Header Ads

Breaking News
recent

افواج پاکستان اور سیا ست....

پہلا موقع آصف علی زرداری صاحب کو ملا تھا جو انہوں نے ضائع کردیا اور اب لگتا ہے کہ میاں نوازشریف صاحب بھی ضائع کرنے جارہے ہیں ۔ پاکستانی تاریخ میں یہ موقع پہلی مرتبہ آیا تھا کہ اپوزیشن (نون لیگ) حکومت کے خلاف فوج سے ساز باز کی بجائے سیاست سے فوج کو بے دخل کرنے کیلئے ہر طرح کی ساز باز پر تیار تھی۔ صرف تعاون نہیں کررہی تھی بلکہ ابتداء میں پیپلز پارٹی کیساتھ حکومت میں شریک بھی ہوگئی تھی لیکن میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق عمل کرنے اور بہترین حکمرانی کا نمونہ پیش کرنے کی بجائے پیپلز پارٹی کی قیادت نے روایتی سیاست اور چالبازی سے کام لینے کو ترجیح دی۔

گزشتہ انتخابات میں میاں نوازشریف حکمران بنے اور توقع تھی کہ وہ بہترین حکمرانی کے ذریعے تدریجی عمل کے ذریعے جمہور کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کرینگے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ است۔ میاں صاحب کے سامنے تین ماڈل تھے ۔جنوبی افریقہ کے نیلسن مینڈیلا کا (ماضی کو بھلا کر عام معافی اور نئے رولز آف گیمز کے تحت نئے سفر کے آغاز کا)‘ترکی کے طیب اردگان کا(بہترین طرز حکمرانی اور ڈیلیوری کے ذریعے تدریجی عمل کے ذریعے عوام کی محبتوں کو سمیٹنے اور فوج کو بتدریج سیاست سے بے دخل کرنے کا ماڈل ) یا پھر مصر کے محمد مرسی کا(راتوں رات فوج پر بالادستی اور مقتدر قوتوں سے پنجہ آزمائی کا ماڈل)۔

افسوس کہ میاں نوازشریف محمد مرسی کے راستے پر گامزن نظر آرہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور مصرکے حالات میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن اس حد تک مشابہت ضرور ہے کہ ڈیلیوری اور تدریج کی بجائے خود اعلیٰ اخلاقی معیارات پر فائز ہوئے بغیر پنجہ آزمائی کی روش یہاں بھی نظر آتی ہے ۔ پاکستان کے حالات یہاں کی عدلیہ اور میڈیا کی فعالیت کی وجہ سے بھی مصر جیسے ممالک سے مختلف سمجھے جاتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی عدلیہ اور میڈیا کی مثال عرب دنیا میں نہیں ملتی لیکن افسوس کہ عدلیہ سے بھی گزشتہ پانچ سالوں میں وہی غلطیاں سرزد ہوئیں جو سیاسی قیادت سے ہورہی ہیں ۔
 عمومی تاثر ہے کہ عدلیہ بھی اپنے آپ کو بلند اخلاقی معیار پر فائز نہ کرسکی بلکہ کئی حوالوں سے اپنی حدود سے تجاوز کی وجہ سے متنازع بھی بنی ۔ رہا میڈیا تو کچھ اسکے حوالے سے شہر کے لوگ بھی ظالم واقع ہوئے لیکن خود اسے بھی مرنے کا شوق بہت تھا۔ ہم میڈیا والے بھی آپے سے باہر ہوگئے ۔ ہم نے خبر دینے اور تجزیہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا۔ ہم میں جسکو پذیرائی ملی ‘ وہ صحافی رہنے کی بجائے جج‘ مفتی اور سیاستدان بننے کی کوشش کرنے لگا۔ ہم نے ایسی عزتیں اچھالیں کہ لوگ دل سے عزت کرنے کی بجائے میڈیا کے شر سے بچنے کی وجہ سے اسکی عزت کرنے لگے۔

