Header Ads

Breaking News
recent

نیزے پہ بھی سر اپنا سرفراز رہے گا.......


یہ کیسی بہادری ہے؟ ان لوگوں کی بہادری بندوق کی نالی کے پیچھے ایک آنکھ بند کر کے ٹریگر دبانے کا انتظار کرتی ہے۔ بندوق کی گولیوں میں موجود بارود کے بل بوتے پر یہ بہادر لوگ کسی بھی نہتے انسان کو غدار قرار دے ڈالتے ہیں، کافر قرار دے ڈالتے ہیں لیکن جب ان کے ہاتھ میں بندوق نہ ہو تو پھر یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ بھگوڑے بن جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچائی بندوق سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور سچ بولنے والوں کو اپنی بات منوانے کیلئے بندوق کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی بندوقوں والے سچے لوگوں کو خاموش کروا سکتے ہیں ظفر آہیر بھی وطن عزیز کے ان نہتے اور مظلوم صحافیوں میں سے ایک ہے جنہیں بندوق کی نالی کے پیچھے چھپ کر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں غدار اور غیر ملکی ایجنٹ کہا گیا لیکن ظفر آہیر صرف پاکستان کے اہل صحافت کا نہیں بلکہ عام لوگوں کا ہیرو بن کر سامنے آیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ظفر آہیر پر حملہ کس نے کیا لیکن حکومت حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

سب جانتے ہیں کہ جیو ٹی وی، جنگ گروپ اور ان اداروں سے وابستہ صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ کون ہے لیکن عدالتیں کہتی ہیں کہ ثبوت لیکر آئو۔ جب اعلیٰ عدالتیں حکم دیتی ہیں کہ جیو ٹی وی کی بندش غیر قانونی ہے اور جیو ٹی وی کو بحال کیا جائے تو ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا کیونکہ کیبل آپریٹروں کو بھی بندوق کی نالی کے پیچھے بیٹھی وحشت و درندگی سے خطرہ لاحق ہے ۔ پچھلے کچھ ہفتوں کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت اسی کے پاس ہے جس کے پاس بندوق ہے ۔ آئین و قانون صرف کمزور لوگوں کیلئے ہے۔ حکومت بے بس ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا ۔ حکومت آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات سے گریز کر رہی ہے۔

حکومت کا سارا زور لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کی ملاقات کی مذمت پر ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے کوئی لاکھ اختلاف کرے لیکن پاکستان آکر سیاست کرنا ان کا حق ہے ۔ حکومت ڈاکٹر طاہر القادری پر غصہ نکالنا چھوڑے اور ہمیں یہ بتائے کہ روزنامہ جنگ ملتان کے ایڈیٹر ظفر آہیر پر حملہ کرنے والے ریاست سے زیادہ طاقتور کیوں ہیں ؟ لاہور، راولپنڈی اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں جنگ کی گاڑیوں پر حملہ کرنے والوں کا سراغ کیوں نہیں لگایا جاتا ؟ کچھ وفاقی وزراء کہتے ہیں کہ صورتحال بڑی نازک ہے، ان کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیجئے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ’’ان‘‘ کا غصہ پاکستان کے آئین اور قانون سے زیادہ بڑا ہے ؟ اگر ’’ان‘‘ کا غصہ ہی پاکستان کا اصل آئین و قانون اور پاکستان کا اصلی قومی مفاد ہے تو پھر یہ غصہ ہمیں 1971ء میں کیوں نظر نہ آیا ؟ اس وقت تو بڑی سعادت مندی سے دشمن کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے گئے تھے ۔

میں طنز اور طعنوں کے ذریعہ کسی کو نیچا نہیں دکھانا چاہتا لیکن جن لوگوں نے ظفر آہیر کو بندوقوں کے بٹ مارتے ہوئے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیا ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بتائو1971ء میں کوئی جیو ٹی وی موجود تھا ؟ تاریخ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ 1971ء میں مغربی پاکستان کے اخبارات بشمول روزنامہ جنگ وہی کچھ لکھتے تھے جو ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کی حکومت انہیں بتایا کرتی تھی۔ سوائے ایک دو اخبارات کے چند صحافیوں کے کسی نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت نہ کی۔ پھر بھارت کے سامنے تاریخ کا اتنا بڑا سرنڈر کیوں کیا گیا ؟ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فوج کے بعض افسران اور جوانوں نے بڑی بہادری دکھائی لیکن جب راولپنڈی کے حکم پر سرنڈر کیا جا رہا تھا تو اس وقت خون کے آخری قطر ے اور آخری گولی تک لڑنے کے وعدے کہاں گئے تھے؟کیا ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ یہ پوچھیں کہ آپ کا سارا غصہ اور ساری حب الوطنی صرف اپنوں پر انگارے بنکر کیوں ٹوٹتی ہے ؟ 1971ءمیں تو جیو ٹی وی نہیں تھا پھر پاکستان کس نے توڑ دیا ؟ 1984ءمیں بھی جیو ٹی وی نہیں تھا پھر سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کیسے ہو گیا ؟ 1999ء میں بھی جیوٹی وی نہیں تھا پھر کارگل سے پسپائی کیوں ہوئی ؟ جیو ٹی وی 2002ء میں آیا اور جیو ٹی وی پر ہم جیسے صحافیوں نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی حکومت سے یہ پوچھنا شروع کیا کہ پاکستان کے فوجی اڈے غیر ملکی طاقتوں کو کس سے پوچھ کر دیئے گئے ؟ جیوٹی وی پر ہم جیسے صحافیوں نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ پاکستان کے فوجی اڈوں سے اڑنے والے ڈرون طیارے پاکستان میں کس کی اجازت سے حملے کر رہے ہیں ؟

