Header Ads

Breaking News
recent

بڑے بول کا بڑا نتیجہ

آپ اسے پاکستانی صحافت کا نائن الیون کہہ لیں کہ میڈیا کا بی سی سی آئی سکینڈل۔لیکن جو صحافت اربوں روپے کے بینک قرضے معاف کرانے والوں، کوآپریٹو سوسائٹیز سکینڈل میں ہزاروں لوگوں کی جمع پونجی ڈبونے والوں، انویسٹمنٹ کمپنیوں کے ہاتھوں اپنی ماؤں کی چوڑیاں اور بیٹیوں کا جہیز لٹوانے والوں، ڈبل شاہوں کے ہاتھوں پندرہ دن میں رقم دوگنی کرانے کی اندھی لالچ اور بلاسود اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر چند دنیا پرست قاریوں اور مفتیوں کی جعلساز مضاربہ کمپنیوں کو برداشت کرگئی وہ ایگزیکٹ سکینڈل بھی لسی سمجھ کے پی جاتی اگر اس کے ساتھ بول ٹی وی پروجیکٹ نتھی نہ ہوتا۔

ہاں کمزور قوانین اور کمزور قوتِ نافذہ کی حامل کمزور ریاست میں وہی ہوا جو ہونا چاہیے۔ پر جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ تمام تر مشکوک پس منظر کے باوجود اگر بول چینل چھ ماہ پہلے ہی میدان میں اتار دیا جاتا تو اس وقت سکرین پر ویسی ہی جنگ عظیم دوئم چھڑی ہوتی جیسی کتا خصی جیو بمقابلہ دیگر چینل ہوچکی ہے۔ اور پیمرا و وزارتِ اطلاعات سمیت ہر کوئی حسبِ معمول غلیظ چھینٹوں سے کپڑے بچا رہا ہوتا۔

بھلا کوئی کیوں چاہے گا کہ اشتہارات، شہرت اور اثرو نفوز کے دہشت ناک خبری کیک کو ادھیڑنے والوں میں ایک اور گدھ کا اضافہ ہوجائے۔ لہذا اس گندی جنگ میں اگر کوئی صحافتی آدرشوں اصولوں کی بات کرتا ہے تو اسے پہلی فرصت میں کسی اچھے سے ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔

بول نے ابتدا ہی سے بڑا بول بول کے اپنے مس کیرج کی بنیاد رکھ دی تھی۔ لگ بھگ تین برس پہلے اس کا پہلا اشتہار آیا تو اس میں لکھا تھا پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ۔ مگر اس نے کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ بھائی کیوں، کب، کیسے؟ اس نے صحافت میں کوئی نیا، شائستہ، حقیقی، جرات مند یا شفاف صحت مند تبدیلی لانے کا اشارہ نہیں دیا بلکہ سوئمنگ پول، فائیو سٹار کینٹین، منرل واٹر، بھاری تنخواہ، گھر، چمکدار گاڑی، باوردی شوفر اور مالی وغیرہ بیچا اور پھر ہر شام درجن بھر جھلملاتی گردشی نشر گاہوں (ڈی ایس این جیز) کو چند بڑے شہروں کی اہم شاہراہوں پر ایک قطار میں گشتوا کے شریکوں کے سینے پر سانپ لوٹائے۔اسے کہتے ہیں آ بیل مجھے مار۔

اپنے تئیں پاکستان کا یہ سب سے بڑا میڈیا گروپ کیسی صحافت متعارف کروانا چاہتا تھا۔اس بارے میں بس اتنی سی بات کی گئی کہ وہ دنیا کے سامنے پاکستان کا مثبت امیج پیش کرنا چاہتا ہے ۔مگر کیسا مثبت امیج ؟ ایگزیکٹ والا؟
اور کیا مثبت امیج پیش کرنے کے لیے پی ٹی وی اور وزارتِ خارجہ کم پڑ گئے ہیں؟

گریجویشن کے بعد جب میں نے بی سی سی آئی کے ہومین ریسورس ڈپارٹمنٹ میں آنے والی ایک ملازمت کے لیے درخواست دینا چاہی تو میرے والد نے کہا شوق سے درخواست دو مگر یہ دیکھ لو کہ اگر مارکیٹ میں کسی کام کا معاوضہ سو روپے مل رہا ہے اور کوئی تم سے وہی کام ہزار روپے میں کروانا چاہ رہا ہے تو کہیں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔

اپنی زندگی بہتر بنانا ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ بول میں میرے جو دوست گئے وہ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہی گئے تھے۔لہذا اس فیصلے کو کسی آئڈیل ازم میں لپیٹ کر نہ پیش کیا جائے۔
ہاں مگر ٹائٹینک سے اترنے والا آخری شخص کپتان تھا۔اس نے آخری وقت تک ان مسافروں کو بچانے کی کوشش کی جنھیں کمپنی نے یہ کہہ کر ٹکٹ بیچا تھا کہ ٹائٹینک دنیا کا سب سے محفوظ لگژری جہاز ہے۔

مگر بول کے لگژری لائنر سے سب سے پہلی چھلانگ کپتان اور اس کے عملے نے لگائی۔اب وہ سینکڑوں مسافر کیا کریں کہ جنھیں سبز باغ تک پہنچانے کا وعدہ کیا گیا مگر آنکھ کھلی تو وہ شداد کی جنت میں تھے۔

ہاں اب میڈیا مالکان واپسی کا سفر اختیار کرنے والوں کی اکثریت کو ملازمت ضرور دیں گے مگر اپنی شرائط پر۔ بول کا مس کیرج کسی کے لیے بھی اچھی خبر نہیں سوائے محنت کے خون پر پلنے والے گدھوں کے۔

مگر اب اتنی سی بنتی ضرور ہے کہ انویسٹی گیٹو جرنلزم کے سپیشلسٹ اپنے کانوں، ناک اور آنکھ پر اندھا یقین کر کے طرم خانی بگھارنے کے بجائے ای این ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع کریں اور پھر کسی اچھی سی اصلی والی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بہتر بنائیں اور پھر ریاست کے چوتھے ستون (صحافت) کو کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔
اگر کر سکیں تو۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.