Header Ads

Breaking News
recent

خالد سومرو کی شہادت....


جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو 29 نومبر2014ء فجر کی سنتوں میں بحالت سجدہ شہید کردیے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔


صوبہ سندھ کے بزرگ عالم دین اور ناموراستاذ الاساتذہ حضرت مولانا علی محمد حقانیؒ، بانی جامعہ اشاعۃ القرآن والحدیث لاڑکانہ کے صاحبزادوں میں ایک صاحبزادہ کا نام خالد محمود تھا۔خالد محمود صاحب نے دینی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی اور پھر اسکول و کالج کی تعلیم کی راہ پر چلے اور بڑھتے چلے گئے۔

چانڈ کا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے ایم بی بی ایس کیا۔ آج اس مادی دور میں کیا یہ باور کرانا ممکن ہے کہ جب دنیا ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کو ترستی ہے ۔ آپ نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کرنے کے باوجود دینی وتبلیغی خدمات کا راستہ اختیار کیا اور پھر دنیا کے ڈاکٹروں کو کیا عزت حاصل ہوگی جو دنیا پر دین کو مقدم کرنے کے صدقہ میں اللہ رب العزت نے ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو نصیب فرمائی۔
ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے میدان خطابت میں قدم رکھا تو اپنے انداز خطابت کے بانی کہلائے، پہلے لاڑکانہ پھر سکھر ڈویژن، پھر اندرون سندھ پھر پورے سندھ پھر پاکستان پھر دنیا میں اپنی خطابت کے بلند و بالا جھنڈے گاڑ دیے۔جہاں جاتے، اپنے اندازِ خطابت سے لوگوں کے دلوں میں مقام پیدا کرلیتے۔ آپ کو قدرت نے ایسی خوبیوں سے نوازا تھا کہ آپ بجا طور پر ہردلعزیز شخصیت بن گئے۔

جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاسی کام کا آغاز کیا۔پیر طریقت حضرت مولانا عبدالکریم بیر شریف، مولانا شاہ محمد امروٹی اور حضرت مولانا سائیں محمد اسعد محمود ہالیجوی ، حضرت مولانا سائیں عبدالغفور قاسمی کی قیادت میں بڑھتے چلے گئے۔ پھر یہ وقت بھی آیا کہ کراچی سے اوباڑہ اور مٹھی سے لے کر سبی تک جمعیۃ علماء اسلام کا دوسرا نام ڈاکٹر خالد محمود سومرو تھا۔ ڈاکٹر خالد محمود صاحب جمعیۃ علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل بنے اور پھر قریباً ربع صدی تک بغیر وقفہ کے سندھ جمعیۃ کے سیکریٹری جنرل رہے۔
تمام خانقاہوں، مساجد، مدارس کا آپ کو اعتماد حاصل تھا۔آپ کا اصلاحی تعلق حضرت مولانا عبدالکریم قریشی بیرشریف سے تھا۔انھوں نے خلافت سے بھی سرفرازفرمایا۔حضرت بیر والوں کی وفات کے بعد آپ نے اصلاحی تعلق خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد سے استوار کیا۔اتنا فعال و متحرک عالم دین بہت کم لوگوں نے دیکھا ہوگا ، اکثر اوقات چار پانچ جلسوں میں خطاب اور وہ بھی تفصیلی اور آخری تو معمول تھا۔ ہنگامی حالت میں یہ تعداد یومیہ دس دس جلسوں کے بیان تک پہنچتی تھی۔اتنے مقدر کے بادشاہ تھے کہ جس میدان میں قدم رکھتے تو بس چھا ہی جاتے تھے۔ بلامبالغہ آپ نے سندھ میں جمعیۃ علماء اسلام کو اپنی شبانہ روز محنت سے فعال طاقت بنا دیا تھا۔آپ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقابلہ میں پانچ بار قومی اسمبلی کا لاڑکانہ سے الیکشن لڑا ، دھن کے اتنے پکے تھے کہ کامیاب نہ ہوسکنے کے باوجود میدان کو خالی نہ کبھی چھوڑا اور نہ شکست تسلیم کی۔ برابر برسر میدان رہے۔

فتح و شکست تو مقدر ازل سے ہے اے میر
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

ڈاکٹر خالد محمود سومرو ایم آرڈی کی تحریک میں گرفتار ہوئے تو آپ نے جیل میں مولانا غلام قادر پونر سے حدیث شریف اور دیگر علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ بجا طور پر آپ دینی و دنیاوی اعلیٰ تعلیم کے حامل اور منتظم مزاج شخصیت تھے۔ حق تعالیٰ کے کرم کو دیکھیں۔ برصغیر پاک و ہند عرب امارات، برطانیہ اور افریقہ تک آپ نے فریضہ تبلیغ ادا کیا۔

