Header Ads

Breaking News
recent

سب سے زیادہ بدنصیب مگر خوفناک ترین دشمن...

بغیر ہوا باز کے اڑائے جانے والے حملہ آور طیارے(ڈرون ) کی تکنیک کو تقریباً فول پروف قرار دینے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کے پیچھے کار فرما جاسوس کا عمل بھی بہت حد تک فول پروف ہوتا ہے جس کے ذریعے ڈرون حملے کے مطلوبہ مقام پر کوئی ڈیوائس رکھ دی جاتی ہے جس سے ڈرون حملہ تقریباً’’تیر بہدف‘‘ ہوجاتا ہے مگر اس سال جنوری میں پاکستان میں قبائلی علاقہ کے سرحدی مقام پر ’’القاعدہ‘‘ کے مبینہ احاطے پر امریکی ڈرون حملے میں ہونے والے کولیٹرل نقصان نے مذکورہ بالا دعوے یا مفروضے کو غلط ثابت کر دیا۔

اس حملے میں تباہ کئے جانے والے احاطے میں دہشت گردوں کے اغوا ءکردہ دو امریکی رابرن دین سٹین اور لوپورتھ رکھا گیا تھا جو اس احاطہ کی تباہی کے ساتھ مارے گئے۔ اس حادثے پر پاکستان نے شدید صدمے کا اظہار کیا اور حکومت نے پاکستانی عوام کی طرف سے مقتولین کے ملک اور عوام سے گہری ہمدردی ظاہر کی اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان ایک طویل عرصہ سے ایسی کارروائیوں کے ذریعے ہونے والے خوفناک کولیٹرل نقصانات پر احتجاج کرتا چلا آرہا ہے۔ماضی میں بھی ایسے ڈرون حملوں پر پاکستان نے متعدد بیانات میں بتایا ہے کہ بے گناہ عام شہریوں کی ہلاکتوں نے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ایسی صورتحال کو بھی جنم دیا ہے کہ جس میں ایسے حملے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے کی بجائے منفی اثرات کے ذمہ دار ثابت ہورہے ہیں۔
چند روز قبل امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اس حادثے کو تسلیم کیا ہے اور معذرت طلب کی ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے احاطے میں محبوس دو مغوی بے گناہ انسان بھی مارے گئے ہیں۔ معذرت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن حکام نے اس حملے کا اہتمام کیا ہے انہوں نے پوری ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ،ان کی خبر گیری ناقص اور نامکمل تھی۔ واقعی سوچا جاسکتا ہے کہ جن حکام یا جاسوسی کے عمل نے القاعدہ کے اس احاطے میں دہشت گردوں کی موجودگی کا علم حاصل کیا ان کی سراغ رسانی اس حقیقت تک کیوں نہ پہنچ سکی کہ اس احاطے میں اغوا ہونے والے لوگوں کو بھی رکھا گیا ہے مگر سوچا تو اور بھی بہت کچھ جاسکتا ہے اور سال 2009ء میں اس وقت کی انٹر نیشنل سیکورٹی فورس کے کمانڈر جنرل سٹینلے نے بھی سوچا تھا اور بالکل صحیح سوچا تھا کہ’’عام شہریوں اور بے گناہ، بے تعلق سول آبادی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہلاکتوں سے پیدا ہونے والے حالات سب سے زیادہ خوفناک دشمن ہوتے ہیںجن کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے‘‘۔
یہی بات دیگر ماہرین جنگ نے بھی مختلف موقعوں پر دوہرائی ہے مگر اس صداقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہوگا کہ جنگ لڑنے والے ممالک اپنے مارے جانے والے سپاہیوں کی لاشیں تو گن لیتے ہیں مگر’’دیگر‘‘ مرنے والوں کو شمار نہیں کرتے۔ دیگر مرنے یا مارے جانے والوں کو شمار کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے۔ یہ’’دیگر‘‘ گزشتہ دہائی کے دوران عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگوں میں افغانستان، عراق اور پاکستان میں مارے جانے والے فوجی اور شہری آبادی سے تعلق رکھنے والے بے گناہ لوگ ہیں۔افغانستان کے صوبہ تندوق پر جرمن فضائی حملے میں بتایا گیا کہ 56 طالبان مارے گئے ہیں لیکن جنگ کے بعد کی باقاعدہ تحقیق سے پتہ چلا کہ حملے میں طالبان کے علاوہ مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد ایک سو تھی۔ بعض اوقات شبہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی زندگیاں قیمتی ہوتی ہیں اور بعض لوگوں کی زندگیاں بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔

عراق میں 2003ء سے 2012ء تک مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد کا اندازہ بیس لاکھ کے برابر ہے جو عراق کی مجموعی آبادی کا پانچ فیصد ہوتا ہے۔ افغانستان میں ایسے بدنصیبوں کی تعداد دو لاکھ بیس ہزار اور پاکستان میں مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد 80 ہزار بتائی جاتی ہےمگر یہ تعداد محض انداز ہ ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد اس’’محتاط اندازے‘‘ سے دس گنا زیادہ اور تیرہ لاکھ کے قریب ہے اور اوپر بیان کئے گئے تین ملکوں میں بے گناہ شہریوں میں سے مارے جانے والوں کی تعداد بیس لاکھ کو بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ یہ وہ بے گناہ اور بے قصور لوگ ہیں کہ جن کے خون نے مٹی کو سیراب کیا ہے مگر کسی شمار یا گنتی میں نہیں آئے اور کسی کو ان کی بے گناہی کی موت کا افسوس کرنے یا معذرت طلب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ان سے زیادہ بدنصیب اور کون ہوسکتا ہے لیکن بے گناہی کی موت مرنے والے یہ بدنصیب لوگ مرنے کے بعد اپنے قاتلوں کے خوفناک ترین دشمن بھی بن سکتے ہیں۔

منو بھائی
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.