Header Ads

Breaking News
recent

بے لگام اینکر کریسی

بیوروکریٹ بننا ہر نوجوان لڑکے لڑکی کا خواب ہے۔ اسی طرح بڑی عمر کے افراد کی حسرت ہوتی ہے کہ کاش انہیں مقابلے کے امتحان (سی ایس ایس) میں حصہ لینے اور کامیاب ہونے کا موقع ملا ہوتا۔ ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ اور پولیس سروس آف ہاکستان کے ساتھ فارس افیئرز، کسٹمز، آفس مینیجمنٹ گروپ اور پوسٹل سروس وغیرہ سمیت تمام شعبے بے انتہا کشش رکھتے ہیں۔ بہت زیادہ دولت کمانے والے افراد میں سے اکثر اس احساس کمتری کا شکار ہیں کہ انہیں سی ایس پی بننے کا موقع نہیں ملا۔ 

یوں تو بیوروکریسی کو ‘‘براکریسی’’ کہنے والوں کی کمی نہیں ، مگر اندر سے سب کے دل مچلتے ہیں کہ کاش وہ اس گروپ کا حصہ ہوتے جو پورے ملک پر حکومت کر رہا ہے۔ کسی بھی فرد کے بااثر ہونے کا بیرومیٹر یہ ہے کہ اس کے کتنے بیوروکریٹس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیںْ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ بیوروکریٹس کا ذکر آتے ہی عوام تو عوام خواص پر بھی دبدبہ طاری ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے پر آسائش دفتر، گاڑیوں کے قافلے کی شکل میں نقل و حرکت کرنے کے مناظر اور بے پناہ اختیارات کا تصور ذہنوں میں جگمگانے لگتا ہے۔
یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ بیوروکریٹ بننا کسی طور آسان نہیں، تعلیم کے ساتھ بے پناہ ذہانت اور محنت کے تال میل سے ہی قسمت چمکائی جا سکتی ہے۔

 بیوروکریٹ اور جینوئن دادنشور اوریا مقبول جان سے پچھلے دنوں لفظی جنگ میں الجھنے والے کالم نویس اور اینکر نے دعوی کیا ہے کہ اسے 1992ء میں سی ایس ایس کرنے کا موقع ملا تھا، لیکن اس نے صحافت کو ترجیح دی۔ یہ بات سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، انتہائی سطحی مطالعہ رکھنے والا یہ صحافی 1992ء کے بعد بھی کئی سال تک معمولی نوعیت کی ملازمتیں کرنے پر مجبور تھا۔ زیادہ ڈائجسٹ وغیرہ پڑھنے کے باعث سنسنی خیز کہانی کے انداز میں کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تو لاٹری نکل آئی۔ اسی سٹائل کی بنیاد پر اینکرکریسی میں گھسنے کا موقع مل گیا، جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ہر مقبول لکھاری یا فنکار کا معیاری ہونا ضروری نہیں۔

 رضا کارانہ طور پر سی ایس ایس چھوڑنے کا دعوی کرنے والے اس کالم نویس کو آج 2015ء میں بھی ایسا موقع دیا جائے تو پھر بھی کامیابی کے نزدیک نہیں پھٹک سکتا۔ عروج وزوال کا آفاقی فارمولا ہر شے پر لاگو ہوتا ہے۔ بیوروکریسی کو ابھی زوال تو نہیں آیا، مگر ایک شعبہ ایسا ضرور ہے جس کےس امنے اس کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ بیوروکریسی ہی کیا دیگر تمام اہم طبقات کی حیثیت بھی گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگئی ہے۔ ٹی وی پر ٹاک شو کرنے والے اینکر صاحبان پر مشتمل اس نئے کیڈر کو اینکر کریسی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اینکر کریسی اس شدت سے پوری پاکستان پر حاوی ہوگئی ہے کہ اسکے سامنے ہر کوئی خود کو ادنی اور معمولی شے محسوس کرتا ہے۔

 آن بان شان سے سداقتدار میں رہنے والی بیوروکریسی تو اینکرکریسی سے آنکھ ملانے کی ہمت بھی نہیں کرتی۔ حکمران شخصیات اور طاقتور ریاستی اداروں کے حکام کود موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ اینکر کریسی کو کس طرح رام کیا جائے۔ اگرچہ اینکر خواتین و حضرات میں کئی پیشہ ور اور اعلی تعلیم یافتہ صحافی بھی موجود ہیں، مگر گھس بیٹھیوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