ایک بار حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے توجہ دلانے پر حضرت مولانا عبدالکریم صاحب بیر شریف والوں نے ایک ہفتہ کا اندرون سندھ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ختم نبوت کانفرنسوں کا پروگرام ترتیب دیا۔ اس کے لیے عالمی مجلس کے مبلغین کے پروگرام مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے ترتیب دے کر شب و روز ان کی کامیابی کے لیے متحرک کیا۔ ادھر جمعیۃ علماء اسلام کے تمام رفقاء کو جگہ جگہ ہر قریہ و شہر میں فعال کردیا۔ سکھر سے لے کر مٹھی اور جیکب آباد و شکارپور سے لے کر ٹھٹھہ تک پروگرام ہوئے۔

مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا جمال اللہ الحسینی اور فقیر راقم پر مشتمل قافلہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی قیادت میں چلا اور ایک ہفتہ میں یومیہ چار پانچ شہروں میں کنونشنوں، جلسوں اور کانفرنسوں سے اندرون سندھ ماحول قائم ہوا کہ درودیوار ختم نبوت کی فلک شگاف صداؤں سے گونج اٹھے۔ ان پروگراموں کی کامیابی کا سہرا محترم ڈاکٹر خالد محمود صاحب کے سر پر ہے، جو یقینا آپ کے لیے ذخیرہ آخرت ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے آپ مرکزی ناظم انتخاب بنے تو اس عہدہ کی لاج رکھی۔ جمعیۃ علماء اسلام کی صد سالہ خدمات علماء دیوبند کانفرنس پشاور کو آپ صف اول میں میدان میں رہ کر کامیاب کرانے میں شریک رہے۔

اسلام زندہ باد کانفرنس سکھر و کراچی کی کامیابی آپ کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے مدارس عربیہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے صدا بلند کی تو پورے سندھ کو اسی تحریک میں صف اول میں لاکھڑا کیا۔والد گرامی کے قائم کردہ مدرسہ کی تعمیر نو سے اسے فلک بوس بلڈنگ میں بدل دیا۔ اس کی تعلیم کے درجات کو دورہ حدیث شریف تک کامیابی سے سرفراز کیا۔ آپ کا خطاب جمعہ صرف لاڑکانہ میں نہیں پورے ملک کے کامیاب خطباء کے جمعہ میں صف اول میں نظر آتا تھا۔لائبریری اور جامع مسجد کی شاندار ومثالی تعمیر کو دیکھیں تو طبیعت عش عش کر اٹھتی ہے۔ایک بار آپ سینیٹ آف پاکستان کے ممبر بنے تو اپنی خداداد صلاحیتوں سے پاکستان کی صف اول کی قیادت میں نمایاں مقام کے حامل قرار پائے۔ آپ کی للکار حق سے اقتدار کے ایوانوں میں ارتعاش کا سماں پیدا ہوجاتا تھا۔

مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب کے ساتھ برطانیہ، بھارت اور سندھ کے کئی عشروں پر محیط سفروں میں راقم ان کے ساتھ رہا، بلا مبالغہ وہ ایک عظیم انسان اور عظیم دوست تھے۔دیوبند میں خدمات شیخ الہند کانفرنس کے موقعہ پر سرزمین دیوبند کے باسیوں نے جس طرح آپ سے محبت کی اس کی یادوں سے ابھی تک دل و دماغ سرشار ہیں۔28نومبر کو سکھر قاسم پارک میں پیام امن اور استحکام پاکستان کانفرنس میں آپ کا آخری بیان رات ایک بجے ختم ہوا۔سکھر کے گلشن اقبال پارک میں اپنے والد گرامی کی یاد میں جامعہ حقانیہ کے نام سے ادارہ تعمیر کروا رہے تھے۔

بقیہ رات وہاں گذاری صبح نور کے تڑکے مسجد میں جلدی آگئے۔ باڈی گارڈ، رفقاء کے آنے سے قبل ہی مسجد میں آئے، سنتیں ادا کر رہے تھے کہ سجدہ کی حالت میں ڈبل کیبن گاڑی سے آنے والے قاتلوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور ڈاکٹر صاحب حالت سجدہ میں ’’شہادت عظمیٰ‘‘ کے مقام پر فائز ہوگئے۔امن کے داعی، استحکام پاکستان کے مبلغ و مناد کیا گئے کہ اب امن و استحکام بھی نوحہ کناں ہوگئے۔ بعض قوتیں اب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کو راستے سے ہٹانے کے درپے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن صاحب ناکام قاتلانہ حملہ سے لے کر ڈاکٹر خالد محمود سومرو پر کامیاب قاتلانہ حملہ تک کی سازشی کڑیوں کو ملایا جائے تو کُھرا جن قاتلوں تک جائے گا ، اُن لوگوں سے مقابلہ کی حکومت تاب رکھتی ہے ، اس سوچ کی دعوت کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔

مولانا اللہ وسایا

 

No comments:

Powered by Blogger.