جیو ٹی وی پر بیٹھے صحافیوں اور دوسرے چینلز نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ مشرف حکومت اور اسرائیل کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کے کیا مقاصد ہیں ؟ جیو ٹی وی پر بیٹھے اینکرز اورمہمانوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ مشرف حکومت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرکے بھارت کے ساتھ کیا سودے بازی کر رہی ہے ؟ جب یہ سوالات اٹھائے گئے تو پہلے مجھے غدار کہا گیا پھر جیو کو بھارت اور اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ جیو کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینے والے اپنے پیرومرشد سید پرویز مشرف کی کتاب پڑھ لیں ۔ اس کتاب میں موصوف نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ شکر ہے کہ ابھی تک یہ جرات کسی سیاست دان یا صحافی سے سرزد نہیں ہوئی ورنہ ابھی تک بندوق کی نالی کے پیچھے چھپی حب الوطنی اور دینی غیرت اپنا کام دکھا چکی ہوتی ۔

زیادہ تفصیل میں نہیں جائوں گا ۔ مختصر یہ کہ آج کل آپ کو پاکستان میں جو بحران نظر آ رہا ہے اس بحران نے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔ بندوقوں والے بھارت و اسرائیل کے منظور نظر پرویز مشرف کو ہر صورت غداری کے مقدمے سے بچانا چاہتے ہیں ۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ سیاست و صحافت میں جو لوگ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہ چلانے کا مشورہ دے رہے تھے ان کی اصلیت سامنے آ چکی ہے ۔ ان میں سے اکثر سیاست دان، دانشور اور نام نہاد صحافی آج کل جیو ٹی وی کو غدار قرار دیکر اپنے اصلی آقائوں کو خوش کر رہے ہیں ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ۔ عوام کے سامنے سب کے چہروں سے نقاب اتر چکا۔ جن لوگوں نے 1971ء میں بنگالیوں کو غدار قرار دیکر انہیں گولیاں ماریں آج ہمارے پیچھے پڑے ہیں ۔ جن لوگوں نے بلوچوں کو غدار قرار دیکر انہیں لاپتہ کیا اور انکی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکیں آج جیو ٹی وی کو لاپتہ کرکے قتل کرنا چاہتے ہیں اور کچھ بھاڑے کے ٹٹو قلم فروش غداری کا ڈھول پیٹنے والوں کے آگے آگے بڑی بے شرمی کے ساتھ ناچ رہے ہیں ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قلم فروشوں اور ضمیر فروشوں کی اس چھوٹی سی ٹولی کو پاکستان کے اہل سیاست و صحافت کی بڑی اکثریت نے مسترد کر دیا ہے اور ان سے پوچھ رہی ہے کہ تمہاری قومی غیرت اور حب الوطنی اس وقت کہاں تھی جب ایک شب امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر ایبٹ آباد آئے اور ایک آپریشن میں تمہاری سب پھرتیوں اور چالاکیوں کو کفن میں لپیٹ کر افغانستان لے گئے ؟ اللہ کرے پاکستان کو جلد از جلد مشرف کی باقیات سے نجات ملے اور ہماری فوج ایک دفعہ پھر میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شریف شہید جیسے بہادروں کے کردار کا نمونہ بن جائے جو ظفر آہیر جیسے نہتے ہم وطنوں کیخلاف نہیں بلکہ طاقتور دشمن کے خلاف جنگ کرتے تھے ۔آخر میں ظفر آہیر پر حملہ کرنے والے مکاروں کے نام فیض احمد فیض کا یہ پیغام عرض ہے ۔

تاحشر زمانہ تمہیں مکار کہے گا

تم عہد شکن ہو، تمہیں غدار کہے گا

جو صاحب دل ہے، ہمیں ابرار کہے گا

جو بندہ حر ہے ،ہمیں احرار کہے گا

نام اونچا زمانے میں ہر انداز رہے گا

نیزے پہ بھی سر اپنا سرفراز رہے گا


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.