یہ تاثر بھی عام ہے کہ بیوروکریسی کے برعکس اینکر کریسی میں شمولیت کے لئے زیادہ تعلیم چاہیے نہ تربیت۔ بس سخت زبان میں تندوتیز سوالات پوچھنے کا ہنر آنا چاہیے۔ یہ سوالات تیار کرنا بھی اینکروں کا درد سرنہیں ہوتا، بلکہ یہ بھاری پتھر ریسرچرز، پروڈوسرز وغیرہ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لکھے لکھائے جامع سوالات تیار کر کے اینکروں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ ہر اینکر اپنے اپنے سٹائل سے حاکمانہ انداز میں سوالات کے ذریعے مہمانوں کی براہ راست عزت افزائی کرتا ہے۔ اس کام میں مرد اینکروں کے ساتھ ساتھ دلکش خواتین اینکرز بھی کسی طور پر پیچھے نہیں۔ 

پروگرام کے شرکاء کو آپس میں لڑانا ایک میرٹ سمجھا جاتا ہے۔ بسا اوقات غیر صحافی اینکر اپنے لاامتناہی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بعض ایسے سوالات بھی پوچھ لیتے ہیں جنکا سر ہوتا ہے نہ پیر۔ شرکاء خود حیران رہ جاتے ہیں، مگر آداب محفل کو مقدم جانتے ہوئے چپ رہنا ہی بہتر خیال کرتے ہیں۔ یہ ماننا ہوگا کہ ایسی تمام حرکات کے باوجود اینکروں کا پلہ ہی بھاری رہتا ہے۔ ملک کے خرانٹ سیاستدان، غریبوں کو خون چوسنے والے سرمایہ کار، مزارعوں کا استحصال کرنے والے جاگیردار، عوام کو رگڑا لگانے والے بڑے بڑے افسران بھی اینکر کریسی کے روبرو اپنا لب ولہجہ بدلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں گویا
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

اینکر خواتین و حضرات کے بارے میں وہ خود اور پاکستان کے سادہ لوح عوام کچھ ایسا تاثر رکھتے ہیں کہ وہ ایٹمی معاملات میں ڈاکٹر قدیر سے زیادہ علم رکھتے ہیں، کرکٹ کے کھیل کو وسیم اکرم سے زیادہ سمجھتے ہیں،معاشی امور پر ڈاکٹر حبوب الحق مرحوم کو مات دے چکے، قانون ایس ایم ظفر سے بھی زیادہ آتا ہے، دینی علوم پر مفتی اعظم سے بڑھ کر دسترس ہے ، شعبہ طب میں مقام حکیم لقمان سے اوپر ہے ،خارجہ امور میں آغا شاہی کی یاد بھلا ڈالی، دفاع اور داخلہ کے علوم گھول کر پی رکھے ہیں اور ہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایمانداری اور اعلی اخلاق کا مجسم نمونہ ہیں۔

جہاں نامور پیشہ ور صحافی، اینکر بن کر ملک کی حقیقی صورتحال عوام کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں پیراشوٹ کے ذریعے کودنے والے اینکرز فرمائشی پروگرام کرنے کے مواقع ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اٹک اٹک کر اردو اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولنے والے ایسے پیراشوٹر اینکرز مقام میں مگر کسی سے کم نہیں۔ مزاج شاہی رکھنے والی حکمران اشرافیہ اور انکی آل اولاد بھی اینکروں سے تعلقات کو سٹیٹس سمبل کا درجہ دیتے ہیں۔ مانا کہ موجودہ دور اینکرکریسی کا ہے۔ عام صحافی کے مسائل کچھ اور ہیں، لیکن یہ بات ہر ایک کو یاد رکھنا ہوگی کی صحافت کے نام پر کی جانے والی غیر ذمہ دارانہ اینکر کریسی آزادی صحافت کو ہی نہیں ملکی استحکام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ آزادی صحافت کا مطلب ہر چیز سے آزاد ہو جانا ہر گز نہیں۔

ہمارے ہاں پچھلے ھ سال سے عجیب و غریب واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کوئی اٹھتا ہے اور فوج کو تضحیک کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی عدالتوں کے درپے ہے۔ پارلیمنٹ کو برا بھلا کہنا تو فیشن بن چکا ہے، بغیر تیاری کے حساس موضوعات پر بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔ افراد کی آڑ لے کر اداروں کو نشانہ بنانے کا عمل معمولی بنتا جا رہا ہے۔ مخصوص مفادات کے تحت دوست ممالک پر کیچڑ اچھالنے سے گریز نہیں کیا جاتا، دینی معاملات کے حوالے سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، یہ سچ ہے کہ میڈیا کا بڑا حصہ سول حکومت کے کنٹرول سے نکل چکا۔

