Header Ads

Breaking News
recent

علم اور رہزنی -- شاہنواز فاروقی

حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے ”طالبِ دنیا کو علم دینا رہزن کے ہاتھ میں ہتھیار پکڑا دینا ہے۔“ مطلب یہ کہ وہ علم سے دنیا کمائے گا اور خود بھی ہلاکت میں پڑے گا اور ”نمونہ عمل“ بن کر دوسرے لوگوں کو بھی ہلاکت کی طرف بلائے گا۔
رہزنی ویسے ہی برا اور خطرناک عمل ہے‘ کجا یہ کہ رہزن کو ہتھیار فراہم کرکے اسے مزید خطرناک بنادیا جائے۔ مولانا رومؒ نے اسی بات کو اس پیرائے میں بیان کیا ہے 
علم را بر دل زنی یارے بود
علم را بر تن زنی مارے بود

یعنی تُو علم کا اثر دل پر لے گا تو علم تیرا دوست ثابت ہوگا اور اگر تُو علم کا اثر تن پر لے گا تو علم تجھے سانپ بن کر ڈس لے گا۔ مولانا کے ان دو مصرعوں میں دل کو آخرت اور ماورا کی‘ اور تن کو دنیا کی علامت سمجھنا چاہیے۔ مگر افسوس ہماری دنیا رہزنوں اور سانپ کے کاٹے ہوﺅں سے بھر گئی ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ رہزنی اور سانپ کے کاٹنے سے نیلے پیلے ہوجانے والے چہرے مثال اور اشتہار بن گئے ہیں۔
علم اور علم کا استعمال ایک چیز نہیں۔ ہمارے پاس صحیح علم ہے‘ مقدس علم ہے مگر ہماری آرزوئیں‘ تمنائیں اور مقاصد ِ حیات اتھلے یا ناپاک ہیں‘ چنانچہ ہم علم کو بھی اسی سطح پر گھسیٹ لائیں گے اور اسے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔

ہمارے پاس علم نہ ہوتا تو ہم تب بھی یہی کرتے‘ لیکن پھر ہمارے کیے کی قوت اور کشش بہت کم ہوتی‘ لیکن علم نے ہمارے کام کو آسان بھی کیا‘ اسے پختگی بھی فراہم کی اور اسے نمایاں کرکے نمونہ بھی بنا دیا۔ رہزن خالی ہاتھ کھڑا ہو تو لٹنے والا اس کی مزاحمت کرسکتا ہے اور مزاحمت کامیاب بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن مسافر خالی ہاتھ ہو اور رہزن مسلح ہو تو رہزن کی کامیابی کے امکانات ہزار فیصد بڑھ جائیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف علم کے پاک ہونے سے کچھ نہیں ہوتا‘ اس کے لیے انسان کے باطن کا صاف ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ باطن میں گڑبڑ ہو تو علم کا غلط اور خطرناک استعمال ہوسکتا ہے۔ بندر کے ہاتھ میں استرا کی مثل مشہور ہے جس سے بندر خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا پھرتا ہے۔ اقبال نے کہا ہے 
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

یعنی سیاست ایک طاقت ہے اور طاقت اگر اخلاقی اصول سے بے نیاز ہوجائے تو پھر چنگیز خان نمودار ہوتا ہے اور دنیا اس کی چنگیزیت سے عاجز آجاتی ہے۔ طاقت اپنے ”ظاہر“ سے پہچان لی جاتی ہے اور اس کے ہولناک نتائج عیاں ہوکر سامنے آجاتے ہیں‘ مگر علم رہزنوں کے ہاتھ میں آجائے تو اس کے مظاہر کو شناخت کرنا آسان نہیں ہوتا۔

اگرچہ رہزنوں کے نام اور پتے بھی ہوتے ہیں‘ لیکن نام اور پتوں سے کیا ہوتا ہے؟ ہماری دنیا میں تو سماجی حرکت پذیری یعنی    عام ہوگئی ہے۔ لوگ سال میں دو بار گھر اور علاقہ تبدیل کرتے ہیں اور ضرورت پڑ جائے تو نام بھی بدل لیتے ہیں۔ چنانچہ علم کا اخلاقی اصولوں سے مربوط ہونا سیاست اور اخلاقیات کے ربط ِباہمی سے بھی زیادہ اہم ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کے قول میں دنیا کی طلب اور رہزنی ہم معنی تصورات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا جو بھی کام صرف دنیا طلبی کے لیے ہے وہ رہزنی کے ذیل میں آتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ہم نے رہزنی کو اداراتی بنادیا ہے۔ یعنی   کردیا ہے۔ اس اعتبار سے ہماری درس گاہیں رہزنی سکھانے اور رہزنوں کو ہتھیار فراہم کرنے والے اداروں کے سوا کیا ہیں۔

