Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

گرین لینڈ کی مختصر تاریخ


گرین لینڈ میں انسانی آبادکاری تقریباً 2500 قبل مسیح میں ہوئی جب آرکٹک خطے کے قدیم انویٹ (Eskimo) قبائل یہاں آباد ہوئے تھے۔ اس کے بعد وائکنگ دور میں تقریباً 982 عیسوی میں نارویجین وائکنگ ایرک دی ریڈ نے گرین لینڈ دریافت کیا اور یورپی آبادکاری کی بنیاد رکھی۔ 1261 میں گرین لینڈ نے باضابطہ طور پر ناروے کی بادشاہت کی اطاعت قبول کی اور نارویجین سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اسی طرح 1380 میں ناروے اور ڈنمارک کے اتحاد کے بعد گرین لینڈ عملی طور پر ڈنمارک کے کنٹرول میں آ گیا۔ نوآبادیاتی دور یعنی 1721 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ میں دوبارہ باضابطہ نوآبادی قائم کی اور مسیحی مشنری سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ 1941 سے 1945 تک دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کے ڈنمارک پر قبضے کے بعد امریکا نے یہاں جڑیں مضبوط کیں۔ 

امریکا نے پہلی مرتبہ گرین لینڈ میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے اور دفاعی کنٹرول سنبھالنے کا موقع مل گیا البتہ خودمختاری ڈنمارک کے پاس ہی رہی تھی۔ 1953 میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کی نوآبادی کے بجائے ڈنمارک کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا اور 1979 میں داخلی خودمختاری حاصل ہوئی۔ البتہ یہ خود مختاری بتدریج ملتی رہی تھی اور 2009 میں جاکر گرین لینڈ کو وسیع خودمختاری ملی جب دفاع اور خارجہ امور کے سوا زیادہ تر اختیارات مقامی حکومت کے پاس آ گئے۔ آج کا گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو اب بھی ڈنمارک کی بادشاہت کا حصہ ہے لیکن داخلی طور پر خودمختار مگر دفاع اور خارجہ امور میں ڈنمارک پر انحصار کرتا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز


Post a Comment

0 Comments