Header Ads

Breaking News
recent

اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو....اوریا مقبول جان


عالمِ بالا میں آج اقبال کس قدر سکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ وہ2014ء میں پاکستان میں موجود نہیں تھے۔ ورنہ ان کی اس نظم پر ان پر امنِ عامہ خراب کرنے، لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے اور منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کے تحت دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہوتا۔
وزراء پریس کانفرنسیں کر تے۔ تجزیہ نگار اور اینکرپرسن رات گئے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بیٹھے تبصرے کرتے، اس ملک میں جو غم و غصہ ہے، نفرت ہے، حکومت کے خلاف جو ہنگامے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے یہ نظم لکھ کر لوگوں کو اکسایا ہے۔ ایف ائی آر میں یہ اشعار تو خاص طور پر درج کیے جاتے ۔

اٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

دنیا بھر کا مزا حمتی ادب اسی غم و غصے سے بھرا ہوا ہے اور یہ وہ ادب ہے جو دنیا بھر میں تبدیلی اور انقلاب کا راستہ متعین کرتا ہے۔ دنیا کا ہر شعلہ بیان مقرر اسی لہجے میں گفتگو کرتا ہے جو لہجہ لوگوں کے دلوں کی آواز ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کی زندگی عیش و آرام اور سکون و اطمینان سے گزر رہی ہو تو انھیں دھیمے لہجے اور ہنس مکھ باتیں کرنے والے پسند آتے ہیں۔ لیکن اگر لوگوں کے دلوں میں اپنی محرومیوں کی وجہ سے نفرتوں کے طوفان ابل رہے ہوں تو پھر وہی مقر ر زیادہ مقبول ہوتا ہے ۔

جس کا لہجہ تلخ اور زورِ بیان شعلے اگل رہا ہو۔ وہی تقریر اور شاعری عوامی پذیرائی حاصل کرتی ہے جو لوگوں کے جذبات کی عکاس ہو۔ صاحبانِ اقتدار ایسے شاعر اور ایسے مقرر سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور اسی کو اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں، جس کے لہجے کی گونج لوگوں کو اپنی آواز محسوس ہو اور جو ان کی نفرتوں کو اپنے شعروں اور تقریر کے لہجے میں سمو دے۔ میر تقی میر سے لے کر آج کے دور تک شاعری کے محاسن اور شعری تنوع کے لحاظ سے اگر اُردو شاعری کی تاریخ مرتب کی جائے تو نقاّد اور شعری ذوق رکھنے والے حبیب جالب کا ذکر تک نہیں کرتے، لیکن جالب کی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ وہ عام انسانوں کا مقبول ترین شاعر ہے۔ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں یہ اشعار پڑھتا تو لوگ جھوم اٹھتے۔

کھیت وڈیروں سے لے لو۔ ملیں لیٹروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو۔ رہے نہ کوئی عالی جاہ
پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہٰ الا اللہ

جالب تو خود ایک سیاسی جدوجہد کا نقیب بھی تھا۔ ایوب خان کے خلاف مادرِ ملت کا پرچم بردار ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نے جانتا‘‘ گاتا ہوا۔ ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری آمریت کے تشدد کے خلاف ’’لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو‘‘ پڑھتا ہوا، اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سامنے ’’ظلمت کو ضیاء کیا کہنا‘‘ لہک لہک کر گاتا ہوا۔ اس کے دور میں کئی شاعر ادیب زندہ تھے اور خوبصورت شاعری بھی کرتے تھے، لیکن جیل کی سلاخیں اور پولیس کی لاٹھیاں صرف اور صرف حبیب جالب کا مقدر بنیں۔ اس لیے کہ حکمران طبقوں کو خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کون سی آواز ان کے لیے خطرہ ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی1970ء کی کسان کانفرنس میں عبدالحمید بھاشانی کی صدارت میں جب فیض احمد فیض نے یہ اشعار پڑھے تو حکومت کے ایوانوں میں ہنگامہ صرف انھی اشعار پر برپا ہوا۔ حکمرانوں کا غصہ کسی دوسرے مقرر کی تقریر پر 
نہ نکلا بلکہ فیض احمد فیض مطعون ٹھہرے

ہر اک اوللامر کو صدا دو۔ کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اٹھے گا جب جامِ سرفروشاں۔ پڑیں گے دار و رسن کے لالے
کوئی نہیں ہو گا کہ جو بچالے، جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی
یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر، یہیں پہ روزِ حساب ہو گا
اور پھر اس شعر نے تو وہاں آگ لگا دی۔ لوگوں کے دلوں میں یہ شعر ایسا سمایا کہ اس کے بعد آنے والے سالوں میں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا۔
اے خاکِ نشینوں اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