دوسری طرف میڈیا کا یہ مقام مقتدر قوتوں کو راس نہیں آیا۔ چنانچہ ایسی چالیں چلائی گئیں کہ آج میڈیا پاکستان کا سب سے زیادہ متنازع ادارہ بن گیا ہے ۔ اب تو میڈیا خود اپنے پائوں پر کلہاڑا چلارہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ سلسلہ مزید کچھ عرصہ جاری رہا تو پاکستانی میڈیا خطے کا سب سے غلام میڈیا بن جائیگا۔ یوں پاکستانی جمہوریت کو ان دو اداروں کی ڈھال بھی اب اسی طرح میسر نہیں رہی جس طرح پچھلے پانچ سال میسر تھی ۔ دوسری طرف اس ملک میں آج بھی تحریک انصاف ‘ مسلم لیگ (ق) اور پاکستان عوامی تحریک جیسی سیاسی قوتیں موجود ہیں جو ہر وقت جمہوریت کے خلاف کاندھا پیش کرنے کو تیار رہتی ہیں ۔ 

صرف کاندھا پیش نہیں کرتیں بلکہ ترغیب دیتی ہیں اور فوج کو ورغلاتی ہیں کہ وہ آکر سیاست میں مداخلت کریں ۔ اب تو ماشاء اللہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی یہ کام کرنے لگا ہے ۔ اس تناظر میں اگر کوئی یہ کہے کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں تو میرے خیال میں وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ ہاں البتہ اگر کوئی یہ کہے کہ جمہوریت پر شبخون کے بعد بھی یہ ملک ایتھوپیا بننے سے بچ جائیگا تو وہ لوگ بھی کہیں اور نہیں بلکہ احمقوں ہی کی جنت میں رہتے ہیں ۔ ایک طرف طالبان ‘ دوسری طرف بلوچ عسکریت پسند ‘ تیسری طرف کراچی کے حالات ‘ چوتھی طرف بدحال معیشت ۔ مشرقی بارڈر پر ہندوستان کی بدمعاشی اور مغربی بارڈر پر افغانستان کی بدحالی۔

ایران اور عرب ممالک کی جنگ اور اس کے لئے پاکستان ہی میدان ۔ امریکہ کی سازشیں اور پاکستان پر غصہ ۔ ان سب خطرات کے ہوتے ہوئے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایک اور فوجی مداخلت کے بعد بھی یہ ملک سلامت رہ سکے گا تو اس کی سوچ پر صرف انا للہ وانا الیہ راجعون ہی کہاجاسکتا ہے ۔ اس وقت جبکہ سلامتی کے اداروں کی ذمہ داری صرف سلامتی کے معاملات تک محدود ہے ‘ حالت یہ ہے کہ کبھی عسکریت پسند جی ایچ کیو پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ‘ کبھی کامرہ بیس میں گھس جاتے ہیں اور کبھی امریکی ایبٹ آباد میں آکر آپریشن کرکے چلے جاتے ہیں لیکن اگر یہ ادارے ایک بار پھر سیاست اور دیگر معاملات کو بھی سنبھالنے لگے تو پھر کیا ہوگا؟۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو ملک کو تباہی سے بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ذاتی اور ادارہ جاتی انائوں کے خول سے نکل کر قومی سطح پر سنجیدہ مکالمے کا ہنگامی بنیادوں پر آغاز کیا جائے جس کے نتیجے میں ایک ایسے نئے سوشل کنٹریکٹ (عمرانی معاہدے) پر اتفاق کیا جائے جس میں اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کا ازسرنوتعین کیا جائے ۔یہ تجویز میں پہلے بھی دے چکا ہوں اور اس پر ماضی میں بھی خاطر خواہ تنقید اور گالیوں کا سامنا کرچکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اب پھر اس پر مجھے جمہوریت پسند حلقوں کی طرف سے اسی طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں اس تجویز کے اعادے پر مجبور ہوں کہ پاکستان میں کچھ عرصہ کے لئے (جب تک پارلیمنٹ‘ میڈیااور عدلیہ مطلوبہ پختگی کی منزل حاصل نہیں کرلیتےاور پاکستان سیکورٹی ا سٹیٹ کی پوزیشن سے نکل کر ویلفئیرا سٹیٹ کے راستے پر گامزن نہیں ہوجاتا ) فوج کو آئینی رول دے دیا جائے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس جمہوری دور میں بھی سیاست ‘ عدالت اور صحافت میں سب سے موثر رول عسکری اداروں کا ہی ہے لیکن چونکہ براہ راست کنٹرول ان کے پاس نہیں ہے اس لئے وہ ان تینوں اداروں سے ناراض بھی ہیں ۔ اب بھی پوزیشن یہ ہے کہ اصل معاملات کو وہ کنٹرول کرتے ہیں لیکن الزام سیاسی‘ عدالتی اور میڈیا کی قیادت پر آتا ہے ۔ یوں یہ بہتر ہوگا کہ فوج کو حکومت میں آئینی کردار دے دیا جائے ۔ نئے معاہدہ عمرانی کا دائرہ نئے صوبوں کی تشکیل ‘ وفاق اور مرکز کے درمیان تعلقات ‘ مذہب اور سیاست کے تعلق ‘ عدلیہ کی تشکیل نو ‘ میڈیا کے کردار اور اسی نوع کے دیگر بنیادی معاملات تک وسیع ہونا چاہئے لیکن پہلی فرصت میں کسی حادثے سے بچنے کے لئے سول ملٹری تعلقات کے معاملے کو حل کرنا ضروری ہے ۔

