Header Ads

Breaking News
recent

انسانی ساختہ آفات اور بھوک کا سبب کیا ہے؟........


جدید دنیا کی ترقی اور خوشحالی کے ترانے تو بہت گائے جاتے ہیں مگر اس دنیا کا معاشی عدم توازن دل دہلا دینے والا ہے۔
دنیا کے وسائل کا 80 فیصد صرف 20 فیصد آبادی کے پاس ہے، اور دنیا کی 80 فیصد آبادی صرف 20 فیصد وسائل پر قناعت کررہی ہے۔
اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب ہے اور اسی 7 ارب آبادی میں ایک ارب 34 کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی سوا ڈالر سے کم ہے۔ مزید ڈھائی سے تین ارب لوگ ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی انہیں ایک گھٹی ہوئی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
بھوک اور زراعت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سن 2012 میں 87 کروڑ افراد بھوک یا انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔ ان میں سے 85 کروڑ افراد کا تعلق ترقی پذیر دنیا سے تھا۔
لیکن ’’ترقی یافتہ‘‘ کہلانے والی دنیا میں بھی ایک کروڑ 60 لاکھ افراد بھوک زدہ یا فاقہ زدہ تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھوک زدہ افراد کی تعداد گھٹ نہیں رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ مثلاً 2006ء میں ترقی یافتہ دنیا میں صرف ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ فاقہ زدہ تھے، مگر 2012ء میں ان کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 60 لاکھ ہوگئی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی اس غربت اور بھوک کا سبب کیا ہے؟ مغرب کے ماہرین خود کہہ رہے ہیں کہ اس صورت حال کا بنیادی سبب دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام ہیں، جنگیں ہیں، علاقائی تنازعات اور موسمیاتی تغیرات ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں مغرب کی عقل پرستی اور اس کی استعماری روش نے پیدا کی ہیں اور یہ تمام آفات انسانی ساختہ ہیں

شاہنواز فاروقی

No comments:

Powered by Blogger.