اطلاع اور علم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اور علم تو بڑی چیز ہے فی زمانہ تو صرف اطلاع و خبر بھی اہم ہوگئی ہے اور اس کا کسی رہزن کے ہاتھ میں ہونا قوم کیا پوری انسانیت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ غور کیجیے یہ محض ایک اطلاع ہی تو تھی کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ ایک سطر کی اس اطلاع نے عراق میں پانچ سال میں ساڑھے چھ لاکھ انسانوں کے قتل کا سامان کردیا۔

ہیروشیما میں ایٹم بم سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی۔ اس اعتبار سے امریکا اب تک عراق میں ساڑھے چھ ایٹم بم استعمال کرچکا ہے۔ ایک فقرہ اور ساڑھے چھ لاکھ انسانوں کے قتل کا سامان۔ اس پر طرہ یہ کہ اطلاع بھی درست نہیں تھی‘ خود ساختہ تھی۔ ایک اطلاع نے شاید ہی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا قتلِ عام کرایا ہو۔ لیکن اس سے اتنی حقیقت تو عیاں ہو ہی جاتی ہے کہ علم کیا اطلاع بھی رہزنوں کے ہاتھ میں جاکر انسان کُش ہوجاتی ہے اور وہ جگہ جگہ انسانی بستیوں پر انسان کُش اسپرے کرتے پھرتے ہیں۔

ہم وطنِ عزیز میں اپنے شہروں بالخصوص اپنے سب سے بڑے شہر کراچی کے حوالے سے یہ شکایت کرتے ہیں کہ یہ شہر شہری منصوبہ بندی یا ٹاﺅن پلاننگ کے اصول کے تحت آباد اور پھیلاﺅ اختیار نہیں کررہا جس کی وجہ سے شہر میں درہمی اور برہمی کا تجربہ عام ہے۔ اطلاع اور علم معمولی چیزیں نہیں‘ ان سے انسان کی روح اور ذہن کے شہروں کی نقشہ سازی ہوتی ہے۔ یہاں رہزنی کیا لاعلمی اور کم علمی بھی خطرناک ہوتی ہے۔ انسان کی داخلی زندگی ایک نہج پر استوار ہوجاتی ہے تو پھر اس کے بدلنے کے لیے صدیاں بھی ناکافی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس دائرے میں تو بہترین شہری منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔

لیکن دنیا بھر میں اس حوالے سے جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ اس دائرے میں بدترین ٹاﺅن پلاننگ ہورہی ہے‘ اس لیے کہ ہر جگہ مسلح رہزنوں نے اطلاع اور علم پر قبضہ کرلیا ہے۔

دنیا کی طلب صرف اختیار و اقتدار یا دولت کے حصول کا نام نہیں۔ شہرت کی خواہش اور انا پروری بھی دنیا طلبی کے دائرے میں آتے ہیں اور ان کی وجہ سے علم کا استعمال بدل کر رہ جاتا ہے۔ یہ دوا کو مرض بنانے کا جرم ہے لیکن ہماری دنیا میں یہی جرم آرٹ اور سائنس بنادیا گیا ہے۔

ہماری دنیا طلبی بلکہ دنیا پرستی نے علم جیسے سرچشمے کو زہر آلود کرکے اس کے اثر کو زائل کردیا ہے اور علم بھی انسانوں اور معاشروں کو بدلنے کے کام نہیں آرہا۔ ہم کیسی کیسی باتیں سنتے اور پڑھتے ہیں مگر ہمارے دل پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ الفاظ‘ ان کے معنی‘ الفاظ استعمال کرنے والے اور اس کے مقاصد میں ایک گہرا تعلق ہے۔ مقاصد کی تبدیلی الفاظ و معانی کے اثرات کو بدل دیتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے اور اسے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا رہزن بھی تبدیل نہیں کرسکتا۔

 شاہنواز فاروقی

No comments:

Powered by Blogger.