Header Ads

Breaking News
recent

پی آئی اے کا بیڑہ کیسے غرق ہوا ، کس نے کیا ؟

 "پی آئی اے" کی (عیّارانہ) نِجکاری پر ہونے والی، آپ کی گفتگو میں، آج شریک ہونے پر، خود کو مجبور پا رہا ہوں۔ کچھ باتیں اِس طویل تحریر کی صورت میں، آپ سب کے غور و فِکرِ کے لیے پیشِ خدمت ہیں۔

"پی آئی اے سی" پوری دو نسلوں تک، منافع بخش رہی۔ دنیا میں پاکستان کے لیے باعثِ فِخر بنی رہی۔ اِس نے متعدد ایئر لائنز کو جنم دیا، پالا پوسا۔
حالانکہ یہ اُس وقت بھی "سرکاری" ایئرلائن تھی۔
اِس کو بگاڑنے میں کلیدی کردار، "کارپوریٹ ورلڈ" کے پاکستانی ڈانز، "میاں صاحبان آف جاتی عمرہ" نے ادا کیا، جب ریاست کے اِس اہم ادارے کو گلف کے بھوکے بھیڑیوں کے حوالے کردیا۔
کوئی چوبیس پچیس برَس پہلے، "اوپن اسکائی" پالیسی نافذ کرتے وقت، میاں صاحبان کو بتادیا گیا تھا کہ اِس پالیسی کا نتیجہ خودبخود، پی آئی اے کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔
پی آئی اے میں ملازموں کی "بھرمار" کی نعرہ زَنی، صریحاً زیادتی اور گمراہ کُن ہے۔

آپ جہاز کم کرتے گئے، تو لامحالہ، فی ایئر کرافٹ، ورکنگ فورس بڑھ گئی۔
طیاروں کی تعداد بڑھانے کے بجائے، ملازموں کو نکالتے چلے جانے کی پالیسی اور حکمتِ عملی بیس پچیس سال جاری رہی۔
یہ عمل "مَیکرو اکنامکس" کی سطح پر سماج کی اقتصادی و مُعاشرتی صحت کے لیے کینسر سے کم نہیں۔
یہی روایتی "سفّاک سرمایہ دارانہ" ذہنیت بھی ہے، جس کا جدید نام "کارپوریٹ کلچر" ہے۔ لیکن اپنی نئی جَون میں، یہ پُرانی سرمایہ داری سے زیادہ کمینہ صفت، عیّار اور سفاک روح و ذہنیت کی حامل ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ جہازوں کا بیڑا نہیں بڑھاتے، تو "ورک فورس فی ایئر کرافٹ" کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ آپ جہازوں میں اضافہ کیجیے، تو یہ تناسب، خود بخود بہتر ہوجائے گا۔

منافع بخش رُوٹس پر فلائٹس کیوں نہیں بڑھاتے؟ پی آئی اے کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہوتی جائے گی۔
ایئر لائن کو خسارے کے بوجھ تلے دَباکر، اپنوں اور پیاروں کے ہاتھ بیچ دینا مقصود ہے۔
یہی مکّاری پاکستان اسٹیل ملز کے ساتھ، زیادہ بُری طرح، اختیار کی جا رہی ہے۔
یاد رکھیے، اپنے باشندوں کے لیے روزگار کا انتظام کرنا۔۔۔۔۔ ریاست، مُعاشرے، مُتَمَوَّل افراد، نجی کمپنیوں، اداروں۔۔۔۔۔۔۔ سب کی ذمہ داری ہی۔۔۔۔۔لیکن ریاست و حکومت کی ذمہ داری، سب سے زیادہ ہے 
آج دنیا پر "کارپوریٹوکریسی" کی "بدمعاشی" زوروں پر ہے، اور اِس میں مسلسل اضافہ ہورہا پے۔

اِسے چیلنج کرنا، اِس کے لیے اپنے دلائل لانا، رائے عامّہ کو ایجوکیٹ کرنا، مُعاشرے کے فعال اور مؤثر عناصر کو متحد و متحرک کرنا۔۔۔۔۔ سب سے زیادہ اسلامی تحریکوں کا اور دینی حلقوں کا کام ہے۔ اگر یہ کام انہوں نے نہیں کیا، تو نئی اقسام کی "ردِّ عملی تحریکیں" ایک دو نسلوں کے بعد ہی سہی، ایسی پھوٹیں گی، اور اُبلیں گی، جیسے بقرعید کے قسائی۔

پھر ہر طرف، انسانیت، شرافت، عدل و احسان، اَخلاقیات اور عدلِ اجتماعی کا ذبیحہ ہورہا ہوگا۔ ساتھ ہی ہر طرف، ظالم و سفاک استحصالی طبقوں کی انتڑیاں بکھری پڑی ہوں گی۔
بھائیو!

خدا را، "کارپوریٹ مَین" بننے سے، "کارپوریٹ مائنڈ سیٹ" اپنانے سے، "کارپوریٹ کلچر" میں رنگے جانے سے اور "کارپوریٹوکریسی" کے استبدادی غلبہ سے، خدا کی پناہ مانگیے۔
خود کو بھی بچائیے، اور دنیا کو بھی بچانے کی کوشش کیجیے۔
اللہ تعالیٰ، آپ سب کو خَیر و عافیت سے نوازے۔
  
شاہد ہاشمی ۔ کراچی

No comments:

Powered by Blogger.