سارے حکمران ایک کمزور سے شاعر یا ایک عام سے مقرر سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں؟ کیا ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والا، بے سر و سامان شاعر لاکھوں لوگوں کو آگ لگانے، جلانے، گھیراؤ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ کیا ایک شعلہ بیان مقرر لوگوں کو کسی ہنگامہ آرائی پر اُکسا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جو آج تک کسی صاحبِ اقتدار کی عقل میں نہیں آیا۔ لوگوں کو اگر کسی اسپتال سے فائدہ پہنچتا ہو، بیماروں کو وہاں سے شفا میسر ہو تو وہ اسے آگ نہیں لگائیں گے، بلکہ آگ لگانے والوں کو بھی روکیں گے۔ جس تھانے، کچہری اور سرکاری دفتر سے لوگ روز دھتکار ے جاتے ہوں، انھیں دھکے اور ٹھڈے پڑتے ہوں۔

جہاں ٹاؤٹ اور رشوت خور ان کی جیبوں سے جمع پونجی تک نکال لیتے ہوں۔ تو ایسے میں ان لوگوں کے دلوں میں ایک ہی خواہش آگ بن کر کھول رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس دفتر کو آگ لگا دے جہاں روز میرے جیسے عام آدمی کی تذلیل ہوتی ہے۔ اس کی نفرت جب کسی شاعر کی زبان میں ڈھلتی ہے یا کسی مقرر کے لہجے میں گونجتی ہے تو پھر اس جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں بھوکے، ننگے اور اس ظالمانہ نظام تلے کچلے ہوئے لوگ ایک ایسا ہجوم بن جاتے ہیں۔

ایسا ہجوم جس نے تاریخ میں ایسے ایسے طوفان اٹھائے ہیں کہ لکھتے ہوئے قلم کانپ اٹھتا ہے۔ کیا صرف روسو اور والٹیئر کی تحریروں نے وہاں لاکھوں لوگوں کے گلے کٹوائے تھے؟ ہرگزنہیں! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور بے روزگاری نے لوگوں کے ہاتھ میں وہ تیز دھار چھرے پکڑا دیے تھے جن کو چلانے والے ہاتھ غصے اور نفرت سے ابل رہے تھے۔ شاعر اور ادیب لوگ تو بس ان جذبوں کی زبان بن جایا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو صرف انھی کی زبانیں خاموش کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ یہی تصور کر لیتے ہیں کہ اگر یہ زبان خاموش ہو گئی تو سب جگہ چین ہو جائے گا۔

گزشتہ دنوں فیروز پور روڈ لاہور کی ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ایک اخباری اشتہا ر نے مجھے چونکا دیا۔ شیخ رشید کے’’ نکلو، مرو، مارو، جلاؤ گھیراؤ‘‘ کے الفاظ کے جواب میں چھپا تھا، پاکستان کے تاجر، صنعت کار، پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سیہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے‘‘ کاش یہ سب عالیٰ دماغ لوگ تاریخ پڑھ لیتے یا پھر وقت کی نبض ہی دیکھ لیتے۔ کیا کبھی تاریخ میں ستائے ہوئے عوام کے سامنے ستانے والوں کا اتحاد بھی کامیاب ہوا ہے۔ لوگوں کے ہجوم کے سامنے یہ سب خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں تاجر، صنعت کا ر یا سرمایہ دار طبقات ہمیشہ ریاست کی طاقت اور پالتو غنڈوں کے ذریعے اپنی لوٹ مار سے بنائی ہوئی دولت کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔

لوگ اس اسپتال، اسکول، سرکاری دفتر، مل اور کارخانے کی حفاظت کرتے ہیں جو ان کے دکھوں کا مداوا ہو، جہاں ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور جو انھیں زندگی کی سہولیات مہیا کرتا ہو۔ ماہرینِ عمرانیات کہتے ہیں کہ ریاست سے محبت اس کے روّیے سے پیدا ہوتی ہے۔ تین اہم کام ہیں جو ریاست کرے تو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔
بیروز گار ہوں تو روز گار فراہم کرے، ظلم ہو تو انصاف فراہم کرے اور بیمار ہوں تو علاج کروائے ۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ بے روز گار ہوں اور اگر گھر والے مدد کو موجود نہ ہوں تو آپ خودکشی کر سکتے ہیں، آپ کا رشتے دار قتل ہو جائے تو تھانے میں الٹا آپ پر کیس بن جا تا ہے، چار بھائی ہوں تو بدلہ لے لیں گے، آپ بیمار ہوں تو گھر والوں کے پاس علاج کے پیسے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ اپنے پیاروں کی لاش اسپتال سے لائیں گے۔

ایسے میں لوگوں کی محبتیں ریاست کے بجائے گھر کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ مصیبت میں آپ کے کام گھر آتا ہے حکومت نہیں۔ ایسے میں لوگ مین ہول کا ڈھکن، اسٹریٹ لائٹ کا لیمپ یا دفتر کی اسٹیشنری چرا کر گھر لاتے ہیں کہ کل اس گھر نے ہی تو ان کا ساتھ دینا ہے دوسری جانب حکومت و ریاست کا ہر ادارہ لوگوں کی نفرت، غصے اور ہیجان کا نشانہ بن جاتا ہے۔

اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.