Header Ads

Breaking News
recent

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی، مغرب کی پریشانی

سابق فرانسیسی صدر فرانسس متراں سے اُن کے دور حکومت میں ایک فرانسیسی صحافی نے سوال کیا کہ ’’فرانس میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ مستقبل میں فرانس اسلامی مملکت بن جائے، آپ اس خطرے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟‘‘ فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’’اگر ایسا ہوا تو میں بھی مسلمان ہو جائوں گا۔‘‘ دنیا کو دکھانے کیلئے فرانسیسی صدر کا صحافی کو دیا گیا جواب یقینا سیاسی تھا مگر فرانسیسی حکومت اندرونی طور پر ہر وہ اقدامات کر رہی ہے جن سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکا جا سکے۔

 سانحہ پیرس کے بعد فرانس میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا جا چکا ہے اور اب فرانس ایسے قوانین وضع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت فرانسیسی شہریت کے حامل کسی بھی مسلمان کی شہریت منسوخ کر کے اُسے کسی بھی وقت آبائی وطن ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کیلئے مشکلات پیدا کرکے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ وہ خود فرانس چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں اور اس طرح فرانس کو مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے خطرے سے نجات مل جائے۔ واضح ہو کہ فرانس میں 50 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں جو یورپ کے کسی بھی ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔
فرانس کی اوسطاً شرح پیدائش 1.8 فیصد ہے جبکہ فرانس میں مقیم مسلمانوں کی شرح پیدائش تقریباً 6 فیصد ہے جن میں اکثریت 20 سے 25 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2027ء میں فرانس کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہو گا اور آئندہ 39 سالوں میں فرانس اسلامی مملکت بن جائے گا۔ اسی طرح یورپی ملک برطانیہ میں گزشتہ 30 سالوں کے دوران مسلمانوں کی آبادی میں 30 گنا اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر اب 25 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں مساجد کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے ۔ 

تحقیق کے مطابق اگر برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو 2020ء تک برطانیہ میں مسجدوں کی تعداد گرجا گھروں سے بھی تجاوز کر جائے گی اور اس طرح اسلام برطانیہ کا نمایاں مذہب بن جائے گا۔ مذکورہ تحقیق کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ1997ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں صرف ایک پاکستانی نژاد مسلمان ممبر چوہدری محمد سرور تھے جنہوں نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا تھا لیکن 1997ء کے بعد ہونے والے ہر الیکشن میں مسلمان ممبر پارلیمنٹ کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کی تعداد بڑھ کر اب 9 تک جاپہنچی ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب برطانوی پارلیمنٹ میں مسلمان پارلیمنٹرین اکثریت میں ہوں گے۔
یورپ کے ایک اور اہم ملک بلجیم میں آبادی کا 25 فیصد مسلمان اور پیدا ہونے والے بچوں میں 50 فیصد مسلمان ہیں جبکہ جرمن حکومت نے پہلی بار اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ جرمنی میں مقامی آبادی کی گرتی ہوئی شرح پیدائش اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرح پیدائش کو روکنا ممکن نہیں لیکن اگر صورتحال یہی رہی تو 2050ء تک جرمنی مسلم اکثریتی ملک بن جائے گا۔ شاید انہی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’’یورپ کو فتح کرنے کیلئے مسلمانوں کو کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں کیونکہ یورپ کے 50 ملین سے زائد مسلمان صرف چند دہائیوں میں یورپ کو اسلامی خطے میں تبدیل کر سکتے ہیں اور اس طرح وہ دن دور نہیں جب مسلمان کسی جنگ و جدل کے بغیر یورپ میں اسلامی پرچم لہرائیں گے۔‘‘ معمر قذافی کے مذکورہ دعوے کا یورپی ممالک نے سخت برا منایا اور بعد میں معمر قذافی کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔

ایک تحقیق کے مطابق کسی قوم اور اس کے کلچر کو برقرار رکھنے کیلئے اُس قوم کا شرح پیدائش کم از کم 2.11 فیصد ہونا ضروری ہے لیکن ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ قوم 25 سال میں ہی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی معاشرہ 1.9 فیصد شرح پیدائش پر قائم نہیں رہ سکتا جبکہ 1.3 فیصد شرح پیدائش پر کسی بھی معاشرے کا وجود ناممکنات میں سے ہے۔ 

دنیا میں ایسا کوئی معاشی ماڈل نہیں جس کی معیشت 1.3 فیصد شرح پیدائش پر برقرار رہی ہو جس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ اگر کسی شادی شدہ دو جوڑے کے ہاں ایک ایک اولاد ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ نسل 4 کے بجائے 2 افراد پر مشتمل ہوگی جن کی ایک اولاد ہوگی، اس طرح 4 افراد کے خاندان کا صرف ایک پوتا یا پوتی ہو گی اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو آبادی میں مسلسل کمی ہوتی رہے گی جس کے نتیجے میں معاشرہ سکڑتا چلا جائے گا۔ اس وقت فرانس کا موجودہ شرح پیدائش 1.8 فیصد، انگلینڈ کا 1.6، یونان کا 1.3، جرمنی کا 1.3، اٹلی کا 1.2 اور اسپین کا 1.1 فیصد ہے، اس طرح یورپی یونین کے 31 ممبر ممالک کا اوسطاً شرح پیدائش 1.38 فیصد بنتا ہے لیکن اگر یورپ کی شرح پیدائش 1.38 فیصد پر برقرار رہے تو مستقبل میں یورپی معاشرے کا وجود ناممکن ہو جائے مگر یورپ کی گرتی ہوئی شرح پیدائش کو مختلف ممالک سے آکر یورپی ممالک میں رہائش اختیار کرنے والے مسلمانوں نے کافی حد تک سہارا دیا ہے جسے عام لفظوں میں ’’اسلامک امیگریشن‘‘کہا جاتا ہے۔