میرا زیرنظر کالم دھرنوں کے آغاز سے تین ماہ قبل یعنی 10 مئی 2014 کو شائع ہوا تھا اور حسب توقع میرے بعض سینئرز نے اسے پڑھ کر مجھ پر خوب تنقید کی۔ مثالیت کے شکار جمہوریت کے یہ پروانے یا پھرمیاں نوازشریف کے دیوانے کہہ رہے تھے کہ آئین اور جمہوریت کے ہوتے ہوئے سیاست اور حکومت میں فوج کے کردار کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ آج صرف چھ ماہ بعد صورت حال یہ ہے کہ خارجی اور داخلی محاذ پر اہم معاملات عملاً اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں آگئے ہیں ۔ پالیسی وہاں سے بنتی ہے اور سیاسی قیادت صرف دستخط کررہی ہے ۔ دھرنوں کے بعد سیاسی قیادت چند وزارتوں اور اپنے ظاہری ٹور پر اکتفا کرکے جان بخشی کی متمنی ہے ۔ جو ہاتھ اسٹبیلشمنٹ کے گریبان میں ڈالے گئے تھے وہ اب اس کے قدموں میں پڑے ہیں۔

شمالی وزیرستان آپریشن کے بعد تمام اہم شہروں میں پولیس کی ڈیوٹی بھی فوج کو دی گئی ۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ اب عدلیہ کا کام بھی فوج کے سپرد کردیا گیا ۔ ان حالات میں کیا یہ ضروری نہیں کہ فوج کو باقاعدہ آئینی رول دیا جائے تاکہ وہ ذمہ داری میں بھی برابر کی شریک ہوجائے ۔ مجھے یقین ہے کہ سیاسی رہنما اب بھی اس تجویز پر برہمی کا اظہار کریں گے اور جمہوریت پسند دکھنے کی کوشش میں کئی تجزیہ نگار بھی میری خبر لینا شروع کردیں گے لیکن میں اپنی یہ تجویز ایک بار پھر ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات میں فوج کا آئینی کردار ضروری نہیں بلکہ ناگزیر ہوچکا ہے اور یہ تشویش بھی ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا اور معاملات اسی ڈگر چلتے رہے تو ہمیں ایک نئے اور شاید خونی مارشل لا کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔

سلیم صافی

"بشکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.