Header Ads

Breaking News
recent

کھیوڑہ - نمک کاشہر

پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے مالا مال کیا ہے ۔ یہ ملک معدنیات کے خزانوں سے بھر ا ہوا ہے ۔ یہاں نمک کے پہاڑوں کے طویل سلسلے موجود ہیں جو غذائی کے علاوہ کئی صنعتوں کی ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں ، جن علاقوں میں نمک کے پہاڑ پائے جاتے ہیں، انہیں سالٹ رینج، کوہستان نمک یا نمکستان کہتے ہیں ۔ یہ علاقہ کوہ ہمالیہ کی جنوبی سمت راولپنڈی اور جہلم کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے اور پوٹھوہارکا علاقہ کہلاتاہے۔

 یہ انتہائی تاریخی علاقہ ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ پوٹھوہار کے علاقہ میں تین ہزار سال قبل مسیح میں بھی انسانی بستی آباد تھی۔ اس خطے میں پائی جانے والی کھیوڑہ کی کانیں اپنے رقبے اور ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پرہیں۔ کھیوڑہ، وارچھا اور کالا باغ کے مقامات میں نمک کی کانوں کے بڑے ذخائر ہیں۔ یہاں سے نکلنے والا عمدہ اورخالص نمک عرف عام میں ’’لاہوری نمک‘‘ کہلاتا ہے ۔ کوہستانِ نمک وادی ِسون اور دریائے جہلم کے درمیان دو پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔

 یہ سلسلہ کوہ مغربی اور مشرقی سمتوں میں تقسیم ہے۔ مشرقی علاقے میں تقریباً 80میل لمبی پٹی میں جگہ جگہ چٹانی نمک کی کانیں ہیں۔ پہاڑیوں کایہ سلسلہ تقریباً 160میل لمبا، اوسطاً دس میل چوڑا اور تین ہزار فٹ اونچاہے۔ سطح سمندر سے اس علاقے کی اوسط بلندی 2200فٹ کے لگ بھگ ہے ۔ جنوب کی جانب کٹی پھٹی سطح مرتفع ہے۔ نمک کاسلسلہ قوس کی شکل میں دریائے جہلم کے شمال میں باغان والا سے شروع ہوتاہے اور نشیب میں جنوب مغرب کی طرف سے ہوتاہوا جب شمال مغرب کی طرف مڑتا ہے، تو میانوالی ضلع میں کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ میں ختم ہوتاہے۔

 کوہستان نمک کی زمین بظاہر بھربھری اور ریتلی چٹانوں اور چونے کے پتھروں پر مشتمل ہے، جس میں بظاہر کوئی کشش معلوم نہیں ہوتی، مگر قدرت نے اس سرزمین کے سینے میں معدنی ذخائر کے بیش بہا خزانے چھپادئیے ہیں، ان میں چونے کا پتھر،چقماق، سرخ پتھر، کوئلہ ،پیلا پتھر اور سب سے بڑھ کر نمک کی سوغات عام دستیاب ہے۔ ٹلہ جوگیاں اور سکیسر سلسلہ کوہ نمک کی نمایاں چوٹیاں جبکہ کھبکی،اوچھالی ، کلرکہار،جھالراورنمل اس کی نمایاں جھیلیں ہیں۔ ا ن میں سے تین کو بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے اور انہیں کنونشن کے تحت خصوصی درجہ دیاگیاہے۔

 ان جھیلوں میں انواع واقسام کی جڑی بوٹیاں اور رنگ برنگے پرندوں کے مسکن پائے جاتے ہیں۔ برصغیر میں سالٹ رینج میں سب سے پہلے اور وسیع مقدار میں نمک دریافت ہوا، اس لیے اسے طبقات الارض کا عجائب گھر بھی کہاجاتاہے۔سالٹ رینج کے ذخائر کی ماہیت کے متعلق متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ ماہرین اس بات پر گہری نظرسے مطالعہ کررہے ہیں کہ یہ ذخائر آتش فشاں پہاڑوں کی سرگرمیوں کانتیجہ ہیں یا ان کی ترتیب دیگر قدرتی ذرائع سے ہوئی،جن ماہرین کا خیال ہے کہ سالٹ رینج کے ذخائر آتش فشاں پہاڑوں کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں ان ماہرین میں  وغیرہ نمایاں ہیں۔

 ان ماہرین نے اپنے دعوے کی دلیل میں کہاہے کہ کھیوڑہ میں ان ذخائر کے ساتھ لاوے کی ساخت کا مادہ بھی دستیاب ہے اور مزید اس میں ہائیڈرایٹ بھی موجود ہیں،جو ان ذخائر کے آتش فشاں پہاڑوں سے وجود میں آنے کا ثبوت ہے۔ دوسری جانب نے اس مفروضے کورد کرتے ہوئے کہاکہ نمک کے یہ ذخائر آتش فشاںپہاڑوں کے پھٹنے سے وجود میں نہیں آئے بلکہ اس جگہ سمندر تھا جو اپنے پیچھے نمک کے ذخائر چھوڑگیا۔

 ان ماہرین کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں سال پہلے خطہ ہمالیہ، پنجاب اور راجپوتانہ سمندرکی تہہ میں موجود تھے، جسے   کہاجاتاتھا، یعنی جس جگہ اس وقت خشک اور بنجر پہاڑوں کا طویل سلسلہ دکھائی دیتاہے کروڑوں سال پہلے یہاں ٹھاٹھیں مارتاسمندرہواکرتا تھا۔ جب انڈین پلیٹ ایشین پلیٹ سے ٹکرائی ،تواس کے نتیجے میں یہ سمندر اپنی جگہ چھوڑ گیااور آخر کار یہ علاقہ ایک وسیع جھیل بن گیا،جس کی نوعیت کم وبیش بحرِمردار کی تھی، پھر اس علاقہ میں پانی نتھرنے اور خشک ہونے کا قدرتی عمل شروع ہوا ۔

انجام کار ساراپانی رقیق’’ نمکون‘‘ کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔ اس کی تہیں بنتی گئیں، جو سوڈیم کلورائیڈ، پوٹاشیم سالٹ، کیلشیم سالٹ وغیرہ کی شکلوں میں باقی ہے۔ اس علاقے میں قدیم انسانی تہذیب کے آثاربھی ملے ہیں۔ تاریخ دان بھی اس علاقے کی تاریخ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کھیوڑہ کی کان کا تذکرہ ابن بطوطہ کے سفرنامے میں بھی ملتاہے۔  

  (کتاب ’’ کھیوڑہ-نمک کاشہر‘‘مرتبہ:محمدنعیم مرتضیٰ سے مقتبس)  

No comments:

Powered by Blogger.