یورپ میں مقامی آبادی کا تناسب کم ہونے کی وجہ مقامی لوگوں کا شادی نہ کرنا، ہم جنس سے شادی کا بڑھتا ہوا رجحان اور بچوں کی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050ء تک یورپ کے کئی ممالک میں 60 سال سے زائد عمر کے مقامی افراد مجموعی آبادی کا 75 فیصد تک ہو جائیں گے، اس طرح بچوں اور نوجوان نسل کا تناسب کم ہو کر صرف 25 فیصد رہ جائے گا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوجائیگا جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہوگی۔ یورپ کے علاوہ کینیڈا کا شرح پیدائش بھی 1.6 فیصد ہے جو معاشرے کو برقرار رکھنے کی سطح سے 4 پوائنٹ کم ہے، اس لئے معاشرے کو برقرار رکھنے کیلئے کینیڈا کی شرح پیدائش 2.11 ہونا ضروری ہے۔

مذہب اسلام کینیڈا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2001ء سے 2006ء تک کینیڈا کی آبادی میں 1.6 ملین افراد کا اضافہ ہوا جن میں سے 1.2 ملین افراد مسلمان ہیں۔ اسی طرح امریکہ جس کی موجودہ شرح پیدائش 1.6 فیصد ہے، میں 1970ء تک صرف ایک لاکھ مسلمان آباد تھے مگر آج امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ آئندہ 30 سالوں میں مسلمانوں کی تعداد 5 کروڑتک جا پہنچے گی۔

 دنیا میں آبادی اور مذاہب پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے پیو   نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد دنیا کی مجموعی آبادی کا 23.5 (ایک ارب 60 کروڑ) تک پہنچ چکی ہے اور اگر مسلمانوں کی آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو 2030ء تک مسلمانوں کی تعداد 26 فیصد اضافے سے 2 ارب 20 کروڑ تک جاپہنچے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان انڈونیشیا میں آباد ہیں مگر آئندہ 20 سالوں میں یہ اعزاز پاکستان کو حاصل ہو جائیگا جبکہ بھارت مسلم آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن جائے گا۔

قارئین! 9/11 کے بعد امریکی صدر بش کا یہ جملہ کہ ’’9/11 دنیا کی تاریخ بدل دے گا‘‘ آج درست ثابت ہو رہا ہے کیونکہ 9/11 کے بعد اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے جبکہ قرآن دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے جس کی ایک وجہ 9/11 کے بعد غیر مسلموں میں یہ تجسس پیدا ہونا ہے کہ اسلام کیسا مذہب ہے کہ جس کے ماننے والے اس پر اپنی جان نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

 غیر مسلموں کا یہی تجسس اُنہیں قرآن پاک کے مطالعے کی طرف لے جارہا ہے جس سے اُنہیں نہ صرف قلبی سکون حاصل ہو رہا ہے بلکہ اسلام کو قریب سے سمجھنے اور جاننے کا موقع بھی مل رہا ہے جبکہ اُن کے ذہنوں سے اسلام کے بارے میں مغربی میڈیا کی پھیلائی گئی غلط فہمیاں بھی دور ہورہی ہیں۔ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث یورپی باشندے گزشتہ ایک دہائی سے اسلام فوبیا کا شکار ہیں جن کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مذہب اسلام، یورپی قدروں کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں ہر ہفتے اسلام مخالف مظاہرے، سوئیڈن میں مساجد اور فرانس میں اسکارف اوڑھے مسلمان خواتین پر حملے روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔

مغرب کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر اسلام کے سونامی کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو یہ مذہب ایک دن پورے مغرب کو اپنے ساتھ بہالے جائے گا، اس لئے مغربی ممالک مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین بنانے سمیت ہر وہ اقدامات کررہے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی پیشرفت روکنے میں مددگار و معاون ثابت ہوسکے۔ مغربی ممالک کی ایک کوشش یہ بھی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو تفرقے کی بنیاد پر باہمی طور پر لڑواکر کمزور کر دیا جائے، اس سلسلے کی ایک کڑی شدت پسند تنظیم داعش ہے لیکن افسوس کہ مسلمان دشمنوں کی چال سمجھنے سے قاصر ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ کاش کہ امت مسلمہ دشمنوں کی چال سمجھتے ہوئے اپنے باہمی اختلافات بھول کر اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر متحد ہوجائے۔

اشتیاق بیگ
 بشکریہ روزنامہ  جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.