Header Ads

Breaking News
recent

حج : مشرقِ وسطیٰ کے معاشروں کے لیے اُمید کی ایک کرن....

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج بیت اللہ فرض ہے۔دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پرعظیم اجتماع ہوتا ہے۔وہ اپنے گناہوں کی معافی کے خواست گار اور اللہ کی رحمتوں کے امیدوار ہوتے ہیں۔حج کے تمام مناسک اس بات کے مظہر ہیں کہ ہم اللہ کے سامنے سب برابر ہیں۔امیراورغریب ،سیاہ اور سفید ،آقا اور غلام ،فروتر اور برتر،کمزور اور طاقت ور ،مرد اور عورت ،مشرقی اور مغربی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمیں بردبار اور رحم دل ہونا چاہیے۔ حج کی روح اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی روحوں کو لالچ ،نفرت ،خود غرضی ،احساس برتری اور نسل پرستی پر مبنی منفی رویوں سے پاک کریں کیونکہ یہی وہ رویے ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے اور انھیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء کردیتے ہیں۔

حج ایک فرد کی روح کی بالیدگی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔یہ لوگوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی سے ناتا توڑ کر ایک بہتر،اچھائی اور راست بازی والی زندگی گزارنے کا عزم کریں۔عازمین ایک نئی زندگی آغاز کرنے کے لیے حج پر آتے ہیں۔وہ اپنے ان گناہوں کو دھونا چاہتے ہیں جن کی بدولت ایک آدمی دوسرے آدمی کے مد مقابل آ کھڑا ہوتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے آخری خطبے میں مسلمانوں کو یہ یاد دلایا تھا کہ انھیں ایک روز اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور انھیں اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔انھوں نے فرزندان توحید کو خبردار کیا تھا کہ ''میرے جانے کے بعد ہدایت کے راستے سے گم راہ نہ ہوجانا''۔
رحم دلی کی یرغمال روح

بدقسمتی سے بہت مسلمان آج نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلمر کی باتوں پر کان نہیں دھرتے ہیں۔بہت سے گم راہ ہوچکے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کے ظالمانہ ہتھکنڈوں اور لالچ نے انھیں کسی بھی طرح کی ہمدردی سے دور کردیا ہے۔ مذہب کی روح رحم دلی اور ہمدردی کے جذبات واحساسات کو جنگ پسندی کے نظریے نے یرغمال بنا لیا ہے اور اس نے نیم خواندہ لوگوں پر اثرانداز ہونے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ہلاکتوں اور تباہی نے روحوں کو پامال کردیا ہے۔مسلم دنیا بدعنوانیوں سے آلودہ ہوچکی ہے اور خودغرض لیڈر اقتدار پر قابض رہنے کے لیے دہشت گردی کی منحوس مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس تمام عمل کے دوران مختلف فرقوں اور نظریات سے تعلق رکھنے والے مسلم اسکالرز تابع مہمل بنے ہوئے ہیں۔وہ اپنے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے متردد ہیں۔وہ ایک فرقہ وارانہ جنگ کے لیے ایندھن مہیا کررہے ہیں جس نے مسلمانوں،عیسائیوں سمیت بنی نوع انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،ان کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،تباہی وبربادی ہوئی ہے اور بہت سے بے یارومددگار لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔متحارب دھڑوں نے اسلامی رواداری کے حقیقی پیغام کو بالکل فراموش کردیا ہے۔

دراصل اس طرح کی خوف ناک جنگوں میں کوئی بھی فاتح نہیں ہوتا بلکہ ان میں تو تباہی وبربادی ہی ہوتی ہے۔مسلم دنیا غیر روادار اور کٹڑ قدامت پسندوں کے درمیان دو پاٹوں میں پس رہی ہے۔یہ بہت ہی تکلیف دہ امر ہے کہ آج کی دنیا میں مسلمان تنازعات کا شکار ہیں اور وہ موجودہ تنوع کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔وہ ہر اس شخص کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو ان کے مسخ شدہ نظریات کو ماننے کو آمادہ نہیں ہے۔

کچھ کر گزرنے کا وقت

مسلم دنیا میں ایسی بہت سی آوازیں موجود ہیں جو دہشت گردی کے نظریے کی مذمت کرتی ہیں اور اعتدال پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔تاہم ابھی بہت سے لوگ موجود ہیں جو دنیا کو مسلم اور غیرمسلم کے خانوں میں بانٹتے ہیں اور اسلام میں دوسرے فرقوں کو مسترد کرتے ہیں۔

بہت سے مسلمان آج خود کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے لیے محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں۔انھیں بے رحم انتہا پسندوں کی دھمکیوں کا سامنا ہے جو خود کو تو مسلمان کہلواتے ہیں لیکن اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ اللہ ہی اس زمین پر کسی فرد کا حقیقی منصف ہے۔
کسی کو بھی ان کے مسخ شدہ نظریے کی اندھی تقلید پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔اسلام میں اگر کوئی شخص اللہ کے ایک ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر یقین رکھتا ہے تو کسی بھی دوسرے شخص کو اس کے عقیدے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔یہ بھی ایک گناہ عظیم ہے کہ قرآن مجید کی انتہا پسندانہ تفسیر وتشریح کی جائے۔

اسلام میں جبر نہیں ہے۔تمام دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلم اسکالروں کو اکٹھے مل بیٹھنا چاہیے اور یہ اعلان کرنا چاہیے کہ مسلمان دوسرے مذاہب اور فرقوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ بہت سے مسلمان مسخ شدہ نظریات سے آلودہ ہوچکے ہیں۔انھیں رہ نمائی کی ضرورت ہے تاکہ انھیں ایک پُرامن دنیا میں رہنے کا موقع مل سکے۔

تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو خاموش نہیں بیٹھ رہنا چاہیے اور جنونیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ دنیا کے بہت سے حصوں میں اپنا اثرورسوخ حاصل کرسکیں اور برے نظریات کو پھیلائیں۔

مسلم ممالک کو آگے لے جانے اور درپیش نظریاتی بحران کو حل کرنے کے لیے ہمیں تمام کوششیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔اسی بحران نے شام ،عراق یمن اور لیبیا کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔وہاں بچے مررہے ہیں،خاندانوں کے خاندان بے گھر ہوگئے۔خواتین کو باندیاں بنا لیا گیا ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں کو آلودہ کردیا گیا ہے۔

اب کچھ کر گزرنے کا وقت آگیا ہے۔قبل اس کے کہ دہشت گرد تنازعات کو مزید پھیلانے میں کامیاب ہوں اور باقی عرب اور مسلم دنیا کو بھی تباہ کردیں۔آئیے ہم امید کرتے ہیں کہ اس سال حج کی روح سے مسلم کمیونٹیوں کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی تاکہ وہ تشدد کو مسترد کرسکیں اور اپنے ہاں رواداری اور امن کو فروغ دیں۔آئیے یہ بھی دعا کریں کہ مسلم قائدین اپنے عقیدے کے حقیقی اصولوں کی پیروی کریں گے اور جنگوں اور تنازعات کا خاتمہ کریں گے کہ جن کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان مصائب ومشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اس سال کے حج سے عالمی بھائی چارے کی روح کے احیاء میں مدد ملے۔

ثمر فتانی

(ثمر فتانی جدہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے شعبہ انگریزی میں چیف براڈ کاسٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔وہ نشریاتی صحافت سے گذشتہ اٹھائیس سالہ سے وابستہ ہیں

No comments:

Powered by Blogger.