Header Ads

Breaking News
recent

ملازم کو نوکری سے نکالنے پر گوگل کے خلاف بینر لگ گئے

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک انجنیئر کو ملازمت سے فارغ کیے پر کمپنی کے سربراہ خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں احتجاجی بینر لگ گئے۔ خیال رہے کہ گوگل کے چیف ایگزیٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے نوجوان انجنیئر جیمز ڈیمور کو کمپنی میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر تنقید کرنے پر گزشتہ ہفتے 8 اگست کو ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ سندر پچائی نے ملازم کو ایمیل کے ذریعے نوکری سے فارغ ہونے کی اطلاع دی۔
انجنیئر جیمز ڈیمور نے گوگل میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر کمپنی کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 300 الفاظ پر مشتمل اپنے مضمون میں کہا تھا کہ خواتین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اتنی ماہر نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی تعداد نہ بڑھائی جائے۔ ملازم کی جانب سے جنسی تعصب پر مبنی تجویز سامنے آنے کے بعد گوگل کے سی ای او نے جیمز ڈیمور کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا، جس پر سب سے پہلے ملازم نے خود اور اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے احتجاج شروع کیا، لیکن اب یہ احتجاج مختلف شہروں میں آویزاں کیے گئے بینرز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد جیمیز ڈیمور نے گوگل کے ہیڈ آفیس کے باہر 11 اگست کو بینر اٹھا کر احتجاج کیا۔ ملازم کی جانب سے احتجاج کیے جانے کے بعد لاس اینجلس سمیت امریکا کے مختلف شہروں میں گوگل کے بھارتی نژاد سی ای او سندر پچائی کے خلاف احتجاجی بینر لگ گئے۔ بینرز میں سندر پچائی اور ایپل کے سی ای او کا موازنہ کیا گیا، جب کہ کچھ بینرز صرف گوگل کمپنی کے خلاف لگائے گئے۔ گوگل کے خلاف احتجاجی بینر لگائے جانے کے ساتھ کچھ مقامات پر گوگل کے دفاتر کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر کے سڑک کنارے بینر آویزاں کیے گئے۔ لاس اینجلس کی ایک خاتون نے وینیس علاقے کی تصاویر ٹوئیٹ کیں، جن میں بتایا گیا کہ گوگل کے دفتر جانے والے راستے کو بند کردیا گیا۔
 

No comments:

Powered by Blogger.