Header Ads

Breaking News
recent

تھر کے بچے جھوٹ سے مر رہے ہیں

گذشتہ برس پاکستان کے صوبہ سندھ کے پسماندہ ترین ضلع تھرپارکر میں جب تواتر سے 350 کے لگ بھگ نوزائیدہ اور ذرا بڑے بچے ناکافی غذائیت کے سبب ہلاک ہوگئے تو صوبائی حکومت نے یہ عذر پیش کیا کہ یہ سب بدانتظامی اور بروقت اطلاعاتی نظام نہ ہونے سے ہوا لیکن اب انشااللہ ایسا نہیں ہوگا۔
کھوج یہ لگایا گیا کہ بچوں اور ماؤں کی شرحِ اموات کا بنیادی سبب صاف پانی کی قلت، خوراک کی کمی اور ذرائع آمدورفت کی دشواریوں کے نتیجے میں طبّی سہولتوں کا عام آدمی تک پہنچ نہ ہونا ہے۔
چنانچہ اس پورے ایک برس میں تھرپارکر میں صاف پانی کے 400 پلانٹ نصب کئے گئے۔ ان میں روزانہ دس لاکھ گیلن پانی صاف کرنے والا ’ایشیا کا سب سے بڑا‘ ریورس آسموسس پلانٹ بھی شامل تھا ۔اس پلانٹ سے مٹھی شہر اور آس پاس کے تقریباً 100 گوٹھوں کے 75 ہزار مکینوں کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے ۔

اگلے چھ ماہ میں مزید 300 پلانٹ نصب کرنے کا ہدف ہے۔ روزانہ دو ملین گیلن صاف پانی کے پورے منصوبے پر ساڑھے پانچ ارب روپے لاگت کا اندازہ ہے۔
مگر پیپلز پارٹی مٹھی کے صدر مہیش کمار ملانی کہتے ہیں کہ 400 میں سے 100 کے لگ بھگ پلانٹ کچھ عرصہ چلنے کے بعد ناکارہ پڑے ہیں کیونکہ مینٹیننس کا مسئلہ ہے۔

ویسے بھی جس ضلع کی 13 لاکھ آبادی تقریباً ڈھائی ہزار چھوٹے بڑے گوٹھوں میں پھیلی ہو وہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمی محض چند سو ریورس آسموسس پلانٹس سے ممکن نہیں تاوقتیکہ نہر یا پائپ کے ذریعے پانی بیراجی علاقوں سے نہ پہنچایا جائے۔

تھر اور پانی

تھر کی 80 فیصد آبادی کا دارومدار اس وقت بارش کے پانی یا کنوؤں پر ہے۔ پانی کا لیول سطح زمین سے 800 تا 1500 فٹ نیچے ہے۔ لہذا جو پانی میسر ہے اس میں سنکھیا اور فلورائیڈ کی آمیزش اوسط سے زیادہ ہے۔ یہ پانی پیاس تو بجھا دیتا ہے مگر انسانی جسم کو طرح طرح کے دیگر مسائل میں بھی مبتلا کردیتا ہے۔
چلئے 13 لاکھ میں سے دو ڈھائی لاکھ آبادی کو پلانٹس یا ایک آدھ بڑی پائپ لائن کے طفیل صاف پانی مل رہا ہے ۔مگر یہ وہ ضلع ہے جہاں پاکستان کے 20 فیصد کے لگ بھگ پالتو مویشیوں (اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ ) کا ریوڑ بستا ہے۔ 

انسانوں کے پانی اور صحت کے مسائل حل ہوں تو ان مویشیوں کی باری بھی آئے۔
دوسرا بڑا مسئلہ روایتی قحط سالی ہے۔ انگریز دور میں مون سون کے موسم میں اگر تین میں سے لگاتار دو بار بارشیں نہیں ہوتی تھی تو خطے کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر سرکاری رسد کی فراہمی شروع ہوجاتی تھی اور آبیانہ معاف ہوجاتا تھا۔ لیکن ناکافی چارے اور قحط سالی کے سبب بڑھنے والی غربت سے نمٹنے کے لئے سالانہ ہزاروں خاندان سندھ کے نہری علاقوں میں نقلِ مکانی کرتے تھے اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔

ایک نوزائیدہ صحت مند بچے کا اوسط وزن ڈھائی کلو گرام تک ہونا چاہئے۔ مگر تھر میں نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن پونے دو کلو گرام تک ہوتا ہے
مگر ہر سال اتنے بچے کیوں مرتے ہیں ؟ کیا غربت اور محرومی بس تھرپارکر پر ٹوٹی ہے ؟ سیاستدان کہتے ہیں کہ پہلے بھی ہر سال اتنے ہی تھری مرتے تھے مگر حکومت کو بدنام کرنے والا میڈیا نہیں تھا۔ لیکن اس سوال کا جواب کہیں نہیں ملتا کہ ہر آن بدلتے اس جدید زمانے میں بھی اموات کی تعداد میں مستقل کمی کیوں نہیں آ رہی؟ کیا تھریوں کو مرنے کا شوق ہے یا گڈگورننس کا نہ ہونا روایت مرگ زندہ رکھے ہوئے ہے؟
عام طور پر ایک صحت مند بچے کی ولادت کے لئے حاملہ خاتون کا اوسط وزن 50 کلو گرام سے اوپر ہونا چاہئے۔ مگر تھر کی ماؤں کا اوسط وزن 40 تا 42 کلو گرام ہے اور ان کی اکثریت شدید اینیمیا ( قلتِ خون ) کا شکار ہے۔
ایک نوزائیدہ صحت مند بچے کا اوسط وزن ڈھائی کلو گرام تک ہونا چاہئے۔ مگر تھر میں نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن پونے دو کلو گرام تک ہے۔ جو بچے اسپتالوں میں مر رہے ہیں ان میں سے اکثر ایک سے ڈیڑھ کلو گرام تک کے ہیں۔ ان بچوں کو نہ تو خشک چھاتیوں والی ماؤں کا دودھ میسر ہے اور نہ ہی ان میں اتنی جسمانی مزاحمت کہ خود کو چند ماہ زندہ رکھ سکیں۔

