Header Ads

Breaking News
recent

زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والے دس ممالک میں پاکستان بھی شامل

گذشتہ پانچ برسوں میں دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والے دس ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔
ملٹری تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ (سپری) کے مطابق 2011 سے 2015 تک اسلحہ کی درآمد کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر انڈیا، دوسرے نمبر پر سعودی عرب جبکہ تیسرے نمبر پر چین رہا ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا نمبر ساتواں ہے۔

سپری کے سینیئر تجزیہ کار پیٹر ویزمین کے مطابق چین نے اسلحہ درآمد کر کے اور مقامی طور پر بنا کر اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ جاری رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمسایہ ممالک جیسے انڈیا، ویت نام اور جاپان بھی خاصی حد تک اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
مشرقی وسطیٰ میں اسلحہ کی درآمد میں اضافہ

سنہ 2006۔2010 کی نسبت 2011 اور 2015 کے درمیان سعودی عرب کے اسلحہ درآمد کرنے میں 275 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات میں اسلحہ کی درآمد میں 35 فیصد اضافہ ہوا اور قطر میں یہ اضافہ 279 فیصد دیکھنے میں آیا۔مصر میں یہ اضافہ 37 فیصد رہا۔

پیٹر ویزمان کہتے ہیں کہ عرب ممالک کا اتحاد ہی امریکہ اور یورپ کی طرف سے حاصل کیے گئے جدید اسلحے کا استعمال یمن میں کر رہا ہے۔ ’تیل کی کم قیمتوں کے باوجود گزشتہ پانچ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کو اسلحے کی سپلائی جاری ہے۔ 

اسلحہ برآمد کرنے والے: امریکہ سرِ فہرست

2011۔2015 میں امریکہ اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست رہا۔ 2006۔2010 کے مقابلے میں 2011۔2015 میں اس کی اسلحے کی برآمد میں 27 فیصد اضافہ ہوا لیکن عالمی طور پر اسلحے کی فروخت میں اس کا حصہ 33 فیصد رہا۔ اسی دوران روس کی اسلحے کی برآمد میں 28 فیصد کا اضافہ ہوا لیکن عالمی طور پر اس کا حصہ 25 فیصد رہا۔
انڈیا ان ممالک پر اعتراض کرتا ہے جو پاکستان کو اسلحہ فروخت کرتے ہیں
چین کی اہم اسلحے کی برآمد 2011۔2015 میں فرانس سے زیادہ رہی لیکن 2006۔2011 کے مقابلے میں یہ 88 فیصد بڑھی۔ فرانس کی برآمدات میں 9.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔

سپری کے آرمز اینڈ ملٹری ایکسپینڈیچر پروگرام کے ڈائریکٹر آڈ فلورینٹ کہتے ہیں کہ گذشتہ پانچ برسوں میں امریکہ نے 96 ممالک کو اسلحہ بیچا یا عطیہ کیا ہے اور ابھی اسے نو ممالک کو 611 ایف۔35 جنگی جہاز بھی دینے ہیں۔

چین سے اسلحہ

چین سے اسلحہ خریدنے والوں میں پاکستان کا نمبر سرِ فہرست جو کہ کل فروخت کا 35 فیصد ہے، اس کے بعد بنگلہ دیش اور میانمار کا نمبر آتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان قریبی فوجی تعلقات کی وجہ سے کبھی کبھار انڈیا کے ساتھ تناؤ بھی پیدا ہو جاتا ہے جو کہ اپنی اسلحے کی صنعت کو بڑھانا چاہتا ہے اور ہمیشہ ہی ان ممالک پر اعتراض کرتا رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کرتے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.