 دھرنوں کے دوران پوری قوم کو اس تلخ حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا، کہیں ٹاک شوز کے موضوعات معاشرے میں انتشار پھیلانے کی سوچی سمجھی سازش نظر آتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کو جھٹلانے اور قومی مشاہیر کی تذلیل کے طے شدہ پروگرام کس کے اشارے پر ہو رہے ہیں؟ مفکر پاکستان عالمہ محمد اقبال کے بارے میں ایسا ہی ٹاک شو ایک اداکار کے اینکر بیٹے نے پیش کیا جس میں پی کر باں باں کرنے والے خودساختہ دانشور اور ایک نامعلوم ادبی نقاد نے حکیم الامت کو اس طرح رگیدا کہ دیکھنے والے غمزدہ اور حیران رہ گئے۔

کہیں ٹاک شوز کے موضوعات معاشرے میں انتشار پھیلانے کی سوچی سمجھی سازش نظر آتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کو جھٹلانے اور قومی مشاہیر کی تذلیل کے طے شدہ پروگرام کس کے اشارے پر ہو رہے ہیں؟ مفکر پاکستان عالمہ محمد اقبال کے بارے میں ایسا ہی ٹاک شو ایک اداکار کے اینکر بیٹے نے پیش کیا جس میں پی کر باں باں کرنے والے خودساختہ دانشور اور ایک نامعلوم ادبی نقاد نے حکیم الامت کو اس طرح رگیدا کہ دیکھنے والے غمزدہ اور حیران رہ گئے۔

غیر صحافی اینکروں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ نادیدہ قوتوں کے نمائندے ہیں، ویسے وہ خود بھی نجی محفلوں میں بڑے فخر سے اپنے آپ کو اسٹیبلشمنٹ کے کارندے قرار دیتے ہیں، لائیو شوز کے دوران انکے ہاتھوں میں موجود کاغذات کے پلندے کون فراہم کرتا ہے جو شواہد نہیں محض الزامات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایسے اینکروں کے ساتھ بعض جعلی ماہرین نجی ٹی وی چینلز کے مستقل مہمان بننے لگے ہیں ۔ مشرف کے بدنام زمانہ ریفرنڈم 2002ء کے دھاندلی سے لبریز عام انتخابات کرانے میں جسٹس ارشاد حسن خان کے نفس ناطقہ کنور دلشان کس منہ سے شفاف الیکشن اور انتخابی اصلاحات کی بات کرتے ہیں، ترقی نہ ملنے پر ملازمت سے فارغ ہونے والے ایئر مارشل شاہد لطیف جیسے سراپا مایوس شخص کی زبان سے اچھی ، بلکہ معقول بات کی توقع عبث ہے۔ کنور دلشاد اور شاہد لطیف محض دو دانے ہیں ورنہ پوری دیگ ہی ایسے دانوں سے بھری ہوئی ہے۔

مزید برآں ایسے ٹاک شوز جن میں مہمان بھی اینکر خواتین و حضرات ہی ہوں دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ستاروں کا زمین پر ہے ملن کے منظر کی عکاسی کرتے ہوئے ہر کوئی گویا دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں اور مستند ہے میرا فرمایا ہوا کی عملی تفسیر بنا بیٹھا ہوتا ہے۔ ایسی محفلیں دیکھ کر حقیقی صحافیوں کو ہرگز کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اندیشے ضرور سر اٹھاتے ہیں کہ حدود کا تعین نہ کیا گیا تو وقت آنے پر کہیں گیہوں کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ حکومت اس حوالے سے کچھ زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

 میڈیا اپنے بیرونی اور اندرونی سر پرستوں کی وجہ سے وہ دیو بن چکا ہے کہ جب چاہے ملکی مفاد کے کسی بھی معاملے کو بدترین تنازع میں تبدیل کر سکتا ہے، یہ سلسلہ اسی انداز میں چلتا رہا تو خطرہ ہے کہ سب کچھ الٹ پلٹ ہو جائے گا، اگر کسی کا سینہ یہ سوچ کر اطمینان سے بھر جاتا ہے کہ آج کا میڈیا صرف حکومت کے لئے خطرہ ہے تو اسے خواب غفلت سے بیدار ہو جانا چاہیے ایسا سوچنا جان لیوا غلط فہمی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ انتہا پسند گروپوں کی طرح یہ بکھیڑا بھی بالآخر ریاست کے گلے ہی پڑے گا کیوں نہ آُریشن کی نوبت آنے سے پہلے ہی کوئی معقول راستہ تلاش کر لیا جائے۔

نوید چودھری
"بہ شکریہ روزنامہ ‘‘پاکستان

No comments:

Powered by Blogger.