اس کا صاف صاف مطلب ہے کہ مائیں فاقہ زدہ ہیں اور انکی ناکافی غدائیت براہ راست بچے کو منتقل ہو رہی ہے۔ مرے پر سوواں درہ یہ کہ کوالیفائیڈ لیڈی ڈاکٹرز کا شدید اور مسلسل قحط ہے۔
اس وقت روزانہ ناکافی غذائیت کے شکار دس تا 12 نوزائیدہ بچے مٹھی اسپتال لائے جا رہے ہیں
تھر میں کہنے کو کاغذ پر 350 کے لگ بھگ چھوٹی بڑی ڈسپنسریاں ہیں لیکن 70 فیصد بند پڑی ہیں۔ یا تو عملہ ہی نہیں یا عملہ غیر حاضر ہے۔ ضلع کی چھ تحصیلوں میں تعلقہ اسپتال ہیں مگر ان کی حیثیت بھی علامتی ہے۔
چنانچہ ضلع کے سب سے بڑے مٹھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پر مریضوں کا سب سے زیادہ دباؤ ہے۔ یہاں مستقل عملے کے نام پر صرف چار جونیئر ڈاکٹر ہیں۔ 

جنرل فزیشن، جنرل سرجن ، اور آرتھو پیڈک سرجن کی آسامیاں مسلسل خالی ہیں۔ ایک بھی جنریٹر نہیں جو لوڈ شیڈنگ کے مارے ضلع کے سب سے بڑے اسپتال کو 24 گھنٹے رواں رکھ سکے۔

ہمیں توقع تھی کہ ایک سال کے اندر سرکاری تربیت یافتہ عملہ ہمارا کام سنبھال لے گا۔ مگر اس عرصے میں حکومت اسپتال میں ایک کوالیفائڈ ٹیکنیشن کی بھی تقرری نہ کرسکی لہذا اسپتال کے انچارج کی درخواست پر ہم نے اپنی تکنیکی امداد کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے۔
ڈاکٹر فیاض عالم

اس وقت روزانہ ناکافی غذائیت کے شکار دس تا 12 نوزائیدہ بچے مٹھی اسپتال لائے جا رہے ہیں۔ سال بھر پہلے یہ حال تھا کہ اسپتال کے بچوں کے نیونٹل انٹینسو کئیر یونٹ ( این آئی سی وی ) میں مریض کی حالت پر نگاہ کرنے کے لئے ایک بھی مانیٹر نہیں تھا۔ ایک بھی کوالیفائیڈ این آئی سی وی ٹیکنیشن نہیں تھا۔
ایک این جی او پاکستان اسلامک میڈیکل ایسویسی ایشن ( پیما ) نے اسپتال کو چھ لاکھ روپے کے آلات اور تربیت یافتہ ٹیکنیشن فراہم کیا اور آکسیجن کی فراہمی کے لئے سلنڈروں کے بجائے این آئی سی وی میں لائن نصب کی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بہت سے بچوں کی جانیں بچ گئیں۔

پیما سے منسلک ایک ڈاکٹر فیاض عالم کا کہنا ہے کہ ہمیں توقع تھی کہ ایک سال کے اندر سرکاری تربیت یافتہ عملہ ہمارا کام سنبھال لے گا۔ مگر اس عرصے میں حکومت اسپتال میں ایک کوالیفائڈ ٹیکنیشن کی بھی تقرری نہ کرسکی لہذا اسپتال کے انچارج کی درخواست پر ہم نے اپنی تکنیکی امداد کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے ( اس دوران پانچ مقامی رضاکاروں کی بطور ٹیکنیشن تربیت بھی ہو رہی ہے ۔ 

اس ماہ کے دوران اب تک لگ بھگ45 بچے مر چکے ہیں۔ پچھلے تین روز میں سینئر صوبائی وزیرِ نثار کھوڑو، وزیرِ بحالیات علی حسن ہنگورجہ اور وزیرِ اعلی کے مشیرِ اطلاعات مولا بخش چانڈیو ہٹو بچو اسکواڈ کے گھیرے میں اسپتال کا دورہ کر چکے ہیں۔ انھیں سرکاری عملے نے ’ایک دم فرسٹ کلاس‘ حالات کی نوید دی اور تینوں وزرا نے سرکاری کارکردگی کو سراہا اور کراچی پلٹ گئے۔

اب آگے کیا کہوں؟ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.