Header Ads

Breaking News
recent

مودی جی کی زلزلہ خیز آمد

کئی دہائیاں قبل ایک ناول میں شاید قلوپطرہ کی آمد کے حوالے سے یہ فقرہ پڑھا تھا ’’وہ آئی۔ اس نے دیکھا۔ اور اس نے فتح کرلیا‘‘۔ نریندر مودی صاحب اچانک لاہور میں آئے۔ انہوں نے زور سے میاں نواز شریف کو جپھی ڈالی۔ سالگرہ کی مبارک دی۔ نواسی کی شادی کی مبارک دی۔ تحائف پیش کئے۔ میاں نواز شریف کی والدہ محترمہ کے پائوں چھوئے اور نیو دہلی کیلئے روانہ ہوگئے۔

 مودی صاحب کی ساری ادائیں ہی دلربا تھیں لیکن انکا میاں صاحب کی والدہ محترمہ کے پائوں چھونا ایسی ادا تھی جس نے لاہوریوں کو ’’نہال‘‘ کردیا اور لوگوں نے کہنا شروع کیا ’’وہ آئے۔ انہوں نے دیکھا اور انہوں نے دلوں کو فتح کرلیا۔‘‘ مجھے دائیں بائیں سے بہت سے فون آئے اور پیغامات موصول ہوئے رہے۔ لوگ خوش تھے کہ ہندوستان کیساتھ امن کا آغاز ہو رہا ہے اور بی جے پی کی مسلمان دشمن پارٹی کے برسراقتدار آتے ہی جن خدشات و خطرات کا اظہار کیا تھا اور جن خطرات کو مودی جی نے اپنے رویے اور انداز سے مزید بھڑکایا تھا، انکے شعلے سرد پڑ رہے ہیں۔

میں ان تمام دوستوں سے یہی کہتا رہا کہ لاہوری اور پاکستانی خوش فہم لوگ ہیں ذرا انتظار کرو، تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔ تم ایک دم یہ امید کیسے لگا بیٹھے ہو کہ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ابھی کچھ ہی ہفتے قبل ہندوستان کی وزیر خارجہ ماتھے پہ بڑی سی بندیا لگا کر آئی تھیں۔ وہ اپنے ملک میں پاکستان پر آگ برسانے میں پیش پیش رہتی ہیں لیکن پاکستان پہنچتے ہی انہوں نے انداز بدلا اور کہا میں ہندوستان سے محبت کا پیغام لائی ہوں حتیٰ کہ انہوں نے ہمارے سرتاج عزیز صاحب کو سب کا سر تاج اور اپنا سرتاج بھی تسلیم کرلیا۔ 

انکے ساتھ تفصیلی ڈائیلاگ کا معاہدہ ہوا۔ کہا گیا کشمیر پر بھی بات ہوگی۔ ابھی وہ ہندوستان پہنچی ہی تھیں کہ پاکستان میں ہندوستانی سفیر نے اعلان کردیا۔ ہاں کشمیر پر بات ہوگی لیکن اس کشمیر پر جو پاکستان کے زیر تسلط ہے۔ جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ انکے ارشاد کا مطلب تھا کہ مقبوضہ کشمیر تو طے شدہ مسئلہ ہے۔
صرف آزاد کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا ہے جو پاکستان کے قبضے میں ہے۔ سچ پوچھو تو یہ انداز سیاست یا اس طرح کی ڈپلومیٹک چالیں ہندوستان پاکستان کے تعلقات پر گزشتہ 68 سال سے چھائی ہوئی ہیں۔ ان چالوں سے نہ پہلے کچھ برآمد ہوا ہے اور نہ ہی اب کوئی نتیجہ نکلے گا۔ بس اسے غنیمت جانئے کہ کچھ دن دونوں طرف سے توپوں کے دہانے خاموش رہیں گے اور بارڈر پر واقع دیہاتی آبادی سکون کی نیند سو سکے گی ورنہ گزشتہ دنوں ہندوستانی فائرنگ سے کتنے ہی پاکستانی شہید ہوگئے اور ہندوستانی سابق اور حاضر جرنیلوں نے دھمکی دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ 

امن کی خواہش دونوں ملکوں کے عوام کی ترجیح ہے۔ لیکن زمینی صورتحال اور تاریخ بتاتی ہے کہ یہ امن اور خاموشی ہمیشہ وقتی اور لمحاتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ تقسیم ہند سے لے کر آج تک جاری ہے اور کم سے کم مجھے اس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ دن بدن دونوں ممالک کے درمیان مسائل پیچیدہ تر صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ کئی مرتبہ امیدوں کے چراغ جلے اور پھر بجھ گئے۔

دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں سمندر کا فاصلہ نظر آتا ہے، ایک خلیج حائل ہے جو دن بدن پھیلتی ہی چلی جاتی ہے۔ اس خلیج کو نہ میاں نوازشریف پاٹ سکتے ہیں نہ نریندر مودی کیونکہ دونوں اپنی اپنی تاریخی مجبوریوں کے اسیر ہیں۔ میاں نوازشریف نے وزارت خارجہ اپنے پاس رکھی ہی اسلئے تھی کہ وہ براہ راست ہندوستان سے ڈائیلاگ کر کے امن کی راہ تلاش کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھائیں گے۔
 وہ جس انداز اورگرم جوشی سے مودی کی تقریب حلف وفاداری میں شریک ہوئے اور مودی کی والدہ محترمہ کو قیمتی شالوں اور ساڑھیوں کے تحائف دیئے اسے پاکستان کے اکثر حلقوں میں پسند نہ کیا گیا لیکن اب مودی نے افغانستان سے ہندوستان جاتے ہوئے لاہور میں کچھ وقت گزار کر وہ قرض اتار دیا حالانکہ مودی صاحب افغانستان میں پارلیمنٹ بلڈنگ کی افتتاحی تقریب میں نام لئے بغیر پاکستان کو نشانہ بنا چکے تھے۔ ایک بار ایوب خان نے کہا تھا کہ پنڈت نہرو ایک ہی موقع پر منہ سے گرم اور سرد باتیں کر جاتے ہیں اس لئے ان کی نیت سمجھ میں نہیں آتی۔ نریندر مودی بھی نہرو کے ہندوستان کے وزیراعظم ہیں۔

وہ بین الاقوامی مشورے اور ہندوستان کے داخلی دبائو کے تحت گرم سرد باتیں بیک وقت کر جاتے ہیں اس لئے اپنے انتہا پسندوں اور اپنے حلقہ اثر کو خوش کرنے کیلئے وہ کب کیا کہہ دیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دلچسپ ہے یہ بات کہ ادھر مودی صاحب میاں صاحب کو گرما گرم جپھی ڈال کر جہاز پر اڑے اور ادھر بھی لاہوریے خوشیاں منا ہی رہے تھے، ٹی وی چینلوں نے طوفان برپا کیا ہوا تھا کہ پاکستان زلزلے سے لرزنے لگا۔ کہیں یہ قدرت کی جانب سے وارننگ تو نہیں تھی، مودی کی آمد بھی زلزلے سے کم نہیں تھی اور ان کی رخصت کے چند دن گھنٹے بعد اصلی زلزلے نے ہوش ٹھکانے لگا دیئے۔ مودی کی آمد سے دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ اور تفصیلی ڈائیلاگ کی خبر نے جنم لیا ہے۔

یہ سلسلہ گزشتہ 67 برس سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہیگا۔ بات چیت ہوتی رہنی چاہئے اگرچہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہوتا لیکن کم از کم مصنوعی امن کا تاثر تو قائم رہے کیونکہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ مسائل کا حل نہیں۔ اصلی مسئلہ اور بنیادی ایشو کشمیر ہے جس کے حل ہونے کی امید نظر نہیں آتی لیکن اگر گفتگو کے ذریعے سرکریک، سیاچن اور پانی کے مسائل کا حل ڈھونڈا جاسکے تو یہ بھی قابل قدر پیش رفت ہوگی۔

 سرکریک اور سیاچن جیسے مسائل کا حل آسان بھی ہے اور ہندوستان کے مفاد میں بھی ہے لیکن پانی کا مسئلہ کشمیر کے مسئلے کی مانند الجھ چکا ہے کیونکہ ہندوستان نے پاکستانی دریائوں پر ڈیم اور بند باندھ کر پاکستانی زرخیز مٹی کو ریگستان میں بدلنے کا منصوبہ مکمل کرلیا ہے۔ اس وقت ہندوستان کو زمینی راستے سے افغانستان اور سینٹرل ایشیا تک رسائی کیلئے پاکستان کی ضرورت ہے۔ سشما سوراج کا محبت کا پیغام اور مودی صاحب کی اچانک آمد اسی ضرورت کی اہم کڑیاں ہیں۔ امریکہ کا مشورہ بھی یہی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کی کنجی پاکستان کے پاس ہے اس لئے ہندوستان پاکستان کے درمیان امن نہایت ضروری ہے۔

بین الاقوامی سیاست میں ضرورتیں وقتی اور عارضی ہوتی ہیں اسلئے اس سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔ پاکستان کی معاشی، سیاسی اور عسکری مضبوطی ہی پاکستان کے وجودکی ضمانت دے سکتی ہے اور بین الاقوامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ کئی دہائیاں قبل ایوب خان کے مستحکم دور حکومت میں ہندوستانی وزیراعظم پنڈت نہرو اسی دھوم دھماکے کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔ ایوب خان اورپنڈت نہرو لاہور کے گورنر ہائوس کے باغیچے میں ٹہل رہے تھے اور دوستی کی پینگیں بڑھا رہے تھے۔

 گرم جوشی سے فائدہ اٹھا کرایوب خان نے گلاب کے پودے سے خوبصورت تروتازہ گلاب کا پھول توڑا اور پنڈت نہرو کو پیش کیا۔ پنڈت جی پھول لے کر کھل اٹھے۔ دوستی کے ماحول کا فائدہ اٹھا کرایوب خان نے کشمیر کے مسئلے کا ذکر چھیڑ دیا۔ پنڈت جی گلاب کا پھول سونگھ رہے تھے۔ کشمیر کا ذکر ہوتے ہی پنڈت جی نے گلاب کا پھول مسل کر زمین پہ پھینک دیا......!!

 -ڈاکٹر صفدر محمود
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.