Header Ads

Breaking News
recent

لبرل اِزم کس چڑیا کا نام ہے؟

’’پاکستانی قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کی منزل ایک لبرل اور جمہوری پاکستان ہے ‘‘نواز شریف کا یہ چونکا دینے والا بیان سامنے آیا تو مجھے لگا شاید خبر دینے والوں کو کوئی مغالطہ ہوا ہے اور کسی کا بیان نواز شریف سے منسوب کر دیا گیا ہے یا پھر ممکن ہے کسی نے ان کے ہاتھ میں غلط تقریر کا مسودہ پکڑا دیا ہو…کئی دن منتظر رہا کہ کہیں کوئی وضاحتی بیان ہی نہ آجائے مگر تمام تر تنقید اور دبائو کے باوجود نہ صرف یہ کہ بیان واپس نہیں لیا گیا بلکہ گفتار کے بجائے کردار سے بھی یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ لبرل ازم سے متعلق کہی گئی بات کسی جوش خطابت کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔

مثلاً جب سرحد پار کے سیکولر بھارت سے تعصب کی بو آ رہی ہو اور دھرم کی بنیاد پر تقسیم کا عمل ضرب کھا نے کے بعد مسلسل بڑھتا جا رہا ہو، پاکستان کا منتخب وزیر اعظم ہندوئوں کے مذہبی تہوار دیوالی میں شریک ہو، بلاول بھٹو زرداری مِٹھی اور عمران خان نے عمر کوٹ میں ہندوئوں کے ساتھ دیوالی کی تقریبات کو رونق بخشی، سالہا سال مغرب کی تہذیبی یلغار کے آگے بند باندھنے کی ناکام کوشش میں توانائیاں ضائع کرنے والی اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کراچی کی ایک تقریب میں پینٹ کوٹ پہن کر ٹائی لگا کر شریک ہوں، جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ میں پہلی بار دس نشستیں خواتین ارکان کیلئے مخصوص کر دی جائیں، اور میرے گزشتہ کالم ’’اسلام پسندوں کا عشق ممنوع‘‘ کے بعد ایک ذمہ دار شخص ٹیلیفون کر کے بتائے کہ آپ کے جملے کاٹ دار ضرور تھے مگر یہ سوالات جماعت اسلامی کے اندرونی حلقوں میں زیر بحث ہیں اور ان پر غور وفکر کا سلسلہ جاری ہے، تو یہ خوش فہمی پالنے میں کوئی حرج نہیں کہ نقش کہن مٹ رہا ہے، وہ زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں جو اذہان وقلوب کو جکڑے ہوئے تھیں، وہ تعزیریں دم توڑ رہی ہیں جو فکری جمود کا باعث تھیں۔

اس ملک میں برادری اِزم سے کنفیوژن اِزم تک ان گنت ’’اِزم ‘‘ ہیں مگر ان سے کسی کو کوئی پرخاش نہیں، بس لبرل اِزم کا ذکر ہوتے ہی سب بدک جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ناگوار بات کہہ دی گئی ہے، جیسے کوئی گالی دی گئی ہے۔ بعض لوگوں کے دماغ میں یہ پروگرام فیڈ کر دیا گیا ہے کہ لبرل اِزم آوارگی اور بے راہ روی کا دوسرا نام ہے۔ اہل مغرب کی گوشمالی سے فرصت ملے تو مطالعہ کو حرز جاں بنائیں، امریکی شاعر اور مصنف رابرٹ فراسٹ سے پوچھیں لبرل اِزم کس چڑیا کا نام ہے ؟ ’’اس وسیع الذہن شخص کو لبرل کہتے ہیں جو کسی لڑائی میں اپنا رُخ خود متعین کرتا ہے‘‘ امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے 1939ء میں ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، بنیاد پرست اس شخص کی مانند ہے جس کے دونوں پیر فضاء میں معلق ہوں، قدامت پسند کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کی دونوں ٹانگیں تو سلامت ہیں مگر اس نے ان کی مدد سے آگے بڑھنا نہیں سیکھا، ان کے برعکس لبرل شخص وہ ہے جو اپنے دماغ کے ایماء پر اپنے پیر اور اپنے ہاتھ استعمال کرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔

ہسپانوی مصنف اور مفکر نے اپنی شہرہ ء آفاق کتاب میں تو الفاظ کا حق ادا کر دیا۔ لبرل اِزم کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’فیاضی جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو لبرل اِزم کہلاتی ہے۔ اپنے دشمن بالخصوص کمزور دشمن کے ساتھ اشتراکِ وجود کے عزم کا اظہار لبرل اِزم ہے۔‘‘ اگر اب بھی بات سمجھ میں نہیں آئی تو گھر میں دستیاب کوئی بھی ڈکشنری کھول کر دیکھ لیں لبرل کا مفہوم اور معنی کیا ہیں۔ فیاض، سخی، بردبار، روادار، فراخدل، بے تعصب، حریت پسند، غیر قدامت پسند جیسے معانی سے تو کہیں آوارگی اور بے راہ روی کا تاثر نہیں ملتا۔ یہ تو محض ایک سیاسی فلسفہ ہے جس کی بنیاد خود اسلام نے رکھی۔ جب مکہ فتح ہوا، عام معافی کا اعلان کیا گیا ،یہ مژدہ جانفزا سنایا گیا کہ آج تم پر کوئی قدغن نہیں جائو تم سب آزاد ہو، بدترین مگر کمزور اور مفتوح دشمنوں کے ساتھ اشتراک وجود کا عزم ظاہر کیا گیا، یہی تو تھی فیاضی اور دریا دلی کی انتہا۔

اگر آپ کو لبرل اِزم کی اصطلاح سے چڑ ہے تو بیشک اسے کوئی اور نام دے لیں لیکن پر امن بقائے باہمی کا اصول ہی معاشرت کا بنیادی ستون ہے۔ جو لوگ سوچے سمجھے بغیر ثواب کی نیت سے لبر ل اِزم کو گالیاں دیتے رہتے ہیں، وہ لبرل اِزم کی ’’ل‘‘ سے بھی واقف نہیں۔ یہ وہ کنویں کے مینڈک ہیں جو سال بھر گلہ پھاڑ کر کہتے رہتے ہیں کہ لارڈ میکالے کا نظام تعلیم قبول نہیں کریں گے مگر جب پوچھا جائے کہ لارڈ میکالے کا نظام تعلیم ہے کیا تو ہونقوں کی طرح دیکھنے لگتے ہیں۔

 انہیں فرانسیسی مفکر روسو کے معاہدہ عمرانی کا یہ جملہ تو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اسے لبرل کہہ کر دھتکار دیتے ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر اسے ہر جگہ زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ جملہ تو بہت معمولی نوعیت کا ہے، اس سے کہیں زیادہ فصیح و بلیغ بات روسو سے لگ بھگ گیارہ سو سال پہلے حضرت عمر ؓ نے تب کہی جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص ؓ کے بیٹے نے قبطی غلام کو بلاوجہ مارا تو اسے سرعام کوڑے لگوائے اور یہ تاریخی جملہ کہا کہ تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنانا شروع کر دیا جبکہ ان کی مائوں نے تو انہیں آزاد جنا تھا۔

لبرل اِزم کا حقیقی تصور تو بہت مسحور کن اور راحت افزاء ہے مگر جس ملک میں ہر شے ملاوٹ زدہ ہو، ہر چیز میں کھوٹ ہو، جمہوریت اصلی ہو نا آمریت حقیقی ہو ،سوشل ازم سچا ہو نہ اسلام ازم کھرا ہو ،وہاں کے لبرل اِزم پر بھروسہ کیسے کیا جائے؟وہ سیاسی اشرافیہ جس نے جمہوریت کی آڑ میں شخصی آمریت کا دھندہ چلا رکھا ہے، اس پر کیسے اعتبار کیا جائے ؟ ہاں مگر دل میں حسرت ضرور ہے کہ لبرل اِزم کیلئے ریاست مدینہ کا رول ماڈل پسند نہیں اور اس کردار کے حامل انسان دستیاب نہیں تو کینیڈا سے ہی وسیع المشرب معاشرے کا تصور مستعار لے لیا جائے۔

کیسا خوبصورت ملک ہے، جہاں 19سال پہلے افغان پناہ گزین کی حیثیت سے جانے والی بچی مریم منصف آج جمہوری اصلاحات کی وزیر ہے، بھارتی نژاد لیفٹیننٹ کرنل (ر) ہرجیت سنگھ ساجن وزیر دفاع ہیں، بس ڈرائیور کے طور پر کینیڈا جا کر نئی زندگی کا آغاز کرنے والے بھارتی امرجیت سوہی انفراسٹرکچر اور کمیونیٹیز کے وزیر ہیں، نودیپ سنگھ بینس کے پاس ، سائنس اور معاشی ترقی کی وزارت کا قلمدان ہے، بھارت سے آئی خاتون ہردیش چگھڑ اسمال بزنس اور ٹورازم کی وزیر ہیں۔ جسٹن ٹروڈو کی اس نئی کابینہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جتنے مرد وزیر ہیں، اتنی ہی تعداد خاتون وزراء کی ہے۔ مگر کیا کریں ہمارے حکمراں امریکہ یاترا پر تو بہت شوق سے جاتے ہیں مگر کینیڈا میں قدم رکھتے ہوئے شرماتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو وزیراعظم صاحب کبھی آتے جاتے کینیڈا کا چکر ہی لگا آئیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ لبرل اِزم کس چڑیا کا نام ہے۔ 

محمد بلال غوری

بشکریہ روزنامہ'جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.