویارک میں جہاں  2 مسلم نوجوانوں پر حملہ کردیا گیا جس سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا۔ کیئر(کونسل آن امریکن اسلام ریلیشنز) نیویارک شاخ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان نوجوانوں پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ نماز کے وقفے میں کچھ دیر کے لیے بروکلن مسلم کمیونٹی سینٹر کی مسجد سے باہر آئے تھے۔ ایک نوجوان اس حملہ آور سے بچ کر بھاگنے میں کامیاب ہوگیا لیکن دوسرا ساتھی حملہ آور کی زد میں آگیا۔
حملہ آورنے اس نوجوان پر لاتیں اور گھونسے برسائے اور مسلمانوں کو ’’دنیا کے تمام مسائل کی وجہ‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ کے القابات سے نوازتا رہا ۔ اس بات کی تصدیق سینٹر کے باہر نصب  سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ سے بھی ہوئی ہے۔ دونوں نوجوانوں کی عمریں 16 اور 17 سال بتائی جاتی ہیں جب کہ ان پر حملہ آور کرنے والے کی عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی۔ امریکا میں انسانی حقوق کی علمبردار، بائیں بازو کی مختلف تنظیموں نے مسلمانوں کے ساتھ ایسے نفرت انگیز واقعات میں حالیہ اضافے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن امریکا کا محکمہ پولیس ایسے بیشتر واقعات کو اسلام سے نفرت (اسلاموفوبیا) کے ساتھ جوڑنے سے گریزاں ہے۔

بروکلن کی متعلقہ پولیس نے پہلے اس واقعہ سے انکار کیا مگر جب ان کے سامنے سارے ثبوت اور سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی گئی تو پولیس اہلکاروں نے رپورٹ تو درج کرلی لیکن واجبی سی تفتیش کے بعد سارا الزام ان ہی لڑکوں پر ڈال دیا جنہیں زد و کوب کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس حملے کی رپورٹ مسلمانوں کے خلاف ’’نفرتی جرم‘‘ (hate crime) کے طور پر نہیں کی جاسکتی۔
امریکا میں حالیہ دنوں میں مساجد اور اسلامی مراکز کے باہر مسلمانوں پر نفرت انگیز اور پر تشدد حملوں کی بڑھتی ہوئی لہر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہفتے کے روز فلوریڈا میں ایک مسجد کے باہر ایک مسلمان شخص کو مارا پیٹا گیا۔ جب کہ ہیوسٹن میں اتوار کی صبح، فجر کی نماز پڑھ کر نکلنے والے ڈاکٹر ارسلان تجمل پر فائرنگ کی گئی اور پھر ان پر چھریوں سے وار کیے گئے۔ علاوہ ازیں، گزشتہ ہفتے نیویارک شہر کے محکمہ پولیس سے ایک مسلمان اہلکار کو صرف اس لیے برطرف کردیا گیا تھا کیونکہ اس نے داڑھی چھوٹی کروانے سے  انکار کردیا تھا۔


No comments:

Powered by Blogger.